ایک روز میں دو حکومتی فیصلے

اچھاہوا کہ حکومت اور سرکاری ملازمین دونوں نے ایک روز قبل پیداہونے والی بد مزگی کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا اور تنخواہوں میں 25فیصد اضافے کے نام اور اصطلاحی بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے یکم مارچ سے عبوری ریلیف اور یکم جولائی سے بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے پر آمادگی ظاہر کردی اور ملک بھی میں پائی جانے والی غم و غصے کی لہر آناً فاناً تحلیل ہوگئی۔وزیر دفاع نے سرکاری ملازمین پرہونے والے لاٹھی چارج اور آنسوگیس شیلنگ پر موقع پر جاکرسرکاری ملازمین سے معافی مانگ لی۔جبکہ وزیر اعظم نے بجٹ میں تنخواہوں میں مزید اضافے کی یقین دہائی کرائی ہے۔ جو ملازمین اپنی بنیادی تنخواہ کے 100 فیصد اضافہ پر پہنچ چکے ہیں وہ اس عبوری اضافے کے حقدار نہیں ہوں گے۔اسی طرح جوملازمین 31 مارچ 2021تک کارکردگی الاؤنس وصول کر رہے ہوں گے انہیں بھی یہ ریلیف نہیں ملے گا۔معاہدے پر وزیر داخلہ شیخ رشید احمد،وزیر دفاع پرویزخٹک، وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان اور ملازمین کی جانب سے گرینڈ الائنس کے قائدین اسلام الدین، رحمان باجوہ، حبیب الرحمٰن، امان اللہ خان، رانا اقبال،چوہدری سرفراز، اور سمیع اللہ نے دستخط کئے۔حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ اضافے کے نتیجے میں قومی خزانے پر 50ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔اس بوجھ کو 30جون 2021تک موجودہ بجٹ سے ہی پورا کرنے کے لئے وزارتوں کوتکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ کی ای سی سی سے منظوری لینے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں الگ سے فنڈز مختص کئے جائیں گے۔چاروں صوبوں کو بھی ہدایت بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ بھی اپنے ملازمین کو اس فارمولے کے تحت تنخواہوں میں اضافہ کی سہولت فراہم کریں۔توقع کی جانی چاہیئے کہ صوبے میں ملازمین کے احتجاج پر نکلنے کاانتظار نہیں کریں گے، وفاق نے فارمولاتیار کر لیا ہے، انہیں انہی خطوط پر چلتے ہوئے کام کرنا ہے۔روایتی تساہل سے گریز کیا جائے۔
دوسرا فیصلہ ملکی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی مذہبی تنظیم کی جانب سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر طویل دھرنے،خونی تصادم اور اس کے بعد سرجھکا کر قائدین کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے کی روایت دہرانے کی بجائے دھرنے کی تاریخ (26فروری) سے پندرہ روز پہلے ہی مذاکرات کے ذریعے ایک معاہدہ کر لیا،مذکورہ معاہدے کے تحت حکومت نے تحریک لبیک کو یقین دلایا ہے کہ 16نومبرکے لبیک سے کئے گئے معاہدے کو 20اپریل تک پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور معاہدے کی شقوں پر فیصلہ اب پارلیمنٹ میں ہوگا۔وزیر اعظم نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان معاہدہ ہوگیاہے اور تحریک لبیک پاکستان نے اپنی ڈیڈ لائن میں 20اپریل تک توسیع کر دی ہے۔یاد رہے کہ یہ معاہدہ مسلم لیگ نون کے دور میں فوجی جرنیل کی ضمانت پر ضبط تحریر میں لایا گیا تھا اور دھرنے کے شرکاء میں سے بعض کو واپسی کا کرایہ بھی ادا کیا گیا تھا اور یہ منظر میڈیا نے رپورٹ بھی کیا تھا۔