سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ مواخذے سے بچ نکلے
امریکی سینیٹ نے واشنگٹن میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذہ سے بری ہوگئے ہیں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے:”اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت کمزور ہے، عدم اعتماد کا شکار ہے ہمیں اس کادفاع کرنا ہوگا، انتہا پسندی اور تشددکی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں، سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جھوٹ کو شکست دینے کے لئے سچ کادفاع کریں“۔دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی مسترد کرنے کے سینیٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امریکہ کو عظیم بنانے کا تاریخی اور خوبصورت لمحہ ہے۔ابھی تو شروعات ہوئی ہیں، آنے والے مہینوں میں اور بہت کچھ بتانا ہے، امریکی برتری کے حصول کیلئے مل کر اپنا ناقابل یقین سفر جاری رکھنے کا منتظر ہوں۔یاد رہے کہ سابق صدر ٹرمپ لے خلاف مواخذہ کی یہ دوسری کارروائی تھی۔ وہ مناظر ابھی لوگوں کی نظروں سے محونہیں ہوئے ہوں گے کہ مشتعل افراد پارلیمنٹ کی دیواریں عبورکرکے اس لئے پارلیمنٹ میں داخل ہوئے کہ پارلیمنٹ انتخابی عمل کی رسمی کارروائی نہ کر سکے۔اور اراکین اپنی جان بچانے کے لئے محفوظ مقامات کی طرف بھاگ رہے تھے۔کہا گیا تھا کہ امریکی سیاسی تاریخ میں پارلیمنٹ پر حملے کا159سال بعدیہ دوسرا واقعہ تھا۔گویا امریکہ میں جمہوریت ترقیئ معکوس کرکے 159سال بعد اسی مقام پر کھڑی نظر آئی جہاں 1861میں پہنچی تھی۔ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے میں امریکیوں نے سیاسی بلوغت حاصل کی تھی اسے آن واحد میں بھک سے دھواں بنا کر ہوا میں اچھال دیا تھا۔امریکہ پاکستانی سیاست دانوں کے لئے بھی بڑی جاذبیت رکھتا ہے۔ موجودہ وزیر اعظم عمران خان بھی امریکی نتخابی شیڈول سے بہت متأثر ہیں۔امریکہ پاکستان سے بہت دور ہونے کے باوجود پاکستانیوں کے لئے اجنبی نہیں۔اس کی ایک وجہ یہ سمجھی جا سکتی ہے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی ہماری مقتدرہ نے ہمسایہ ممالک سے فاصلہ رکھنا پسند کیا اور جاپان کے دو شہروں (ہیروشیمااور ناگا ساکی)پر ایٹم بم گرانے والے امریکہ سے دوستی کی مضبوط بنیاد رکھ دی جو کئی نشیب و افراز سے گزرنے کے بعد آج ایسی شکل اختیار کر چکی ہے کہ اس کی موجودگی اور عدم موجودگی میں تمیز کرنا سیاست کے طالب علم کے لئے آسان نہیں رہا۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن پاکستان کی نفسیات،جیو پولیٹکل پیچیدگیوں سے دوسروں کی نسبت زیادہ باخبر ہیں۔پاکستان کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ان کے انتخابی مہم کے دوران دیئے گئے بیانات بھی اس خیال کو تقویت دیتے ہیں۔26جون2020کواس وقت کے صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے کہا تھا:”بھارت شہریت کا متنازعہ قانون واپس لے، کشمیریوں کو حقوق دے“۔لیکن امریکہ میں لازم نہیں کہ انتخابی مہم کے دوران جو کچھ کہا جائے حلف برداری کے بعد اس پر عمل بھی کیا جائے۔ایرانی امور کی دیکھ بھال کے لئے اسرائیلی انٹیلی جنس کے سربراہ کی تعیناتی سے اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیئے۔ نائب صدر کی حیثیت میں اور مکمل صدر کی حیثیت میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔اور یہ فرق حلف برداری کے بعد ہی بتدریج اپنا اثر دکھاتا ہے۔انہیں اس خطے میں چین اور بھارت کے تعلقات میں ایک بڑی تزویراتی تبدیلی ملی ہے جو اس سے پہلے ناپید تھی۔بھارت جس ڈپلومیٹک انداز میں لداخ مسئلے کی پیچیدگیاں دور کرنے میں مصروف ہے،ممکن ہے پس پردہ امریکی مشاورت بھی شامل ہو لیکن فرنٹ پر بھارت تنہا معاملات سدھارنے کی کوشش کرتادکھائی دیتاہے۔امریکہ کی جانب سے مکمل خاموشی ہے۔اصل اسباب و علل سے بھارت اور امریکی حکومت باخبر ہو گی۔خود مختار ریاستیں اپنے راز اپنے سینوں میں محفوظ رکھنا جاتی ہیں، گلی کوچوں میں افشاء کرنے سے حتی الامکان گریز کرتی ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ضرورت کے مطابق معاہدے کی کچھ شقیں عوام کی تسلی کے لئے ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔جو بائیڈن کو بدلے ہوئے حالات میں خطے میں اپنی بصیرت اور تجربے کے مطابق کارکردگی دکھانا ہے۔امید کی جانی چاہیئے کہ وہ کامیابیاں سمیٹیں گے،ایک دانشمند سربراہ اور جذباتی صدر میں یہی نازک فرق ہوتا ہے کہ وہ نہ غیر ضروری گفتگو کرتا ہے اور نہ ہی پل پل اپنا راستہ تبدیل کرتاہے۔انہیں امریکہ کے اندر بھی مشکل حالات کاسامنا ہے۔سابق امریکی صدر کے بارے میں مواخذے میں بریت کے فیصلے سے انہیں صدمہ پہنچاہے۔ورنہ وہ یہ نہ کہتے کہ اسفیصلے سے جمہورت کا کمزور ہونا ثابت ہوتاہے۔جمہوریت عدم اعتماد کا شکار ہے۔امریکہ میں تشدد اور انتہا پسندی کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اقتدار کے آخری دنوں خلیجی ریاستوں میں بھی اسرائیل کی دوستی کے نام پر نئی سیاسی رنجشوں کا بیج بو گئے ہیں۔اس کے مثبت اور منفی ثمرات جو بائیڈن کی حکومت کو ہی بھگتنا ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے بعض بیانات سے یہ تأثر ملتا ہے کہ وہ خودکوپہلے کی نسبت زیادہ غیر محفوظ سمجھتی ہے۔ایران نے پاسداران انقلاب کے کمانڈرجنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد امریکی فوجی بنکرز پر جو اچانک حملہ کیاتھا،اسے دیکھتے ہوئے امریکہ کو کہنا پڑا تھا کہ قتل میں بدلے کاسلسلہ
یہاں روک دیا جا ئے کہ یہ کافی ہے۔اب ایران نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکیوں کے ٹرائل کے لئے تہران اور بغداد میں دو عدالتیں قائم کرکے ایک علامتی اشارہ تو دے دیاہے۔اس میں یہ پیغام موجود ہے کہ تنازعہ اپنی جگہ زندہ ہے۔حل طلب ہے،اسے مردہ نہ سمجھا جائے۔بارودی سرنگ کی طرح ہے کسی نے اس پر سے گزرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کی تو پھٹ سکتی ہے۔امریکہ کو اس بدلی ہوئی اور کسی قدر ناراض دنیامیں اپنا مقام بنانا ہے۔اسی تناظر میں پاکستا ن کو بھی مناسب حکمت عملی وضع کرناہوگی۔ دنیابھر کے عوام جنگ نہیں چاہتے، امن کی خواہش رکھتے ہیں۔عوام کو مایوس نہ کیاجائے۔


