نواز شریف ’اشتہاری‘ قرار دینے کے بعد؟

اگلے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اپنے سابق عدالتی حکم؛ 9ستمبر تک سرنڈرکرنے کی تعمیل نہ کئے جانے کی بناء پرمسلم لیگ نون کے تاحیات رہنماسابق اوروزیر اعظم محمد نواز شریف کو ”اشتہاری“ ملزم قرار دے دیا اور ان کے خلاف دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔بادیئ النظر میں یہی دکھائی دیتا ہے کہ اس ضمن میں مزید قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔ان کی جائیداد ضبط کرنے کے احکام متوقع ہیں۔زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ نواز شریف ملکی حالات سازگار ہونے سے پہلے پاکستان نہیں آئیں گے۔بلکہ اب تو حکمراں جماعت پی ٹی آئی کے رہنما بھی یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ جن قوتوں نے ایک سزا یافتہ مجرم(محمد نواز شریف) کو بیرون ملک بھیجنے کی راہ ہموار کی تھی،وہ جب چاہیں گی انہیں ”ہیرو“بنا کر وطن واپس لے آئیں گی۔ایسے مناظر عوام نے ماضی میں بار بار دیکھے ہیں،مستقبل میں دہرائے جانے کے خدشات موجود ہیں۔ممکن ہے اس بار یہ مکروہ رسم نہ دہرائی جائے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے کی جانے والی قانون سازی اس راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔دوسری وجہ یہ خیال کی جاتی ہے کہ اس خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں مانع ہوں گی۔تیسری وجہ ایک موہوم سی امید کے حقیقت بننے میں پوشیدہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنے انتخابی وعدے پورے کردے اور اطمینان بخش حد تک کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہو جائے۔ ابھی اس کے پاس اقتدار کے تین سال موجود ہیں۔یہ مدت کم نہیں، اپنا مستقبل تاریک ہونے سے بچانے کے لئے پی ٹی آئی ہاتھ پاؤں تو مارے گی۔دوسری جانب عدم اعتماداور متفرق مسائل کی شکار اپوزیشن ایسی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتی کہ حکومت کو قبل از وقت گھر بھیج سکے۔جبکہ نون لیگ کے سربراہ کو سرنڈر نہ کرنے پر اشتہاری قرار دیا جانا بھی چونکا دینے والا اشارا ہے۔بعض تجزیہ کار بھی اسی خیال کے حامی نظر آتے ہیں کہ اس بار اپوزیشن کو جن مسائل کا سامنا ہے ان سے جان چھڑانا آسان نہیں۔توشہ خانے سے تحائف لے جانے کے مقدمات اپوزیشن کو اعصابی دباؤ میں لانے کا ایک حربہ ہو سکتاہے مگر بینک کے ذریعے بڑی رقومات کی گردش اور انجام کار ان کاستعمال ایسے دستاویزی ثبوت ہیں جنہیں جھٹلانا آسان نہیں۔ایان علی کی وکالت سے لطیف کھوسہ کی دستبرداری بھی ہوا کے رخ کی تبدیلی کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ کورانا کاوائرس زیادہ تر ایسے مریضوں کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے جو پہلے سے متعدد عارضوں کا شکار ہوتے ہیں،ایان علی بھی ایسا ہی عارضہ سمجھی جا سکتی ہے، اس کے ہوائی ٹکٹ مشکوک اکاؤنٹس سے خریدے جاناعدالتی ریکارڈ پر آچکا ہے۔ایسے ملزم کی وکالت اپنی ساکھ کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔عدالتی لب و لہجہ بھی سخت فیصلوں کا پتا دینے لگا ہے۔سیاست دان اتنی جلدی نواز شریف کو اشتہاری قرار دیئے جانے کی توقع نہیں رکھتے تھے اسی لئے ان کی جانب سے روایتی رد عمل سامنے نہیں آیا۔نون لیگ کے ترجمان محتاط نظر آتے ہیں۔120نئی احتساب عدالتوں کا قیام زیادہ دور نہیں۔اس کے بعد نیب مقدمات کے فیصلے سنانے کی رفتار تیز ہوجائے گی۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی کی نیب میں طلبی ہو چکی ہے۔اس کے ساتھ ہی اپریل میں ملک بھر میں یکساں تعلیمی نظام کا نفاذ یقینی دکھائی دینے لگا ہے، اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ مدارس کے طلباء پر مولانا کی گرفت دھیرے دھیرے کمزور ہوتی جائے گی۔ شائد مولانا اور ان کے دیگر ساتھیوں کو اس کا ادراک ہے مگر یہ تاریخی جبر ہے اور اس سے بچنا محال ہے۔وزیر اعظم بار بار قوم کو یاد دلا رہے ہیں کہ آئندہ برس ملک بھر میں یکساں تعلیمی نصاب پڑھایا جائے گا۔تاریخ اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ کمزور مزاحمت دیر تک جاری رکھنا ممکن نہیں ہوا کرتا اس لئے جلدہار مان لیتی ہے۔کمزور مؤقف جیت نہیں سکتا۔لاکھوں بچوں کو جدید تعلیم سے محض اس لئے محروم نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے ماں باپ اسکول میں تعلیم دلانے کے مالی وسائل نہیں رکھتے۔ جدید علوم اور کمپیوٹر سے نابلدلاکھوں نوجوان آئندہ معاشرے پر بوجھ سمجھے جائیں گے اور کوئی حکومت اس کھیپ میں اضافہ برداشت نہیں کرسکتی۔ جیسے جیسے یہ عمل آگے بڑھے گا مدارس کے طلباء مخصوص سوچ کے دائرہ سے باہر نکل جائیں گے۔ان کے لئے ملازمت کے مواقع وسیع ہوں گے،صرف مسجد کی امامت ان کی مجبوری نہیں رہے گی۔ کمپیوٹر بچوں کے لئے اجنبی نہیں رہا،واٹس ایپ کی شکل میں ان کی بہت بڑی تعداد اس سے مانوس ہوچکی ہے۔سوشل میڈیا پر نئے معاشی اور معاشرتی سوال اٹھانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے،اسے پانچویں جنریشن کی جنگ کہا جائے یا معاشرتی تبدیلی کے تقاضے سمجھا جائے،ریاست بھی سوالات کی زد میں ہے۔عدلیہ،مقننہ اور انتظامیہ سمیت تمام ریاستی اداروں کو اپنی کارکردگی کے ذریعے عوام کو جواب دینا ہوگا۔سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی جانب سے سرنڈر نہ کرنے کی وجوہات ڈاکٹرزکی رائے کے ساتھ اسلام آبادہائی کورٹ میں حاضری سے استثناء اور مجاز نمائندوں کے ذریعے العزیزیہ ریفرنس میں پیش ہونے کی اجازت کی د رخواست جمع کرادی گئی ہے۔شہباز شریف نے اشتہاری قرار دیئے جانے کو افسوسناک قرار دیا ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے مسلم لیگ نون کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ مستقبل قریب میں نون لیگ اور شین لیگ کی علیحدگی سمیت ملکی سیاست میں بعض تبدیلیوں کی پیش گوئی بھی کی جارہی ہے۔وفاق اور سندھ کی محاذ آرائی جاری رہی تو معاملات سیاست دانوں کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں