اغوا برائے تاوان جیسے جرائم روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہونگے،ضیالانگو
کوئٹہ:صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کی زیر صدارت امان وامان اور اسد خان اغوا کیس سے متعلق اعلی سطحی اجلاس۔اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت زمرک خان اچکزئی، رکن صوبائی اسمبلی اصغر خان اچکزئی،رکن صوبائی اسمبلی شاہینہ کاکڑ،ایڈیشنیل چیف سیکرٹری داخلہ حافظ عبد باسط، ڈی آئی جی کوئٹہ محمد اکرام اظہر و یگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں متعلقہ حکام کی جانب سے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی اور اسد اغوا کیس آئندہ لائحہ عمل اور کیے گے اقدامات بارے بریفننگ دی گئی دوران اجلاس موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے امن و امان قائم رکھنے، اغوا برائے تاوان کے سد باب کو ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ اغوا برائے تاوان جیسے جرائم روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہونگے۔عوام کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے کوئی بھی کسر نہیں اٹھا رکھی جائے گی عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنا ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے امن و امان سے متعلق اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیااجلاس میں صوبائی وزیر کا کہنا تھاکہا کہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔اغوا کے وارداتوں کے سو فیصد خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ امن و امان اور عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہیذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ صوبے کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے مزید موثر اقدامات اٹھائے جائیں جبکہ شہریوں کی دادرسی اور مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے صوبائی حکومت کی اولین ترجیح شہریوں کو بہترین پولیس سروسز بھی فراہم کرنا ہے۔ امن و امان اور عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہیجبکہ صوبائی وزیر داخلہ نے اسد خان کی جلد از جلد بازیابی کے لیے احکامات دیے۔


