یہ ملک مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، 27 ویں آئینی ترمیم ہوئی تو پھر پاکستان کی فاتحہ پڑھ لو یہ نہیں چلے گا، محمود خان اچکزئی
اسلام آباد / کوئٹہ (آن لائن) 27ویں آئینی ترمیم ہوئی تو پھر پاکستان کی فاتحہ پڑھ لو یہ نہیں چلے گا، ملک کا سب سے پاپولر لیڈر عمران خان جیل میں ہے اور آپ اس پارلیمنٹ میں ترامیم کرارہے ہیں، نوازشریف صاحب اپنے دوستوں کو بُلائیں اورپانچ نکات دیں، آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ طاقت کا کوسرچشمہ بنانے، قوموں کے حقوق، ہمسایوں کے ساتھ روئیے، اقوام وعوام کے وسائل پر اختیارکے بارے میں ان کی کیا رائے ہیں۔ شہباز شریف اینڈ کمپنی نے آئین کو مکمل طور پر منسوخ کیا، شہباز بہت عرصے تک اپنے بھائی کے برخلاف اس کام میں لگا ہوا تھا اور آخر کار وہ یہ کام کرکے دکھا چکے۔ پاکستان دولخت ہونے کے بعد بڑی مشکلوں سے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں خان عبدالولی خان، مفتی محمود ،شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور اور دیگر لوگوں کی موجودگی میں 1973کا آئین تشکیل دیا۔ اگر چہ اس آئین میں بھی خامیاں تھیں لیکن آج اس آئین کا ہم نے حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ فوج اور انٹیلی جنس اداروں کا سیاست میں مداخلت نہیں ہونا چاہیے۔ کسی بھی ادارے فوج، جوڈیشری یا سول اداروں میں کسی بھی آدمی کو ایکسٹینشن نہیں دینی چاہیے۔ ترقی سنیارٹی کی بنیادوں پر دینی چاہیے۔ یہ ملک مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہم نے تمام ہمسایوں کے ساتھ جیو اور جینے دو کی پالیسی پر گزارہ کرنا ہوگا۔ 75سال بعد بھی لوگوں کو اپنی مادری زبانوں میں بات نہیں کرنے دیا جارہا۔ شہباز شریف کو مشر ف نے 2 بار کہا ہے کہ نوازشریف نہیں شہباز شریف آپ کو وزیر اعظم بنائینگے۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قانون یہی ہے کہ اکثریت اراکین حزب اختلاف کو اگر لکھ کے دے دیں تو اپنا قائد حزب اختلاف لاسکتی ہے لیکن یہاں اس ملک میں سب کو پتہ ہے کہ کیا کچھ ہورہا ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم آپ سب لوگ دیکھ رہے ہیں یہاں ممکن کو ناممکن بنایاجاسکتا ہے اور ہر ناممکن کو ممکن۔ ہر آئینی بات غیر آئینی بات بن کے بھی رہتی ہے۔ تو اس ملک میں حزب اختلاف کی کیا حیثیت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے یہ باہمی رضا مندی سے بنائے گئے آئین کے تحت چل سکتا ہے۔ اگر اس طرح نہیں چلائینگے تو ھچکولے کھائے گا۔ صحیح طرح سے نہیں چل پائے گا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جب سے یہ ملک بنا ہے یہاں آئین کو بننے نہیں دیا گیا۔ آج بھی آئین کے نام سے اتنا چڑہے جس طرح لاحولہ والا قوة الا بلا سے شیطان کو ہے۔ بغیر آئین کے کیسے ملک چلے گا۔ بغیر طور طریقوں کے بغیر اصولوں کے تو ایک گھر نہیں چلایا جاسکتا ہے یہ تو ملک ہے۔ ایک بہت بڑا ملک جو بہت بڑے خطرناک حادثوں سے گزرا ہے یہ نہیں چلایا جاسکتا۔ دُکھ اس بات کی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی کا لیڈر تھا اور اس کے دور میں اس ملک کا آئین بنا۔ دُکھ ہوتا ہے کہ نواز شریف جیسے آدمی کے گھر سے اس قسم کی بلائیں نکل رہی ہیں وہ خاموش بیٹھا ہے۔ پھر کیا فائدہ سینٹ، قومی اسمبلی،صوبائی اسمبلیوں کا۔ یہ تو قصداً وعملاً آپ لوگوں کو اس طرف پیش کررہا ہے کہ خدانخواستہ سب یہ کہیں کہ ہم نے اسمبلیاں نہیں چھوڑنی ہم نے تنخواہیں نہیں لینی ہم کوئی منشی تو نہیں ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بات میرے ذات کی نہیں میرا ذاتی کوئی منشور نہیں ہے میں پٹھان آدمی ہوں نہ میں نے کیمرج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے عام ٹاٹ کے سکول میں پڑھا ہوں بات میں کرونگا تو آئین کی بات کرونگا۔ آئین کی جو قوانین ہیں ان کی بات کرونگا اگر وہ کسی کو بُری لگے پھر تو پاکستان کس طرح آپ چلائینگے کیا اس ملک کو (بائی فورس) طاقت کے ذریعے آپ چلائینگے؟ ڈنڈے کے زور سے؟ میں نہیں سمجھ رہا کہ یہ لوگ ملک کو کس طرف لیجارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کو ایک کریڈٹ جاتا ہے وہ بہادر ماں کا بیٹا اور بہادر نانا کا نواسا ہے اُس نے وقت سے پہلے لیک کردیا کہ یہ کھچڑی پک رہی ہے اس پہ بھی ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے پیپلز پارٹی کے تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ذوالفقار علی بھٹو کی مشن سے محبت ہے تو پہلے بلاول کو ہی اُٹھ کر کھڑا ہونا چاہیے کہ یہ آئین ہے اس سے اُوپر نیچے کوئی چیز نہیں۔ اگر بلاول کھڑے نہیں ہونگے پھر تو سب کچھ گیا کہ جمہوریت ہماری سیاست۔ طاقت کا سرچشمہ عوام، سوشلزم ہماری معیشت یہ نعرے محض نعرے رہ جاتے ہیں۔ نواز شریف جس طرح سیاست میں آئے لیکن بعد میں انہوں نے جو راستہ اپنا لیا اُنہیں اپنے اندر کی روشنی نے یہ بتادیا کہ یہ پاکستان کی بربادی کا راستہ ہے۔ انہوں نے مینڈیٹ لیا کہ پاکستان میں ایک آئین ہوگا، ووٹ کی قدر ہوگی ایک جمہوری پارلیمنٹ کی قدر ہوگی، این ایف سی وغیرہ میں جو ہمارے ساتھ لوگ ہیں کوئی ہمارے مفتوح نہیں ہے نہ یہاں کوئی فاتح ہے۔ پاکستان 78سال کا ہے یہاں پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، پنجابی سب اپنی اپنی تاریخی مادر وطنوں پر آباد ہیں۔ تاریخ نے اُنہیں اکھٹا کردیا ہے۔ دنیا میں کثیر القومی ریاستیں زیادہ ہیں۔صرف ایک کونسل اور قوم پر مشتمل ممالک بہت کم ہیں۔ سوئیٹزرلینڈ جہاں ہمارے سب لوگ وہاں جا کر اُ ن کے بینکوں میں پتہ نہیں کیا کرتے ہیں۔ وہاں تما م وہ لوگ رہتے ہیں جن کا تعلق اٹلی، جرمنی، فرانس وغیرہ سے ہے۔ جس طرح افغانستان کے پشتون پشتونوں سے ملا ہے یاکشمیر میں کشمیریوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ایک آزاد ملک کی حیثیت سے وہ رہ رہے ہیں۔ کیونکہ فرانسیسی، اٹالین اور فرنچ جو سوئٹیزر لینڈ میں ہیں وہ وہاں پر مطمئن ہیں ان کو وہاں انسانی حقوق، اور جمہوری آزادی حاصل ہے وہاں کوئی فرانسیسی نہیں کہتا کہ میں نے فرانس میں داخل ہونا ہے۔ یہاں بھی اگر آپ نے اس ملک کو چلانا ہے تو حق حکمرانی میں جمہوری انداز میں پشتون کو حصہ دینا ہوگا۔ آپ نے سندھی، بلوچ، سرائیکی سب کو حق حکمرانی میں حصہ دینا ہوگا ایسا نہیں کہ بس 14اگست کو پاکستان آزاد ہوا۔ محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پروردگار عالم نے بھی جب انسانوں کے لیے اپنے اپنے پیغمبر بھیجے آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی قوم پر ایک ایسا پیغمبر بھیجا ہو جو ان کی زبان نہیں بولتا ہو۔شرم کی بات ہے ہم 75سالوں کے بعد بھی یہاں کے بچوں کو مادری زبانوں میں تعلیم نہیں دے رہے۔ ہم اس میں لگے ہوئے ہیں کہ سب اس ملک کے مامے بنے ہوئے ہیں اور سب لوٹ رہے ہیں سب لگے ہوئے ہیں دیمک کی طرح ہم سب کچھ کرکے بھاگ جائینگے ہم ایسا نہیں ہونے دینگے۔ یہ ہمارا ملک ہے اگر خدانخواستہ شہباز شریف نے اس ملک کو توڑنے کا ارادہ کیا ہوا ہے تو اس کا کوئی اور راستہ نکالیں گے ایسا نہیں ہوگا کہ آپ ظلم بھی کرینگے لوگوں کو گولیوں سے بھون ڈالو گے خون بہائینگے یہ کس طرف جارہا ہے۔ دنیا میں بنیادی انسانی حقو ق کے لیے واضح پیغامات ہیں۔ قرآن مجید بھی کہتا ہے کہ لوگوں کو بُرا بھلا مت کہو البتہ جس پر ظلم ہورہا ہے وہ کچھ کہہ سکتا ہے قرآن پاک بھی مظلوم کو آہ وبقاءکی اجازت دیتا ہے۔ ابھی تحریک لبیک والوں کے ساتھ جو کچھ ہوا۔ انہوں نے تو اسلام آباد پر چڑھ دوڑنا تھا نہ امریکن سفارت خانے پر اس کے بہت سارے طریقے ہوسکتے تھے۔ بس لوگوں کے سروں پر گولیاں مارو یہاں نہ بچوں کو چھوڑا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جہاں بیٹھا ہے اُنہیں وہا رہنے دیں باقی تمام پارٹیاں مل بیٹھیں فیصلہ کرلیں عمران خان کی ذمہ داری ہم لینگے۔ میاں صاحب جب جیل میں تھے جیل والوں نے کچھ گڑ بڑ کی تھی میں ان سے ملنے گیا تو وہاں درجنوں لوگ آرہے تھے ملاقات کیلئے۔ یہاں آپ گھبرائے ہوئے کیوں ہو؟ عدالتیں اس حد تک پارٹی ازم کا شکار ہیں کہ آپ ایک پارٹی سے اس کا انتخابی نشان چھینیں یہ کبھی دنیا میں نہیں ہوا ہے۔ کبھی کوئی الیکشن اس طرح چھین سکتا ہے؟ یہ تو بھلا ہو عمران کے اُن کارکنوں کا جنہوں نے مون سون کی بارشوں کی طرح سیلاب بن کر شہباز شریف اور میرے دوست سپیکر کی کایا پلٹ دی ابھی اس کو سنبھالے نہیں سنبھلتا۔ افواج پاکستان کی کمانڈر انچیف ایسا تو نہیں ہے کہ وہ بادشاہ سلامت ہیں۔ افواج پاکستان کی رہبری بھی اپنی صفوں میں اس پر بحث کریں۔ ہمارے ججز کیوں خاموش ہیں۔ ججز سن رہے ہوں گے ان کو پتہ ہوگا کہ بلاول کیا کہہ رہا ہے یہ ہر محب وطن جج، جرنلسٹ، جرنیل، تاجر، وکیل اور سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب نکلیں کہ ہم نے اس ملک کو اس طرح نہیں چلنے دینا۔ ایک عمرانی معائدہ ہونا چاہیے۔ دلائی لاما صرف 50لاکھ انسانوں کے حقوق کے لیے 2ارب لوگوں سے برابری اور اپنے بنیادی انسانی حقوق چاہتے ہیں ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ شہباز شریف میرے دوست رہے ہیں کبھی کبھی میں غصے میں اُنہیں کچھ کہہ جاتا ہوں میرے بھائیوں کی طرح ہے اُس وقت بھی میں نے نوازشریف کے سامنے شہباز شریف کو کہا ہے کہ شہباز بھائی مشرف نے دو دفعہ کہا ہے کہ اگر شہباز وزیر اعظم بننا چاہتا ہے تو میں تیار ہوں نواز نہیں۔ تو شہباز چیخنے لگے محمود بھائی کیا کہہ رہے ہو؟ آپ میرے باپ کی طرح ہو۔ یہ اُس وقت بھی مسلم لیگیوں کی ٹرینڈ تھی کہ جرنیلوں سے نہ بگاڑو۔ بالکل نہ بگاڑ۔ جرنل اگر آئین کے فریم میں رہے ہم بغیر ٹوپی کے اس کو سلوٹ کرینگے۔ جج، جرنلسٹ کوئی بھی آئین کے دائرے میں رہے لیکن اگر کوئی اس آئین کو توڑنے اس کا اصل حلیہ بگاڑنے کی کوشش کرے تو ہماری ان سے دشمنی ہے۔ شہبازشریف بڑی بڑی سڑکیں، پُل بناسکتا ہے لیکن سیاست نہیں کرسکتا۔ لوگوں نے ووٹ نہیں دیا تو کیا ہوا گزارہ کرتے۔ لیکن نہیں وہ کہتے ہیں فلا نے جرنیل سے بات ہوئی ہے۔ بندوق لے کر آخر کتنے لوگوں کو ماروگے؟ بار بار کہتا ہوں تم فرعون سے زیادہ ظلم نہیں کرسکو گے جو نارینہ بچوں کو ذبح کرتا تھا کیا وہ زندہ رہا؟ کیا اُنہی بچوں میں سے ایک بچہ ان کے گھر میں پلا بڑھا نہیں؟ کیا وہ ظلم کے خلاف کھڑا نہیں ہوا۔؟ اور کیا رب العالمین نے پانیوں کے زور سے اُنہیں غرق نہیں کیا؟ جرنیل صاحب آپ اور شہباز اینڈ کمپنی دونوں اس بات سے ڈریں اس دن سے ڈریں جب خدا کے قہر کی وجہ سے کسی کھڈے میں گر جائینگے اس ملک پر رحم کریں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ لاڑکانہ کے جلسے میں بلاول بیٹھے تھے، کراچی کے جلسے میں میں نے مولانا فضل الرحمن صاحب سے کہا تھا کہ اگر PDMہم نے اس لیئے بنائی ہے کہ عمران نہیں کوئی اور ہم صرف سیٹ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تو میں ساتھ نہیں رہونگا۔ اور اگر اس لیئے کرنا ہے کہ پاکستان کی تمام عاقل بالغ صحیح لوگوں کی اجتماعی دانش سے ایک نئے عمرانی معاہدے یا اُنہی عمرانی معاہدے کے تحت پاکستان کو چلانا ہے تو میں آپ کے ساتھ ہوں۔ آخر کار کراچی کے جلسے میں نے یہ کہا تھا انسان تو اشرف المخلوقات ہے انسان اپنی غلطی پر ضرور ایک دن پشیمانی کریگا۔ نظر یہ دراصل یہ ہے کہ آپ نے ایک کام کیا اور اس کا اچھا نتیجہ نکلاتو میرا نظر یہ بن جاتا ہے دنیا نے جمہوریت کا یہ نتیجہ نکالا ہے۔ دنیا میں لشکر در لشکر لوگوں پر ٹوٹ پڑتھے تھے لوگوں سے ان کی سب کچھ لیجاتے تھے انسان نے اس کا علاج جمہوریت نکالا۔ اب ہمیں اس جمہوریت والے نظرئیے کو فالو کرنا ہے۔


