جام کمال کی زیر صدارت اجلاس،زیر تعلیم بچیوں کو ماہانہ5سوروپے دینے کی اسکیم سے آگا ہ کیا گیا

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بلاسود قرضوں کی فراہمی کے ذریعہ روزگار اور چھوٹے کاروبار کی سہولت کی فراہمی، غربت اور بیروزگاری کے خاتمے اور سود سے پاک معاشرے کا قیام چاہتی ہے جس سے چھوٹی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا، ان خیالات کااظہار انہوں نے ایک اعلی سطحی اجلاس میں کیا جس میں وزیراعلی سماجی اقتصادی انیشیٹیو کے جاری اور خاص طور سے مالی سال 2020-21 کے لئے مجوزہ منصوبوں کا جائزہ لیا گیا، سیکریٹری خزانہ نورالحق بلوچ نے نئے مالی سال کے سماجی ومعاشی ترقی کے منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی،صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات عبدالرحمن بزدار اور سیکریٹری محنت وافرادی قوت سائرہ عطا بھی اجلاس میں شریک تھے، سیکریٹری خزانہ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ کووڈ۔19کے دوران وزیراعلی کی ہدایت کی روشنی میں 550ملین روپے کی لاگت سے ایمرجنسی لون اسکیم متعارف کرائی گئی جس پر اخوت فانڈیشن کے اشتراک سے عملدرآمد جاری ہے، اس اسکیم کے تحت اب تک 14765افراد کو بلاسود قرضے فراہم کئے گئے ہیں اور تاحال اس پروگرام پر 295ملین روپے خرچ ہوئے، اخوت فانڈیشن کی جانب سے اعتراف کیا گیا ہے کہ یہ پروگرام ہر قسم کی سیاسی یا انتظامی مداخلت سے پاک ہے جس سے اس پروگرام کی افادیت اور اس پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا، پروگرام کے تحت دیئے گئے قرضوں کی واپسی کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے جس کی شرح 95فیصد ہے،اجلاس کو بتایا گیا کہ سال 2020-21 کے دوران وزیراعلی بلاسود قرضہ اسکیم کے لئے بھی 2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس کے تحت بیروزگار نوجوانوں کو ایک لاکھ روپے تک کا قرضہ فراہم کیا جائے گا جس سے وہ چھوٹے پیمانے پر اپنا کاروبار شروع کرسکیں گے، سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ وزیراعلی کے وژن کے مطابق بیروزگاری کے خاتمے کے لئے خودانحصاری پر مبنی روزگار اسکیم کے آغاز کے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے،اجلاس کو صوبائی صحت انشورنس اسکیم کے تحت ہیلتھ کارڈ کے اجرا سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ اس اسکیم کا مقصد عوام کو صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی اور شعبہ صحت کو مستحکم بنانا ہے جس کے لئے ایک ہزار ملین روپے مختص کئے گئے ہیں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسکیم کے تحت پہلے مرحلے میں صوبائی حکومت کے تین لاکھ ملازمین کو صحت کارڈ جاری کئے جائیں گے اور اس اسکیم کو بتدریج عام عوام تک لے جایا جائے گا، اجلاس کو ضلعی سطح پر نجی شعبہ میں ہسپتالوں کے قیام کے لئے قرضہ کی فراہمی کے منصوبے سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا جس کا مقصد شعبہ صحت میں نجی شعبہ کی معاونت سے عوام کو علاج معالجہ کی بہتر سہولتوں کی فراہمی کے ذریعہ سرکاری شعبہ کے ہسپتالوں پر دبا کم کرناہے، اجلاس کو بچیوں کی شرح تعلیم میں اضافہ کے لئے اسکولوں میں زیر تعلیم بچیوں کو ماہانہ پانچ سو روپے وظیفہ کی فراہمی کی اسکیم کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا جس کے لئے ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، اجلاس کو وزیراعلی انوویشن چیلنج فنڈ برائے آئی ٹی پروفیشنلز اور زرعی کاروبار کے لئے مالی معاونت کی فراہمی کے پروگراموں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، اجلاس میں معاشی وسماجی ترقی کے مجوزہ پروگراموں کی افادیت سے اتفاق کرتے ہوئے اصولی طورپر ان کی منظوری دی گئی تاہم محکمہ خزانہ کو ان اسکیموں کی جامع اسٹڈی کرنے اور ان پر تھرڈ پارٹی کے ذریعہ عملدرآمد کی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں ہنرپروگرام کے فروغ کے لئے اضلاع کی سطح پر ٹریننگ مراکز کے قیام کے ساتھ ساتھ ہائی اسکولوں میں بھی فنی تربیت کا شعبہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں