سندھ حکومت کا وفاق سے زرعی قرض اورٹیکس معاف کرنے کا مطالبہ

کراچی: سندھ حکومت نے وفاق سے زرعی قرض اورٹیکس معاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک کا کاشتکار مقروض درمقروض ہوتاجارہا ہے، کپاس، ٹماٹر،مرچی اور دیگر نقد فصلیں مکمل ختم ہو چکی ہیں۔تفصیلات کے مطابق وزیرزراعت سندھ اسماعیل راہو نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت زرعی قرض اورٹیکس معاف کرنے کااعلان کرے۔حکومت سندھ متاثرہ 20 اضلاع کوآفت زدہ قرار دے چکی ہے، حکومت سندھ کاشتکا روں کی بحالی کے تمام اقدامات کرے گی۔صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ سندھ حکومت کاشت کاروں کی بحالی کے لیے تمام اقدامات کرے گی اور متاثرہ فصلوں کے صوبائی زرعی ٹیکس معاف کیے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ وفاق کی غلط پالیسی کی وجہ سے زرعی شعبہ پہلے ہی شدید دبا میں ہے، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے نے زراعت ناممکن بنا دی ہے اور ملک کا کاشتکار مقروض در مقروض ہوتا جارہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم سندھ میں حالیہ بارشوں سے متاثرہ اضلاع کے کسانوں کے زرعی قرضے اور ٹیکس کی معافی کا اعلان کریں۔صوبائی وزیر زراعت نے بتایا کہ آفت زدہ اضلاع حالیہ بارشوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں،کپاس، ٹماٹر، مرچ اور دیگر نقدآور فصلیں مکمل تباہ ہوچکی ہیں جبکہ چاول، گنے اور باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ زرعی ترقیاتی بینک اور دیگر کمرشل بینکوں کے 2020 کے تمام زرعی قرضہ جات معاف اور پرانے زرعی قرضوں کی وصولی میں ایک سال کی چھوٹ دی جائے اس کے ساتھ کاشتکاروں کو بغیر سود اور آسان شرائط پرنئے قرضے دیئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں