اسٹیل مل پر تالاڈالنے کا حکم
سپریم کورٹ پاکستان اسٹیل مل کے ملازمین کی ترقیوں سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ بند مل کو کسی ایم ڈی، یا چیف ایگزیکٹو کی ضرورت نہیں ہوتی۔اسٹیل مل انتظامیہ اور افسران قومی خزانے پر بوجھ ہیں۔ملازمین سے پہلے سارے افسران کو اسٹیل مل سے نکالیں۔ 9فروری کو3وزراء اسد عمر، میاں سومرو،اور حماد اظہر کو طلب کر لیا ہے۔وفاقی وزراء کو سن کر فیصلہ کیا جائے گا۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ملی بھگت کے بغیرکوئی غلط کام نہیں ہوسکتا۔کیا حکومت نے اسٹیل مل انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی؟ مل بند پڑی ہے تو انتظامیہ کیوں رکھی ہے؟عدالت کو بتایا گیا کہ 49فیصد ملازمین نکالے جا چکے ہیں۔1800سے زائد افسر تھے،439رہ گئے ہیں،انتظامیہ تبدیل کر دی گئی ہے۔عدالت نے وکلاء سے پوچھاکیا انتظامیہ تبدیل کرنے سے مل چل پڑے گی؟عدالت نے ہدایت کی آج کے بعد کسی ملازم کو تنخواہ ادا نہیں کی جائے گی۔اجازت براہ راست سپریم کورٹ دے گی۔ملازمین کو بیٹھنے کی تنخواہ نہیں ملے گی۔مل کا 212ارب کا قرضہ ہے کون ادا کرے گا؟ اسٹیل مل میں بعض لوگوں نے بھرتی سے ریٹائرمنٹ تک ایک دن بھی کام نہیں کیا۔ مینجمنٹ اور ورکرز کوادارے کا احساس ہی نہیں۔جس کا جی چاہتا ہے،لے جاتا ہے، اسٹیل مل کو کسی بھی ورکر یا افسرنے اپنا خون نہیں دیا۔ورکر اپنے پیسے لینے کے لئے ریلوے ٹریک پر لیٹ جاتے ہیں۔ 3200ورکرز اور300افسران کو آج فارغ کردیں گے۔اور اسٹیل مل کو تالا لگانے کا حکم دیں گے۔کسی ملک کے ورکرز اور افسران کے بارے میں سپریم کورٹ ایسے ریمارکس دینا شروع کر دے تو سمجھ لینا چاہیئے کہ اس ملک میں اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے۔اور ان ورکرز اور افسران کو بھی ہوش آجانا چاہیئے کہ اب اخلاقی اقدار کو پامال کرنا ممکن نہیں رہا۔
پی آئی اے میں بھی ایسا ہی طوفان بد تمیزی مچایا گیا۔توقع کی جانی چاہیئے کہ اب پی آئی اے میں اصلاحی عمل رکے گا نہیں،اس لئے جعلی پائلٹس اسناد کا اجراء اب دنیا کی نظروں میں آچکا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی سا کھ پر بھی ایک سے زائد سوالیہ نشان آئے۔دنیا بھر میں بدنامی ہوئی۔آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔عزت بننے میں وقت لگتا ہے، مگر ذلت مسلط ہونے میں دیر نہیں لگتی۔پی آئی اے میں بد نظمی تمام حدیں عبور کر چکی ہے۔ایک جہاز چوری ہوکر غیر ملک پہنچ گیا، کسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔دوسرا جہاز ملائیشیا میں عدالت کے حکم پرروک لیا گیاکہ معاہدے کے مطابق لیز کی ادائیگی نہیں ہوئی تھی اور لندن کی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت تھا۔اس متنازعہ طیارے کو ملائیشیا کیوں بھیجا گیا؟ جبکہ 11غیر متنازعہ طیارے پی آئی اے کے پاس موجود تھے۔اس غلطی کا تعین کرنے کی تاحال کوئی کوشش نہیں کی گئی،لگتا ہے عالمی موڈ دیکھ کر معاملہ دبا دیا گیا ہے۔ مصلحتوں سے کام لیا جائے توکسی ادارے میں ڈسپلن قائم نہیں ہوتا۔تباہ شدہ ادارے کی بحالی ممکن نہیں رہتی۔