مارچ 2021 میں پاکستان کے تمام اسکولوں میں پرائمری تک یکساں نصاب ہوگا، شفقت محمود

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام اسکولوں میں مارچ 2021 میں پرائمری تک یکساں تعلیمی نصاب ہوگا اور تعلیمی زبان انگریزی نہیں ہوگی بلکہ اردو یا مادری زبان ہوگی۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام’جرگہ’ میں بات کرتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ ‘یکساں تعلیمی نظام کے لیے ہماری جستجو ہے لیکن اس تک پہنچنے کے لیے 25 سے 30 سال لگ سکتے ہیں لیکن ہم نے اپنے منشور کے مطابق ابتدا کررہے ہیں’ِ

ان کا کہنا تھا اس نظام میں ناانصافی ہے،کارپوریٹ، سرکاری اور عدالتوں کی زبان انگریزی ہے اور مقابلے کے امتحان انگریزی میں ہورہے ہیں۔

شفقت محمود نے کہا کہ مارچ 2021 میں ایلیٹ انگلش میڈیم، کم فیس والے نجی اسکول اور مدارس سمیت پاکستان کے تمام اسکولوں میں پہلی جماعت سے پرائمری تک یکساں تعلیمی نصاب نافذ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘تیاری کے لیے ہم نے سارے صوبوں کو شامل کیا اور قومی نصاب کونسل میں انگریزی اسکولوں کے لوگ، ماہرین تعلیم اور اتحاد تنظیم المدارس اور تمام مکاتب فکر کےلوگ شامل ہیں’۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے زبان کے حوالے سے واضح کیا ہے پہلے 5 برسوں میں میڈیم اردو یا مادری زبان ہوگی، اگر کسی کی مادری زبان انگریزی ہوتو وہ انگریزی میں پڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کو اجازت دی گئی ہے اور اگر ماضی کو دکھاجائے تو مجھے نظر آتا ہے کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اردو ہوگی، سندھ کے چند علاقوں میں سندھی ہوگا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے صوبوں سے کہاکے کہ اگر آپ مادری زبان میں پڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہییں ہوگا۔

شفقت محمود نے کہا کہ بتدریج کتاب بھی ایک ہوگی لیکن اس وقت ایسا ممکن نہیں ہے تاہم نصاب ہرجگہ ایک ہوگا۔

انہوں نے کہا ہم اس کے لیے ایک ایکٹ بنائیں گے اور ہراسکول پر قانونی طور پر ایک نصاب لازمی ہوگا اور زبان اردو یا مادری زبان ہوگی جبکہ انگریزی نہیں ہوگی اور اس کا فیصلہ صوبےخود کریں گے۔

وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ انگریزی کو بطور مضمون پڑھایاجائے گا زبان سکھائی جائے گی لیکن پورے تعلیم کا میڈیم انگریزی نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ مدراس کے بچوں کے لیے بھی دروازے کھل گئے ہیں اور وہ بھی میٹرک یا ایف ایس سی کے بعد دوسرے شعبوں میں ملازمت کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام مکتبہ فکر کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور قرآن مجید کا ترجمہ تمام فرقے بیٹھ کرکیا گیا ہے جو بڑی پیش رفت ہے۔

یاد رہے کہ 19 مارچ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے کے حوالہ سے پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے اور پہلی سے پانچویں جماعت تک کے لیے متفقہ نصاب تعلیم تیار کر لیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ تعلیم شفقت محمود، سیکریٹری ایجوکیشن و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ موجودہ حکومت نے برسرِ اقتدار آتے ہی قومی نصاب کونسل (نیشنل کریکولم کونسل) تشکیل دی جس میں تمام صوبائی اکائیوں، نجی شعبے، مدارس اور ممتاز شخصیات کو شامل کیا گیا، جبکہ ورکنگ گروپ کی سطح پر پروفیشنلز اور اپنے اپنے شعبہ جات کے مایہ ناز ماہرین کی ٹیم بنائی گئی۔

بیان کے مطابق نصاب کی تشکیل کے حوالے سے کیمبرج، آغا خان اور لمز جیسے مایہ ناز اداروں سے معاونت حاصل کی گئی ہے۔

وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا تھا کہ پہلی سے پانچویں جماعت کا متفقہ نصاب تیار کر لیا گیا ہے، جماعت ششم یا ہشتم کا یکساں نصاب مارچ 2021 تک تیار کر لیا جائے گا جبکہ جماعت نہم تا بارہویں جماعت کے یکساں نصاب کا کام مارچ 2022 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں