لاپتہ افراد کا معاملہ گھمبیر یہ بلوچستان کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے،جسٹس گلزار احمد

کوئٹہ :سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت نہیں ہو رہی، بار اور بینچ ایک ادارہ ہے،وکلاء کے مسائل حل کئے جائیں گے،لاپتہ افراد کا معاملہ گھمبیر یہ بلوچستان کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے اس سلسلے میں کمیشن قائم ہے عدالتی کاوشوں سے بہت سے لوگ بازیاب ہوئے، بلوچستان کے عوام کی عزت نفس مجروح کرنا میری عزت نفس مجروح کرنے کے مترادف ہے جس کی کسی کواجازت دیں گے اور نہ ہی لوگوں کے بنیادی حقوق سلب ہونے دیں گے سپریم کورٹ آف پاکستان عوام کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس گلزار احمد، بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین و ممبر بلوچستان بار کونسل کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام عشائیہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض میر عطا اللہ لانگو ایڈووکیٹ نے سرانجام دیں۔ اس موقع پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز جسٹس اعجاز الحسن، جسٹس فیصل عرب، بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل، ہائی کورٹ کے ججز جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس محمد اعجاز سواتی، جسٹس محمد کامران خان ملا خیل، جسٹس ظہیر الدین کاکڑ، جسٹس عبداللہ بلوچ، جسٹس نذیر احمد لانگو، جسٹس روزی خان بڑیچ، جسٹس عبدالحمید بلوچ، بلوچستان ہائی کورٹ راشد محمود،ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ارباب طاہر ایڈووکیٹ، ڈپٹی اٹارنی جنرل مصطفی بزدار،ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید باسط شاہ ایڈووکیٹ، سینئر وکلا امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ، علی احمد کرد ایڈووکیٹ، ہادی شکیل ایڈووکیٹ، راجا رب نواز،ملک امین اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ، ظہور احمد مینگل، ایاز ظہور ایڈووکیٹ، سمیت مختلف اضلاع سے وکلا نے شرکت کی۔ تلاوت قرآن سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے کی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے وکلا کی انرولمنٹ کے معاملے کو اسلام آباد پہنچ کر پہلی فرصت میں دیکھیں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے کیسز پینڈنگ میں ہے ہماری کوشش ہے کہ جلد سے جلد پینڈنگ کیسز کو کم کیا جائے، جس کیلئے وکلا کا تعاون درکار ہے، کسی کیس کو ملتوی نہیں کرتے تاہم بہت زیادہ ضروری ہو تو کیس کو ملتوی کر دیا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے بلوچستان کے کیسز سنتے رہتے ہیں بلوچستان کے کیسز کیلئے ایک دن مختص کرکے پورا دن یہاں کے کیسز سنتے ہیں بلوچستان کے کیسز کا اسی تسلسل سے سنوائی کا سلسلہ جاری رہا تو یہاں کے پینڈنگ کیسز جلد ختم ہو جائیں گے، کیسز کی نوعیت کو دیکھ کر ارجنٹ بنیادوں پر سماعت کیلئے مقرر کررہے ہیں، لاپتہ افراد کا مسئلہ سنگین ہے سپریم کورٹ آف پاکستان عوام کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں، لاپتہ افراد کا معاملہ گھمبیر ہے یہ بلوچستان کا نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے اس سلسلے میں کمیشن قائم ہے عدالتی کاوشوں سے بہت سے لوگ بازیاب ہوئے، ہم لوگوں کے بنیادی حقوق سلب نہیں ہونے دیں گے، حیات بلوچ کا واقعہ افسوسناک ہے پتہ چلا کہ سیٹلمنٹ ہوئی ہے علم نہیں کہ یہ بات کہاں تک صحیح ہے تاہم چالان جمع ہوا ہے اپنے طور پر کیس کو دیکھیں گے، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کی عزت نفس مجروح کرنا میری عزت نفس مجروح کرنے کے مترادف ہے جس کی کسی کواجازت نہیں دینگے،اگر ایسی بات ہوئی ہے تو اس کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتاہوں بلکہ اس معاملے میں جو بھی قانونی طریقہ کار مطابق ہوسکا تو کرینگے،بلوچستان میں پانی کے مسئلے سے متعلق انہوں نے کہاکہ آج سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں صوبے میں پانی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران ہمیں بتایاگیاکہ بلوچستان میں 700 ڈیمز بنے ہیں 100ڈیمز کاپروجیکٹ چل رہاہے جن میں 40ڈیمز بن چکے ہیں جبکہ 60ڈیمز پر کام جاری ہے،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں 5بڑے ڈیمز بن رہے ہیں جس سے بلوچستان کے پانی کا مسئلہ بہت حد تک حل ہو گا،گوادر میں پانی کی کمی کے حوالے سے آر او پلانٹ سے متعلق بتایاگیاکہ کچھ آراو پلانٹ بنائے گئے مگر وہ فعال نہیں ہے کوشش ہے کہ ان آر او پلانٹ کو فعال کرکے وہاں کے لوگوں کو پانی میسر ہوں،انہوں نے کہاکہ عدالتی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہورہی ہے،انہوں نے کہاکہ بار اور بینچ کو ایک ادارہ سمجھتاہوں،بار کے مطالبات بینچ کے مطالبات ہیں اور بینچ کے مطالبات بار کے مطالبات ہیں،وکلاء کے مسائل حل کئے جائیں گے،بار اور بینچ خوش اسلوبی کے ساتھ مقدمات چلا رہے ہیں ہمیں بلوچستان کے آئینی حقوق عزیز ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا،عدالت بلوچستان کے آئینی حقوق کا تحفظ کریگی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہاکہ آج میرے بولنے کا دن نہیں بلکہ چیف جسٹس کو سننے کا دن ہے، بار کونسل کے ممبر کامران مرتضی کی پانچ تعیناتی کے مطالبے پر انہوں نے کہا کہ فی الوقت ان کی تعیناتی کی ضرورت محسوس نہیں کررہے کیوں کہ بلوچستان کے 7 ڈویڑن میں سے 5 ڈویڑن میں بینچز بن چکے ہیں ان میں دو بینچز فوری طرح سے فعال نہیں جہاں نہ تو بیٹھنے کی جگہ اور نہ انفراسٹرکچر ہے، انہوں نے کہا کہ ججز کی تعیناتی آسان کام نہیں کسی کو تجویز کرکے وہ اگر اچھا جج ثابت ہو تو ساری زندگی دعائیں ملتی ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کیلئے وکلا کی انرولمنٹ کی درخواستوں کا معاملہ دیکھا جائے گا۔ ہم لڑائی جھگڑوں کے مسائل کے ساتھ آئین کے تمام آرٹیکلز پر عمل درآمد یقینی بنا رہے ہیں، کوئی یہ نہ سوچے کہ غیر قانونی کام ہوگا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے ممبر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سانحہ8اگست میں وکلاء جو معاشرے کی کریم تھی ہم سے جدا ہو گئی ان کے جانے سے ایک خلا پیدا ہو ئی ہے،انہوں نے اپنے مطالبات چیف جسٹس سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کے وکالت کیلئے 50ساتھیوں نے اپلائی کیاتھا مگر کورونا کی وجہ سے معاملہ آگے نہ بڑھ سکا،بلوچستان کے کیسز پینڈنگ میں ہے ویڈیو لنک ایک اچھی سہولت لیکن مسائل کا سامنا رہتا ہے،بلوچستان کے کیسز کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کیلئے موثر نظام ہوناچاہیے تاکہ بلوچستان کے لوگ اس مستفید ہوں اس وقت صوبے میں 5ججز کی جگہ خالی ہیں جس پر میرٹ پر تعیناتی عمل میں لائی جائیں،بلوچستان کے لوگ صرف اور صرف دستور کے اندر رہتے ہوئے انصاف مانگ رہے ہیں،آرٹیکل 4، 9اور 14پرعملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے،مذکورہ آرٹیکلز کی خلاف ورزی سے یہاں کے لوگوں میں نفرت پھیل رہاہے،کیسز کی سماعت کے علاوہ آئین کے تمام آرٹیکلز پرعملدرآمد کرانا عدلیہ کا فرض ہے،،انہوں نے کہاکہ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کے خلاف بار چیف جسٹس کے ساتھ کھڑی ہوگی،سب نے فرائض ادا کرکے چلے جانا ہے فیڈریشن کے چار اکائیاں ہیں اورآئین کے مطابق سب کوحق ملنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں