عوام کے مفادات کا تحفظ کیسے؟

پی ڈی ایم 11سیاسی جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے،اس کادعویٰ ہے کہ 2018کے انتخابات میں انتخابی دھاندلی کے ذریعے عمران خان جیسے ناتجربہ کار شخص کو وفاقی حکومت کو سونپ دی گئی،اس غلطی کے نتیجے میں ملک ایک جانب آٹا چینی کے بحران کا شکار ہوگیا اور دوسری طرف قرضوں کے بے تحاشہ بوجھ تلے دب گیا۔چنانچہ عوام مہنگائی، بجلی، گیس اور پیٹرول کے مسائل میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔پی ڈی ایم کی دانست میں تمام مسائل کا واحد حل یہ ہے اس”سلیکٹڈ“ حکومت کو فوری طور پر گھر بھیج دیا جائے۔اس کاایک چار پانچ مراحل پر مبنی آسان ترین فارمولہ بھی پی ڈی ایم نے عوام کے سامنے پیش کیاہے۔پہلے مرحلے میں ملک بھر میں 16اکتوبر سے 13دسمبر تک بڑے جلسوں کا انعقاد، دوسرے مرحلے پر 31جنوری تک چھوٹے جلسوں کا انعقاداور گھر جانے کی گردان، یکم فروری کو اسلام آباد/پنڈی کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا جائے گا۔اس دوران (یا اس کے کئی ماہ بعد) کسی لمحے پی ڈی ایم کے رکن سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ (صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ)سے مستعفی ہوکر ملک میں ایسا سیاسی بھونچال لے آئیں گی کہ حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے، ضمنی انتخابات کا نام لینا بھول جائے گی اور گھر جانے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچے گا۔لیکن جیسے جیسے پی ڈی ایم کی تحریک ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتی گئی پی ڈی ایم کی تجربہ کار قیادت نے پہلے استعفے مؤخر کرنے اور اس کے بعد ضمنی انتخابات میں حصہ لینے پر نہ صرف رضامندی ظاہر کی بلکہ آج کل عوام کو ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے فائدے بھی بتا رہی ہے۔ اس نے 16اکتوبر 2020سے 14جنوی2021 کے درمیان ناتجربہ کار عمران خان کی نااہل حکومت کی ایک بہت بڑی سازش کا کھوج بھی لگا لیا ہے جس کا انکشاف پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے مالاکنڈ کے عوامی اجتماع میں کیا۔انہوں پشتو زبان میں حاضرین کو بتایا کہ عمران خان کی حکومت چاہتی ہے کہ ہم(پی ڈی ایم والے) ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کردیں اور پارلیمنٹ سے مستعفی ہو جائیں تاکہ وہ (عمران خان)دو تہائی اکثریت حاصل کرلے اور اس دوتہائی اکثریت کی مدد سے 18ویں ترمیم ختم کر دے۔لہٰذ پی ڈی ایم نے عمران خان کی مذکورہ سازش کو ناکام بنانے کے لئے فیصلہ کیا ہے کہ اب کچھ بھی ہوجائے ضمنی انتخابات میں ضرور حصہ لے گی، مستعفی ہونے کا فیصلہ معطل بلکہ منسوخ کرتی ہے،اور پنڈی جانے کے بارے میں بھی سازش کی بو آرہی ہے،لہٰذا لانگ مارچ اگر کرنا پڑا تو اس کی منزل اسلام آباد ہوگی۔یہی سیاسی فلسفہ نون لیگ کی قیادت بھی بیان کرنے لگی ہے۔پی پی پی 11رکنی اتحاد کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ابتدائی دنوں میں ہی پی ڈی ایم کی حکمت عملی سے اختلاف، مستعفی ہونے سے انکار اور ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کا حکیمانہ اور دلیرانہ اعلان کردیا تھا۔اسی دوران فنکشنل مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل محمد علی درانی اپنی پارٹی کے قائد پیر پگارا کی ہدایت پر میدان میں اترے اور ٹریک ٹو مذاکرات کی بنیاد رکھی،جیل میں قید رہنماؤں سے ملے، پی ڈی ایم کے سربراہ سے ملاقات اور ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔اس کے بعد سب نے دیکھا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کورونا کے باوجود براستہ امریکہ لندن پہنچے، پانچ روز قیام کیا،اور لندن سے واپس پاکستان پہنچ گئے ہیں۔اسے ٹریک ٹو کی تکمیل کہا جا سکتا ہے۔اب جے یو آئی بھی ضمنی انتخابات پر اپنے امیدوار لانے کے لئے سرگرم نظر آتی ہے۔نون لیگ اپنے امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔۔۔۔۔۔ عام آدمی سوچتا ہے کہ چالیس سالہ تجربہ رکھنے والی اعلیٰ قابلیت کی حامل پرانی سیاسی قیادت جیتی ہے۔۔۔ یا۔۔۔ نئے، ناتجربہ کار اور سیاسی داؤ پیچ سے بے خبرعمران خان جیتے؟ اس لئے کہ کل تک جو پی ڈی ایم مستعفی ہونے میں عوام کی نجات کے قصیدے پڑھتی تھی اب اس کے برعکس فلسفہ ہاتھ میں تھامے عام آدمی کے مسائل کا حل سمجھنے لگی ہے۔مولانا فضل الرحمٰن جوکچھ2018 کے نتائج آتے ہی کہہ رہے تھے،وہ عوامی مفادات میں تھا؟، ان کی 20جولائی 2020 والی سوچ درست تھی؟، یا مالاکنڈ کی احتجاجی ریلی سے خطاب کے دوان انہیں اچانک جو القاء ہوا، وہ درست ہے؟۔عام آدمی یہ پوچھنے کا حق رکھتاہے کہ ہمارے سیاست دان کب تک یہ کھیل جاری رکھیں گے؟ کب تک جلسوں میں سلیکٹرز کو دشنام طرازی؟اور اندرون خانہ چائے نوشی جاری رہے گی؟مولانا فضل الرحمٰن ایک مذہبی پارٹی کے سربراہ اور عالمِ دین ہونے کی حیثیت سے کسی بھی دوسرے سیاست دان کی نسبت بہتر طورپرجانتے ہوں گے کہ قرآن اس رویہ کو منافقت قرار دیتا ہے، اور یہ بھی کہتا ہے کہ منافقین کا ٹھکانہ جہنم کی سب سے نچلی تہہ ہوگا(حوالہ: سورۃ النساء آیت145)،انہیں عوام سے اس قسم کا سلوک نہیں کرنا چاہیئے۔ کوئی ا یک سیاست دان ایسا ضرور ہونا چاہیئے جس کے بارے میں سب کہہ سکیں کہ وہ عوام سے جھوٹ نہیں بولتا۔یاد رہے کہ وقت انتہائی قیمتی دولت ہے۔ وقت ضائع کرنے والی اقوام کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔پاکستانی عوام کا پہلے ہی کئی دہائیوں کا نقصان ہو چکا ہے۔چین اسی عرصے میں دنیاکی بڑی اقتصادی اور سیاسی قوت بن چکا ہے، جبکہ پاکستان چین سے اربوں ڈالر قرض مانگ کر برادر اسلامی ملک سعودی عرب (خادم حرمین شریفین) کو ادائیگی کر رہا ہے۔ملائیشیانہ جانے کی رسوائی بھی پاکستان کے ماتھے پر لگی ہے۔یہ ملک صرف مہنگائی کے عذاب میں مبتلاء بد قسمت عوام کا نہیں،عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے سیاست دانوں کی شناخت بھی یہی مقروض اور مفلوک الحال ملک ہے۔دنیا کا ہر انصاف پسند شخص یہی کہے گا کہ عام آدمی نے اس ملک کو اس حال تک نہیں پہنچایا، ذمہ داروں کے نام پانامہ لیکس اور براڈ شیٹ نے کئی دہائیاں پہلے پاکستان کے عسکری اور سول حکمرانوں کو بتا دیئے تھے۔کوئی مانے یا نہ مانے،سچ یہی ہے،حقائق یہی ہیں کہ دونوں اس جرم میں ایک دوسرے کے سہولت کار رہے ہیں۔موجودہ حکومت کے مشیروں میں بھی سہولت کاروں کاایک حصہ بیٹھا ہوا ہے۔ورنہ ڈھائی سال کے بعد براڈ شیٹ کے سربراہ کی شکایت سامنے نہ آتی۔تما م شہر دستانے پہن لے تو اس کے معنی یہ نہیں ہوسکتے کہ قاتل کوئی نہیں۔اب وقت آگیا ہے بلا تفریق سب کے دستانے اتروائے جائیں، سب کے ہاتھوں پر عوام کا لہو تلاش کیا جائے۔۔۔۔۔چاہے کوئی دبئی کے دو کمروں والے مکان میں رہائش پذیر ہو۔۔۔ یا لندن میں چار کمروں والے فلیٹ میں مقیم ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں