21فروری مادری زبانوں کی عالمی دن
آج 21فروری مادری زبانوں کے عالمی دن کے طور پر ہر سال منایا جاتا ہے اس وقت دنیا بھر میں تقریباً سات ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں ان میں بلوچی زبان بھی شامل ہے جو بلوچستان سندھ پنجاب ایرانی بلوچستان افغانستان متحدہ عرب امارات ترکمانستان افریقہ سمیت بہت سے عرب ممالک میں بولی جاتی ہے بلوچی زبان کی رسم الخط نہ ہونے کی وجہ سے اسے مختلف ممالک میں مختلف رسم الخط میں تحریر کیا جاتا ہے بلوچی رسم الخط کے لئے بہت سے بلوچ دانشوروں اور مصنفین نے اپنے اپنے طور پر رسم الخط بنائے مگر تاحال ایک رسم الخط پر اتفاق نہیں ہوسکا سکا بلوچی زبان کی ترویج وترقی کے لئے بلوچ ادیب دانشوروں اور شعراء نے یقیناً اہم رول ادا کیا ھے مگر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ تعلیم یافتہ ہر دوسرے بات پردوسرے زبانوں کے الفاظ بلوچی زبان میں شاملِ کرتے ہیں جو بلوچی زبان کے لئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن رہےہیں ہر دوسرے بات میں تعلیم یافتہ طبقے انگریزی اردو کے الفاظ کو فخریہ پیشکش کرتے ہیں جس سے زبان کے بہت سے الفاظ معدوم ہوتے جا رہے ہیں کہنے کا مطلب بلوچی زبان کو جتنی نقصان تعلیم یافتہ طبقے کی وجہ سے ہوا ہے وہ آن پڑھ یا بغیر تعلیم یافتہ طبقے نے نہیں پہنچا یا ھے یہ الگ بات ہے کہ تعلیم یافتہ طبقے کی بلوچی زبان ترقی اور تحریروں میں اہم رول رہا ھے اسی وجہ سے بہت سی زبانیں معدومیت کے خطرے سے دو چار ہیں عالمگیریت یا غالب زبانوں کے استعمال کی طرف منتقل ہونے کے باعث بہت سے زبانوں کےمعدوم ہونے کا خطرہ ہےدنیا بھر میں مادری زبانوں کو لاحق خطرات میں غالب زبانوں کا پھیلاؤ معاشی معاشرتی اور سیاسی دباؤ و تعلیم اور وسائل کی کمی اور ثقافتی انظمام شامل ہیں یہ زبان کی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں جہاں ایک زبان کے بولنے والے اسے زبان کے حق میں چھوڑ دیتے ہیں لہذا یہ ضروری ہے کہ لسانی تمدن اور کثیرالسانی معاشرے کو فروغ دیں اور اس کے تحفظ کو جاری رکھا جائے اور مادری زبانوں کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کیا جائے ان زبانوں کے معدوم ہونے کے پیش نظر ان کی دستاویزات حروف تہجی رسم الخط اور حفاظت کے لیے کام جاری رکھنا چاہیے ہر زبان کے مرکز میں اس کے بولنے والے ہوتے ہیں جو اپنی زبان اور ثقافت کو انے والے نسلوں تک پہنچاتے ہیں مادری زبان کا عالمی دن ہر سال 21 فروری کو ثقافتی تنو اور کثیر النسانی معاشرے کو پرورد دینے کے لیے دنیا بھر میں منایا جاتا ہے جس میں خطرے سے دوچار زبانوں اور بولیوں کے استعمال اور تحفظ کے لیے تقریبات سرگرمیاں منعقد ہوتے ہیں اور مادری زبان کا مقام ماں کی طرح مقدس ہے مادری زبانوں کو محفوظ کرنا ایک طویل المدثی کوشش ہے چونکہ بلوچی مے وتی ماتیں زبان انت بلوچی زبان کے فروغ اور ترقی کے لیے بلوچ دانشوروں مصنفین شاعر ادیب سمیت ہر طبقہ فکر کو اپنے حصے کا کام کرنا چاہیئے ایک دن کے سیمنار سے لوگوں میں زبان کے حوالے ٹ شعور آگاہی پیدا کرسکتے ہیں اور ہر بلوچ کو چاہیئے کہ اپنی مادری زبان کے تحفظ کے لیے دوسرے زبانوں کے الفاظ کا چناؤ نہ کریں ضرورت اس امر کی ہے کہ 21فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن منانے کی بجائے اگر مقامی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہِ دیا جائے تو مستقبل میں یہ زبانیں معدومیت سے بچ سکتی ہیں بلوچی زبان وادب کے لئے سنجیدگی سے کام کی ضرورت ہے اس سلسلے میں ہر فرد کو آگے آنا چاہیئے کیونکہ زبان کے بغیر کوئی قوم نہیں کہلا تا
بلوچی مے وتی ماتیں زبان انت


