کورونا سے بچاؤ کے لئے تعلیم ادارے بند

صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد کورونا سے بچاؤ کے لئے پاکستان بھر میں 10جنوری 2021 تک تمام تعلیمی ادارے بند کر دیئے ہیں۔25دسمبر تک آن لائن تعلیم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور متعدد یورپی ممالک میں بھی کورونا کے مریضوں میں تیزرفتار اضافے کو دیکھتے ہوئے تعلیمی اداروں کو بند کردیاگیا ہے۔دراصل کورونا کی ویکسین تاحال کسی ملک میں اس درجے تک نہیں پہنچی کہ اس مرض کی پیشگی روک تھام کی جا سکے جیسا کہ پولیو، چیچک، ٹی بی اور بعض دیگر امراض کے حوالے سے دنیا ماضی کی بڑی آفتوں سے محفوظ ہے۔پاکستان ابھی ان ملکوں شامل نہیں ہو سکا جہاں پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو جھوٹے پروپیگنڈے کی مدد سے روکا جارہا ہے،پولیو ورکر قتل بھی ہو چکے ہیں۔حالانکہ سب جانتے ہیں کہ پولیو وائرس کے قطرے نہ پینے والے بچے اس کا شکار ہوکر زندگی بھر کے لئے معذور ہو جاتے ہیں۔مگر والدین اپنے جاہلانہ رویہ کی بناء پر اپنے ہی بچوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔دکھ کی بات ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والے کورونا کے جانی اور مالی نقصان سے باخبر ہونے کے باوجودپاکستان میں بھاری اکثریت ماسک پہننے کو بھی تیار نہیں۔حکومت نے تعلیمی ادارے بند کردیئے ہیں مگرپی ڈی ایم میں شقامل 11سیاسی جماعتیں جلسے جلوس جاری رکھنے پر بضد ہیں۔گزشتہ اتوار کو پشاور میں جلسہ منعقد کیاگیا تھا اور آئندہ ہفتے ملتان میں جلسہ کرنے کا فیصلہ تاحال برقرار ہے۔جبکہ دسمبر کے وسط میں آخری جلسہ مینار پاکستان(لاہور) پر کیا جائے گا۔پی ڈیم ایم کی قیادت کا خیال ہے کہ جلسوں سے پی ٹی آئی کی حکومت خوفزدہ ہے، اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں اور جنوری میں اسلام آباد کی طرف مارچ کے نتیجے میں عمران خان کو گھر بھج دیا جائے گا۔
اس کے برعکس وزراعظم عمران خان ہر دوسرے دن کسی تقریب سے خطاب کرتے ہیں اور یہ کہنا نہیں بھولتے کہ لاکھ جلسے کر لیں، انہیں این آر اونہیں ملے گا۔گویا انہیں یقین ہے کہ اپوزیشن کے جلسے جلوس ان کی حکومت کے لئے کوئی مسئلہ نہیں پیدا کر سکیں گے، وہ اپنے پانچ سال پورے کریں گے، بلکہ آئندہ انتخابات میں جیت کی امید بھی ان کے دل میں موجود ہے۔ان کے اتحادیوں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد بھی یہی سمجھتے ہیں۔جماعت اسلامی اپنی بساط کے مطابق ملک بھر میں حکومت مخالف جلسوں میں مصروف ہے،عوام کی حوصلہ افزا تعداد کے پیش نظراسے بھی توقع ہے کہ مہنگائی پر قابو نہ پانے اور بیروزگاری میں اضافے کے باعث پی ٹی آئی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر سکے گی۔امیرجماعت اسلامی سراج الحق یہ بھی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث بد دل اور مایوس ہو چکے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے حلقوں میں جانا بھی چھوڑ دیا ہے۔اس میں شک نہیں کہ 27ماہ گزرنے کے بعد بھی مہنگائی بے قابو ہے۔ اس ضمن میں کی جانے والی حکومت کی تمام تدبیریں الٹی ہو جاتی ہیں۔