ملتان بلوچ طلبا سکالرشپس کی بندش کے خلاف بدستور سڑکوں پر
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ملتان کی طرف سے بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی جانب سے فیس وصولی پالیسی کےخلاف احتجاجی کیمپ کو انتیس دن گزرگئے ہیں مگرتاحال کسی قسم کا کوئی حل سامنے نہیں آیا ہے
واضح رہےاس احتجاج میں شامل طلبا فیس وصولی پالیسی کےخلاف جدوجہد کےساتھ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کےقبائلی علاقوں کےلیے کوٹے پرسکالرشپ کےاجراءَ کےساتھ ان کےلیے یونیورسٹی کے ہرشعبے میں نشستوں کی تخصیص کا مطالبہ بھی کررہے ہیں یاد رہے ایک طالب علم محمدابوبکرنتکانی کے مطابق حکومت بلوچستان کی جانب سے نوٹس تو لیاگیا مگرتاحال کسی قسم کی مثبت پیش رفت کی خبر نہیں ملی ہے جس سے معلوم پڑا ہو کہ یہ معاملہ حل ہونے کی طرف جارہا ہے اس موقع پرانہوں نے وزیراعلہ عثمان بزدارسےاپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ قبائلی علاقہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے طلبا کےلیے کوٹے پرسکالرشپ کےساتھ کوٹے میں اضافہ فرمائیں واضح رہے طالب علم عامر قومی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کی جانب کسی قسم کا نوٹس نہیں لیا گیا ہم نےان سے ہرپیمانے پرگفتگو کی،بات کی ،وزیروں سے بات کی،یونیورسٹی حکام سے بات کی مگر کسی طرف سے بات نہیں بنی انہوں نے کہا کہ ایسےلگ رہاہے کہ ہم ایک لاوارث صوبے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہماری حکومت کوہماری فکرنہیں جس کی وجہ سے ہمیں یہاں کوئی سن نہیں رہا انہوں نے افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیروں ،آفسروں اورعمارتوں کےلیے پیسے ہیں مگرہمارے لیے کچھ نہیں ہے،قوم کے مستقبل کےلیے کچھ نہیں ہے،ان کےلیے بجٹ ختم ہواہے مگراپنی عیاشی کےلیے بجٹ ہے انہوں نےحکومت سےاپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارےاس مسئلے کوحل کرے تاکہ نئےآنےوالے طلبا اپنی کلاسزکاآغاز بروقت کرسکیں واضح رہے یہ احتجاجی کیمپ انتیس دن سے جاری ہےتاحال حکومت اور یونیورسٹی کی طرف سے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں ہوا جس سے مسئلہ حل کرنے کا کوئی ٹھوس پیش رفت ملے


