پاکستان اسٹیل ملز کے نقصانات 230 ارب سے تجاوز کرگئے تھے، قائمہ کمیٹی برائے صنعت و تجارت کو بریفنگ
اسلام آباد: قائمہ کمیٹی برائے صنعت و تجارت کو بتایاگیا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کے نقصانات 230 ارب سے تجاوز کرگئے تھے، حکومت ہر سال 35 سے 40 کروڑ روپے اسٹیل ملز ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں فراہم کرتی تھی، 4ہزار 544 ورکرز اور ایک ہزار سے زائد آفیسر کیڈر ملازمین کو نکالا گیا، اسٹیل ملز کی 1268 ایکڑ اراضی لیز پر دی جائیگی،تخمینہ لگانے کے بعد کابینہ کمیٹی نجکاری فیصلہ کرے گی۔ بدھ کو ساجد طوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان اسٹیل ملز ملازمین کو نکالے جانے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ وزارت صنعت و تجارت حکام کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کے نقصانات 230 ارب سے تجاوز کرگئے تھے، حکومت ہر سال 35 سے 40 کروڑ روپے اسٹیل ملز ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں فراہم کرتی تھی۔ حکام نے بتایاکہ اسٹیل ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ملازمین کو نکالنے کا یہ فیصلہ کیا، نکالنے کا فیصلہ ملازمین سے حتمی مشاورت کے بعد کیا جانا تھا،سپریم کورٹ نے وزارت صنعت سے استفسار کیا کہ مل پانچ سال سے بند ترقیاں کیسے ہورہی ہیں،اسٹیل ملز کے ذمہ اربوں روپے واجب لادا ہیں۔ حکام نے بتایا کہ نیشنل بینک کو 51 ارب،سوئی سدرن کو 62 ارب اور حکومت پاکستان کو بھی 40 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔ رکن کمیٹی رانا محمد اسحق نے کہاکہ ہمارا اتنا بڑا ادارہ نقصان میں ہے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں۔ رانا محمد اسحاق نے کہاکہ نیب اور اینٹی کرپشن چھوٹے کیسز کو چھوڑے ایسے لوگوں کو منظر عام پر لائے اور سزا دے۔حکام نے بتایاکہ 4ہزار 544 ورکرز اور ایک ہزار سے زائد آفیسر کیڈر ملازمین کو نکالا گیا، اسٹیل ملز کی 1268 ایکڑ اراضی لیز پر دی جائیگی،پلانٹ اور مشینری کی لاگت کا تخمینہ لگایا جائے گا جو کمپنی کو منتقل کیا جائیگا۔ حکام نے بتایاکہ 30 سے 40 روز میں اراضی اور مشینری کی لاگت کا تخمینہ لگا دیا جائیگا،تخمینہ لگانے کے بعد کابینہ کمیٹی نجکاری فیصلہ کرے گی، سبسڈری اور ہولڈنگ دو کمپنیاں بنائی جائیں گی، حکومت کا اختیار ہوگا کہ انتظامی معاملات اپنے پاس رکھے۔حکام نے بتایاکہ 1975 کے بعد اسٹیل ملز کی پہلی مرتبہ تکنیکی ویلیوشن کی جارہی ہے،12 کمپنیوں جن میں چین، روس، کوریا اور یوکرین شامل ہیں جو اسٹیل ملز کو خریدنا چاہتی ہیں،اسٹیل ملز کی 19 ہزار ایکٹر اراضی کو صنعتی مقاصد کیلئے استعمال میں لایا گیا ہے۔ کمیٹی رکن خان موسیٰ زئی نے کہاکہ 2 سال ہوگئے ابھی تک نجکاری کا عمل شروع نہیں کیا گیا،اب اس حکومت کا بھی آدھا وقت گزر چکا ہے۔ وزارت صنعت حکام نے کہاکہ 13 جون 2021 تک پاکستان اسٹیل ملز کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرلیا جائے گا، رکن کمیٹی محمد اکرم نے کہاکہ اسٹیل مل کا ملازم اسٹیل مل کی زمین پر کوئی حق نہیں رکھتا، جن ملازمین کو نکالا جارہا ہے ان کو اس اراضی میں پلاٹس دیئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ہزاروں کی تعداد میں ملازم ہیں وہ کہاں جائیں گے۔کمیٹی نے ملازمین کے بقایاجات کی ادائیگی کے ساتھ پلاٹ دینے کی سفارش کردی۔ رکن کمیٹی اسامہ قادری نے کہاکہ ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک کے نام پر ان کے بقایا جات دیئے جارہے ہیں۔ایڈیشنل سیکرٹری وزارت صنعت نے کہاکہ گزشتہ 6 سال سے مل بند ہے اور ملازم کام نہیں کررہے اور تنخواہ لے رہے ہیں۔ اسامہ قادری نے کہاکہ سینکڑوں ملازمین نے خودکشیاں کی ہیں آپ کہہ رہے ہیں تنخواہ لے رہے ہیں، یہ حکومت چیزیں بیچ کر اپنے خزانے بھر رہی ہے میں اتحادی ہوں لیکن سچ بولوں گا۔


