نئے لوگوں کو ٹکٹ دینے سے پرانے اور نظریاتی کارکنوں کی دل شکنی ہوئی ہے، ناراض رہنماء پی ٹی آئی
کراچی : پاکستان تحریک انصاف سندھ کے ناراض رہنماؤں نے کہا ہے کہ ہمیں سینیٹ الیکشن پر تحفظات ہیں، نئے لوگوں کو ٹکٹ دینے سے پرانے اور نظریاتی کارکنوں کی دل شکنی ہوئی ہے، نظریاتی اورپرانے کارکنوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا،سینیٹ الیکشن میں چند ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیئے گئے ہیں جو سرتاپا کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں،ہم اپنی پارٹی کے خلاف پریس کانفرنس کرنے نہیں آئے،ان خیالات کا اظہار صداقت جتوئی، اللہ بخش انڑ، ممتاز علی شاہل گل محمد رند، مبین جتوئی اور محفوظ عرسانی نے پیر کو کراچی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان نے کرپشن کے خلاف تحریک شروع کی ہے لیکن سینیٹ الیکشن میں چند ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیئے گئے ہیں جو سرتاپا کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں اور نیب زدہ ہیں۔ ایسے افراد کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا جانا خان صاحب کے پروگرام اور منشور کو خراب کرنا ہے۔سیف اللہ ابڑو پر نیب میں 90 ارب روپے کے پروجیکٹ میں کرپشن کے حوالے سے کیس چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں سیف اللہ ابڑو کو ٹکٹ دیا گیا جبکہ انہوں نے 2018ء میں پی ٹی آئی جوائن کی ہے جس سے سینئر رہنماؤں اور کارکنوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ ایسے لوگوں کو ٹکٹ دینے پر صرف ہمیں ہی نہیں بلکہ پورے سندھ کو تحفظات ہیں جبکہ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ورکرز کو ٹکٹ دیں گے لیکن اس کے بالکل برعکس کیا گیا۔ نظریاتی اورپرانے کارکنوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یک طرف شوہینڈ کی بات کی جاتی ہے دوسری طرف کرپشن کی جارہی ہے۔ ہم خان صاحب کے ٹائیگرز ہیں۔ چند ایسے آدمی جو اے ٹی ایم کو لیے کر چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلمانی لیڈر سے درخواست کرونگاکہ اندرون سندھ بھی ایک ٹینکوکریٹ کی سیٹ جانی چاہے۔