پی آئی اے بھی ایک بیمار ادارہ ہے،برسوں سے قومی خزانے کو دن رات چوس رہا ہے۔اسٹیل مل جیسا ادارہ ہے، کبھی معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو اس کی تفصیلات بھی عام آدمی کے سامنے آجائیں گی۔ اب بھی کہا جاتا ہے کہ دیگر ایئر لائنز کے مقابلے میں ملازمین کی تعداد فی طیارہ تناسب سے بہت زیادہ ہے۔ یہ تعداد بین الاقوامی معیار تک لانے میں کون سی رکاوٹ ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ایک آرڈر جاری کیا جائے،اسی لمحے قومی خزانے کوخون چوسنے والی جونکوں سے نجات مل جائے گی۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی درجنوں مواقع پر پی آئی اے کو خرینے اور اسے منافع بخش ادارہ بنانے کی پیشکش کر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس ایسی ہی کوئی گیڈر سنگھی ہے اپنی وزارت عظمیٰ کے دورمیں یہ نسخہئ کیمیاء کیوں نہیں آزمایا؟ ہر بار نجکاری کی شرط کیوں لگائی جاتی ہے؟وزیراعظم سے زیادہ اور کون بااختیار ہو سکتا ہے؟
کوئی مانے یا نہ مانے اسٹیل مل کو اس انجام سے دوچار کرنے میں پی پی پی اور مسلم لیگ نون،دونوں کی اعلیٰ قیادت کا پس پردہ ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ دولت جمع کرنے کی اندھی اور بے لگام خواہش کی غلامی نے انہیں یہ دن دکھائے ہیں۔جنرل عبدالقیوم نے اسٹیل مل کو منافع بخش ادارہ بنا دیا تھا، پی پی پی نے اپنے پسندیدہ بیوروکریٹ کو چیئرمین بناکر ادارے کو تباہی کی ڈھلواں پھسلن پر لڑھکا دیا،نون لیگ نے اپنا حصہ ڈالا اور سپریم کورٹ کو ایسے تلخ ریمارکس دینا پڑے۔ توقع کی جا سکتی ہے حتمی فیصلے میں تمام پہلوؤں کااحاطہ کیا جائے گا۔خرابیوں کی نشاندہی کے ساتھ آئندہ ان کی روک تھام کی تجاویز بھی تحریر کی جائیں گی۔جامع فیصلہ ہی ملک سے کرپشن کے دیو کو شکست دینے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ باقی تمام مسائل اسی کرپشن کی زیر درختی ہے۔ابھی تک کرپشن کے سرپرست یہی سمجھ رہے ہیں کہ وہ بچ جائیں گے،ان کے ہم خیال بھی یہی کہہ رہے ہیں۔جبکہ اڑتی چڑیاکے پر گننے کی صلاحیت رکھنے والوں کی رائے مختلف ہے۔حالات جس تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، انہیں دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ فیصلہ کن معرکہ زیادہ دور نہیں۔پی ڈ ی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے لہجے سے بارودی بو کا مفقود ہو جانا،ایسٹبلشمنٹ کو اپنا کہنا اور لڑائی کی جگہ گلوں شکووں جیسے الفاظ استعمال کرنا بلاوجہ نہیں۔ باقی جملے پرانے نہیں سب کو یاد ہیں۔سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں۔وہ تیور بھی بلا وجہ نہیں تھے اور حالیہ لہجہ بھی بلاسبب نہیں۔ چار دہائیاں کسی مخصوص چاردیواری میں بسر کی جائیں تولیفٹ، رائٹ کی سمجھ آجاتی ہے۔سینیٹ کے انتخابی نتائج جو منظر سامنے لائیں گے مستقبل کے نقوش اسی سے نکھریں گے۔چشم کشا ہوں گے سمجھنے والے سمجھ جائیں۔26مارچ سینیٹ انتخابات کے دو ہفتے بعد کی تاریخ ہے۔پی ڈی ایم کا رویہ سارے راز کھول دے گا۔ماضی جیسا لانگ مارچ اور ویسا ہی دھرنامتوقع ہے۔ بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے۔


