اسلام آباد ہائیکورٹ پر حملہ کیس:جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا مسترد
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ہائیکورٹ حملہ کیس میں پولیس کی طرف سے بے گناہ وکلاء کو ہراساں کیے جانے کے خلاف کیس میں سیکرٹری اسلام آباد ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی طرف سے جوڈیشل کمیشن تشکیل کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بارایسوسی ایشن واقعہ میں ملوث وکلاء کی نشاندہی کیلئے جے آئی ٹی کی معاونت کرے۔گذشتہ روز ایڈووکیٹ جواد نذیر کی درخواست پر سماعت کے دوران سیکرٹری ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سہیل اکبر چوہدری، رخوان عباسی، راجہ انعام امین منہاس، آصف گجر، شعیب شاہین، نازیہ بی بی،دانیال حسن اور دیگر کے علاوہ ایس پی صدرسرفراز ورک اور پولیس حکام عدالت پیش ہوئے، اس موقع پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ گزارش کی تھی کہ ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے صدر آئیں،لیکن نہیں آئے،جنہوں نے ہائیکورٹ پر حملہ کیا ان کی نشاندہی بار کرے تاکہ کسی بے قصور کو ہراساں نا کیا جا سکے،جب سب اس کی مذمت بھی کرتے ہیں تو ملوث کی نشاندہی بھی کریں،ہائیکورٹ پر حملہ کرنے والے سارے بار کے وکلا تھے آدھے سے زائد کو میں جانتا ہوں،بار کے دونوں صدور بھی اس وقت موجود تھے ان کی بے بسی بھی میں نے دیکھی ہے،جنہوں نے پانچ گھنٹے ججز کو یرغمال رکھا وہ اس انتہائی گھناؤنے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں،یہ واقعہ بالکل غلط ہوا ہے اس میں ملوث لوگوں کو مثالی سزا ملنی چاہیے،چیف جسٹس آف پاکستان کا بھی فون آیا تھا لیکن میں نے کہا ہائی کورٹ کومیدان جنگ نہیں بننے دوں گا،مجھے کہا گیا کہ کاروائی کے لیے تیار ہیں لیکن میں نے کہا کہ میں بالکل میدان جنگ نہیں بننے دوں گا،میں اس کیلئے بھی تیار تھا کہ آئیں اور مجھے جان سے مار دیں،اس موقع پر سیکرٹری ہائیکورٹ بار سہیل اکبر چوہدری نے جوڈیشنل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ایک سو لوگوں کے رویہ کی وجہ سے بار کی عزت داؤ پر ہے،میں نے کسی کا نام نہیں لیا آپ اور صدر صاحب کی بے بسی بھی اس دن میں نے دیکھی ہے،ہم سب ٹرائل پر ہیں نیشن بھی ہماری طرف دیکھ رہی ہے میرا اعتماد بار پر ہے،سب لوگ یونیفارم میں تھے بار کی بھی عزت اس میں ہے کہ ان لوگوں کی نشاندہی کریں،چیف جسٹس ججز صدر اور سیکریٹری سب اس وقت بے بس تھے،چھ ہزار کی بار میں ایک سو لوگوں نے بار کی عزت داؤ پر لگائی ہے، ہائی کورٹ پر دھاوا بولا گیا اور یہ ناقابل برداشت ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت پہلے ہی ہدایات جاری کر چکی ہے کہ صرف ان وکلاء کے خلاف کارروائی کریں جو واقعہ میں ملوث ہیں،جن وکلا پر صرف شبہ ہے ان کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے، چیف جسٹس کو پانچ گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا مگر میرا کوئی غصہ نہیں ہے،یہ معاملہ قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے،آپ وکلاء اس ادارے کے محافظ ہیں، آپ ہی واقعہ میں ملوث وکلا کی نشاندہی کریں،جے آئی ٹی نے رپورٹ دی ہے کہ وکلا اور بار ان سے تعاون نہیں کر رہے،اس وقت ذمہ داری بارز کی ہے، میں نے اپنی آنکھوں سے بار کے صدر اور آپ سیکرٹری کو بے بس دیکھا، میں نے چیف جسٹس پاکستان کو بھی بتایا کہ کوئی ایکشن لے کر ہائی کورٹ کو میدان جنگ نہیں بننے دوں گا،میں نے کہا کہ آپ آئیں اور آ کر بے شک مجھے مار دیں مگر ایکشن لے کر اس کو تماشہ نہیں بناؤں گا،سہیل اکبر چوہدری ایڈووکیٹ نیکہاکہ پھر اس معاملے کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ سب کو معلوم ہے کہ یہ سب کس نے کیا، اس کے لیے کسی کمیشن کی ضرورت نہیں،قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، انتظامیہ اور پولیس کی بنائی گئی جیآئی ٹی ہی کام کرے گی، ہمیں موقع ملا ہے، اللہ کی طرف سے کہ مثال بنائیں سب قانون کو جوابدہ ہیں، یہاں فوکس سے نہیں ہٹیں گے نہ ہی بارکی سیاست یہاں ہوگی،راجہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ نے کہاکہ ایک وکیل کا نام آتا ہے اور پولیس اس نام کے تمام وکلا کو پکڑنا شروع کر دیتی ہے، چیف جسٹس نیکہاکہ آپ کو معلوم ہے کہ وہ پلاننگ کے ساتھ آئے تھے اور باہر میڈیا والوں کو مارا اور وڈیوز ڈیلیٹ کی ہیں،اس کورٹ کا ہمیشہ سے بارز پر اعتماد رہا ہے، صرف چند لوگوں نے بار کا امیج خراب کیا ہے،اگر ایسا کسی سیاسی جماعت کے لوگوں نے کیا ہوتا تو ریاست ان کے ساتھ کیا کرتی؟شیر افضل ایڈووکیٹ نے کہاکہ عدالت عالیہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا ہم سب کو دکھ ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ صرف میرا ایشو نہیں، آٹھ دیگر ججز کو بھی محصور رکھا گیا، یہ ادارے کا معاملہ ہے،کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا اگر مگر نہیں چلے گا قانون اپنا رستہ خود بنائے گا،عدالت نیہائیکورٹ بار کے سیکریٹری سہیل چوہدری کو ملوث ملزمان کی نشاہدہی کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ ہائی کورٹ پر حملے والے پلان کرکے آئے تھے،اگر یہ ایک سیاسی جماعت کے لوگوں نے کیا ہوتا تب قانونی ادارے کیا کرتے، شیر افضل ایڈووکیٹ نے کہاکہ بڑی تعداد میں وکلاء نے اس معاملے کی مزمت کی،اگر پولیس اپنی ڈیوٹی کرتی اور ان لوگوں کو گیٹ پر ہی روکتا تو ایسا واقع پیش نہ ہوتا،چیف جسٹس نے ایس پی صدر کو ہدایت کی کہ بار کے ساتھ رابطے میں رہیں کوئی بے قصور گرفتار نہ ہو،بارز ہی آپ کو سارے نام دیں گے،جو بے قصور وکلاء گرفتار ہوئے تھے ان کو رہا کیا گیا،چیف جسٹس نے کہاکہ جو کچھ بھی ہوا سب میرے آنکھوں کے سامنے ہوا مگر میں نے کسی کا نام نہیں دیا،چند لوگوں کی وجہ سے یہ عدالت اس بار کو خراب نہیں ہونے دیں گے،یہاں ایسے واقعات آئے ہیں یہاں بہت سارے لوگوں نے انکو روکا ہے،اس موقع پر چیف جسٹس نے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ شیر افضل صاحب بڑا گور گھور کے دیکھ رہے ہیں،جس پرکمرہ عدالت میں قہقہیلگ گئے،چیف جسٹس نے کہاکہ یہ معاملہ بار کی عزت کا سوال ہے اسی لئے بار ہی اس معاملے کو دیکھیں گے،سیکرٹری بار نے کہاکہ بار کے عہدیداران کو اس کمیشن میں بٹھائیں تاکہ معاملات کو حل کریں گے، چیف جسٹس نے کہاکہ ہم کسی کمیشن میں نہیں جائیں گے،اس واقعے میں صرف چیف جسٹس ہی نہیں، صدر اور سیکرٹری بار بھی محصوراوربے بس تھے، اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بے قصور وکلاء کو ہراساں کرنے پر وکلاء سے معذرت کرتے ہوئے مذکورہ بالا ہدایات کیساتھ سماعت ملتوی کردی#/s#