لبیک تحریک پاکستان اپنے معاہدے پر عمل درآمد کے لئے ایک اور دھرنا دینا چاہتی تھی۔لوگوں کے ذہنوں میں ابھی تک سابقہ دھرنے کی تلخ یادیں محفوظ ہیں۔نون لیگی حکومت آج بھی ماضی کی تاریخ دہرانے کے سوا کچھ نہ کرتی،مگر موجودہ حکومت نے سو جوتے اور سو پیاز کھانے کا تماشہ ایک بار پھر عوام دیکھتے۔اچھا ہوا کہ بدمزگی پیدا ہونے سے پہلے ہی باوقار انداز سے مذاکرات کا راستہ کھلا تھا، اور حکومت نے بد مزگی کا انتظار نہیں کیا، نومبر میں کئے جانے والے معاہدے پر عمل درآمد کا ممکنہ راستہ باہمی رضامندی سے نکال لیا۔آگے کا کام پارلیمنٹ کا ہے، پارلیمنٹ خوش اسلوبی سے کوئی احسن حل تلاش کر لے گی۔حکومت فرانس تک پاکستانی عوام کی ناراضگی کے جذبات پہنچانا ہیں۔ایوان میں تمام پارٹیاں سر جوڑ کر بیٹھیں گی، اپنی اپنی بصیرت کے مطابق رائے دیں گی۔متفقہ قرار داد سامنے آجائے گی۔ عوام کی جان و مال بھی محفوظ رہے گی۔
جمہوری سیاست میں سب کو اپنی رائے دینے کاحق حاصل ہوتا ہے۔نہ اپوزیشن کو کمتر سمجھا جاتا ہے اور نہ حکمران خود کو عرش بالا کا مکین سمجھتے ہیں۔گزشتہ چار دہائیوں میں اس سوچ میں بوجوہ کچھ عدم توازن پیدا ہوگیا، بعض گھرانے یہ سمجھنے لگے کہ پاکستان کے عوام پر انہیں تاحیات حق حکمرانی کسی غیبی طاقت نے تا قیامت ودیعت کر دیا ہے۔اب دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے وزارت عظمیٰ اسی خاندان کے پاس رہے گی،دو چار سال بعد انتخابات کا دھونگ رچایا جائے گا ایوان میں منظر تبدیل ہوجائے گا، سرکاری بینچوں پر بیٹھنے والے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اپوزیشن بینچوں پر جا بیٹھیں گے، گویا جانتے ہوں کہ انہیں پہلے سے اس تبدیلی کا علم تھا اور اپنی مرضی سے یہ تبدیلی اتنے عرصے کے لئے قبول کی ہے۔یہ تماشہ خاموشی سے مزید کچھ عرصے تک جاری رہ سکتا تھا مگر نہ جانے کیوں 2018کے انتخابات میں تیسری پارٹی متعارف کرانے خیال مقتدرہ کے ذہن میں کہیں سے سرایت کر گیا۔یہ فیصلہ چار دہائیوں سے کرسیاں اور پگڑیاں تبدیل کرنے والوں کو ناگوار گزرا۔وہ اس کے لئے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار نہیں تھے۔ انہوں نے حسب سابق اپنی قوتِ بازو کو آزمانے کی کوشش کی مگر وہ مطلوبہ زورِ بازو نہیں رکھتے تھے۔64سینیٹرز با آوازِ بلند جو یقین دلا رہے تھے، سیکرٹ رائے دہی کا موقع ملتے ہی ان میں سے تیرہ/ چودہ اپنے قول پر قائم نہ رہ سکے۔انسان اندر سے کمزور ہے۔پہر ایک کے ساتھ مجبوریوں کا ایک بوجھ بھی موجود ہے۔ابھی سیاست چشم ابرو کی محتاج ہے، مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئی،2018میں لین دین کی ویڈیوز میں نوٹ وصول کرنے والے پی ٹی آئی کے ہیں ان کے نام لے کر پی پی پی والے پی ٹی آئی کو مطعون کر رہے ہیں مگر ووٹوں سے سینیٹرز بننے والے ابھی اپنے عہدوں پر موجود ہیں، اور وہ پی پی پی کے سینیٹرز کہلاتے ہیں،جب ان کے نام سامنے آئے تو پی پی پی والے کیا جواب دیں گے؟بات نیب، ایف بی آراور اینٹی کرپشن تک پہنچے گی، تب یہ معزز سینیٹرز اپنے دفاع میں کیا کہیں گے؟،”اب اگر ہمارے اثاثے ہمارے ذرائع آمدنی سے زیادہ ہیں تو تمہیں کیا؟“ والا جواب سن کر قہقہ لگانے والوں کی زبانوں پر تالے لگے ہیں، یہ بڑی تبدیلی ہے،اور یہ دھیرے دھیرے آیا کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں