جھالاوان کے حالات ایک بار پھر خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، غلام نبی مری
کوئٹہ :بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری نے کہا ہے کہ نااہل اور سلیکٹڈ دور حکومت میں ایک مرتبہ پھر بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی کوششیں جارہی ہیں، اگرفوری طور پر بی این پی کے مرکزی رہنما اور سیاسی و قبائلی شخصیت جان محمدگرگناڑی کی رہائی عمل میں نہ لائی گئی تو صوبے بھر میں احتجاج کی کال دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جھالان میں ماضی کے آمرانہ ادوار کی طرز پر اب ایک بار پھر حالات خراب کئے جارہے ہیں۔ صوبے میں عوام کے یوٹیلٹی بلز و دیگر مدات میں سیکورٹی کے لئے حاصل کئے جانے والے ٹیکسز صرف اشرافیہ کے اپنی سیکورٹی پر خرچ ہورہے ہیں بلوچستان میں کسی کی جان و مال محفوظ نہیں جس کی واضح مثال بی این پی کے مرکزی رہنما جان محمد گرگناڑی اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات کی گمشدگی، تاجر رہنما اللہ داد ترین کی دن دیہاڑے قتل ہیں اور یہ سب کچھ ایک مذموم منصوبے کے تحت جاری ہے تاکہ سیاسی و جمہوری پارٹیوں کے نمائندوں اور کارکنوں کو ان کی جدوجہد سے دستبردار کیا جائے مگر ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بی ا ین پی کی قربانیوں کی بڑی تاریخ ہے جنہوں نے آمرانہ قوتوں کے ادوار میں بھی وطن اور سرزمین، عوام کے ساحل وسائل کے لئے جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی اس کا سلسلہ جاری رہے گا ہمارے کارکن اور پارٹی رہنما ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں۔ بی این پی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے کبھی غیر جمہوری و مقتدر قوتوں کے سامنے سر نہیں جھکائے بلکہ ہمیشہ مضبوط اور پختہ ارادرے کے ساتھ ثابت قدم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج صوبے میں عملا حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے لوگوں کے جان ومال، چادر و چاردیواری محفوظ نہیں ہے۔ حکمرانوں کی کارکردگی صرف دعوؤں تک محدود ہیں سیکورٹی صرف ہائی پروفائل تک محدود تاہم عوام کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اور عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اربوں روپے امن وامان کے نام پر خرچ کرنے کے باوجود غریب عوا، م تاجر برادری، مزدور، ڈاکٹر، وکلا، صحافی، اساتذہ کوئی بھی محفوظ کیوں نہیں ہیں صوبے کے وسائل لوٹنے کے باوجود یہاں کی عوام کیوں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بی این پی کے مرکزی کونسل ممبر جان محمد گرگناڑی کو بازیاب کرایا جائے بصورت دیگر احتجاج کا راستہ اپناکر آئندہ کا سخت لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہوں گے۔