مخالفین یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ جب بھی وزیر اعظم چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہیں،قیمت کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد حکومت کے مستقبل حوالے سے بے قابو مہنگائی کو پی ٹی آئی کا دشمن نمبرایک سمجھتے ہیں۔ عام آدمی حیران ہے کہ ٹماٹر کے دام سیب سے زیادہ ہیں۔ان حالات میں پی ڈی ایم اپنی قسمت آزمانے سڑکوں پر آئی ہے تو اسے یکسر بے بنیاد خواہش کہنا آسان نہیں۔یہ الگ بات ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر حکومت کی مدد کو آ پہنچی ہے۔ عین ممکن ہے کہ جنوری میں کورونا اتنی شدت اختیارکر لے کہ اسلام آباد کی جانب مارچ اپوزیشن کے لئے آسان نہ رہے۔ ظاہر ہے اسپتالوں میں مریضوں کثیر تعداد کو دیکھتے ہوئے عام آدمی اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے گا۔
لیکن ملک ایسے مفروضوں سے نہیں چلائے جا تے اور نہ ہی حکومتیں گرائی جا تی ہیں۔پی ڈی ایم کو گلگت بلتستان میں حسب توقع کامیابی نہیں ملی۔پی ٹی آئی اپنے دعووں کے مطابق دوتہائی اکثریت سے آئندہ چند روز میں حکومت بنا لے گی۔ کہنے کو یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی ڈی ایم گلگت بلتستان میں الیکشن ہی نہیں لڑی،لیکن کیا مسلم لیگ نون اور پی پی پی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل نہیں؟ پی ڈی ایم ان کی شناخت نہیں؟عام آدمی یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ بجٹ کا ایک بڑا مسئلہ سالانہ خسارہ تھا جو بڑھتے بڑھتے 2018میں 20ارب ڈالر تک جا پہنچا تھا اور اگر اس وقت سعودی عرب اور یواے ای پاکستان کی مالی مدد نہ کرتے تو پاکستا ن قرضوں کی بروقت ادائیگی میں یقینا ناکام ہوجاتا۔پی ٹی آئی کی حکومت نے اس Current Deficitسے چھٹکارا حاصل کرلیا ہے،جبکہ اس دوران اس نے 10ارب ڈالر سالانہ پچھلے قرضوں کی قسط اور ان قرضوں کا واجب الادا سود بھی ادا کیا ہے۔اسے اپوزیشن بڑی مالیاتی کامیابی نہ کہے تب بھی حکومت عوام کے سامنے ضرور رکھے گی۔ جنوری میں اپوزیشن حکومت کو گھر نہ بھیج سکی تو اس کے معنے یہی ہوں گے کہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی۔شو آف ہینڈز سے اپوزیشن تاحال انکاری ہے، اورزیادہ پرانی بات نہیں، سیکرٹ بیلٹ میں اپوزیشن 64 ووٹوں کی بجائے صرف 50ووٹ حاصل کر سکی تھی اور وہی 50ووٹ فیصلہ کن مانے گئے جو بیلٹ بکس سے نکلے تھے۔یہی روایت مارچ میں دہرائی گئی تومارچ میں سینیٹ کے انتخابات کے بعد حکومت کی قانون سازی کی قوت بہترہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی باقی معاملات میں بھی اپوزیشن کی بارگیننگ پوزیشن مزید کمزور ہو جائے گی۔اپوزیشن کو مان لینا چاہیئے کہ اس کے پاس کسی سیاسی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ہر قدم انتہائی سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے۔میاں محمد نوازشریف اگر اپنی والدہ بیگم شمیم اخترکی تدفین کے لئے میت کے ساتھ جاتی امراء نہ پہنچے تو ان کے بیانیے کو بھی زک پہنچے گی جو پہلے ہی طوفانی ہواؤں کی زد میں ہے اور نون لیگ کی مشکلات بھی بڑھ جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں