کنٹرول لائن پر مکمل جنگ بندی

اگلے روز پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزکے ہاٹ لائن رابطے کے دوران کنٹرول لائن پر مکمل جنگ بندی،ایک دوسرے کے تحفظات اور بنیادی مسائل حل کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔پاک فوج کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) اور بھارتی وزارت دفاع نے الگ الگ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ کہ تمام معاہدوں،مفاہمتوں اور لائن آف کنٹرول سمیت دیھت سیکٹرز پر جنگ بندی 24فروری کی شب سے سختی کے ساتھ پابندی کی جائے گی۔مذکورہ رابطے اور اتفاق رائے کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس اتفاق رائے کا خیر مقدم کیا ہے۔ایل او سی پر جنگ بندی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، چاہتے ہیں کہ دونوں ملک بنیادی مسئلے کے حل کی طرف پیشرفت کریں۔امریکہ کے ترجمان اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس تناظر میں کہاہے کہ بائیڈن انتظامیہ دونوں ممالک پر کنٹرول لائن کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک ماہ سے زور دے رہی ہے۔ (یاد رہے کہ اسے اقتدار سنبھالے ہوئے بھی ایک ماہ ہی پوراہوا ہے)۔پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کی جانب جاری ہونے والے اعلامیہ کو اقوام متحدہ اور امریکی ترجمان نے حوصلہ افزا اقدام کہا ہے۔اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اب امریکہ نے بھی یہ حقیقت، مکمل نہ سہی کسی حد تک ہی سہی، تسلیم کر لی ہے کہ جنوبی ایشیا میں جنگی جنون کو ہوادینا عالمی امن کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔اس کے نتیجے میں کثیر آبادی پر مشتمل یہ خطہ مسائل سے نکلنے کی بجائے مزید خرابیوں کاشکار ہو جائے گا۔اقوام متحدہ کی نفسیات میں بھی تبدیل شدہ حالات میں تھوڑی بہت تبدیلی سے انکار جذباتی ہٹ دھرمی ہوگا۔ کورونانے بھی عالمی معیشت پر کاری ضرب لگائی ہے۔چین کی اے ایل سی عبور کرنے اور پھر اپنی شرائط منوا کر پرانی پوزیشن پر واپسی سے بھارت نے کماز کم یہ بات توسیکھی ہوگی کہ زمینی حقائق تبدیل ہو گئے ہیں۔نیپال جیسے چھوٹے ملک کی جانب سے جو لب و لہجہ اختیار کیا گیا وہ بھی بھارت کے لئے نیا اورسبق آموز ہے۔پاکستان کو دنیابھر میں تنہا کرنے کی خواہش بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔ایف اے ٹی ایف کی27میں 24شرائط کی تکمیل کے بعد پاکستان کے سر پر سے گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔جون تک کی مہلت سے یہی لگتا ہے۔کورونا نے ان ملکوں کے لئے نئے مسائل کھڑے کردیئے ہیں کو سیاحت سے اپنے بجٹ کا خاطر خواہ حصہ پورا کرتے تھے۔ ایئر لائنز کا منافع بخش ادارے کی بجائے ایک معاشی بوجھ جانا یقینا ایک نیا اور خوفناک تجربہ ہے۔ایسے ان دیکھے حالات میں کیسے ممکن ہے کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کی گردن پر بندوق رکھ کر اپنی مرضی ڈکٹیٹ کراسکیں۔بھارت کو بھی معلوم ہوگیا ہوگا کہ امریکہ کاتزویراتی پارٹنر ہونے کے یہ معنی نہیں کہ وہ دنیا کے اس حصے کا امریکی چوکیدار بن گیا ہے،جو کرتارہے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔امریکہ 1945سے 2021تک جتنی چوہدراہٹ کرنی تھی، کر لی۔اس دوران نہ چین دنیا کا افیون کے نشے میں ڈوبا ہوا ملک رہا ہے اور نہ ہی پاکستان 1970والا پاکستا ن ہے کہ دبوچ لو، اور اپنی پسند کے معاہدے کر لو۔27فروری 2019کو بھارت فضائیہ کو جو پیغام ملا ہے وہ اپنی جگہ جامع اور بامعنی ہے۔بھارت کوئی دودھ پیتا بچہ نہیں کہ اس پیغام کو نہ سمجھ سکے۔دنیا کی سب سے قدیم ریاستوں میں ایک ہے۔اس نے اس دوران بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔بدھ مت، جین مت اور ہندو مت پرانے مذاہب مانے جاتے ہیں۔ٹیکسلا طویل عرصے تک دنیا کی اس وسیع و عریض ریاست کا پایہ تخت رہا ہے۔پاکستان بھی جان گیا ہے کہ لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کی خواہش کا پورا ہونا ممکن نہیں۔معروضی حالات اس کی اجازت نہیں دیتے۔بھارت کے داخلی مسائل نے بھی اپنا اثر دکھایاہے۔ہندوتوا کا نعرہ لگا کر اشوک اعظم یا موریہ خاندان کی طرح تمام ہمسایہ ریاستوں فتح کرنے کادور نہیں ہے۔دنیا جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس پرانی سوچ کو ترک کرکے ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں دوسروں کا احترام نہ کرنے والی ضد امریکہ جیسے ملک کو بھی مذاکرات کی میز پر بٹھا دیتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے عام گھرانے میں آنکھ کھولی اور اپنی صلاحیتوں کے بل پر سوا ارب آبادی والے ملک میں دوبار اقتدار سنبھالا۔5اگست2019کے آئینی فیصلوں کے نتائج سے واقف ہیں۔اندازوں کی غلطی انہیں ایک نازک موڑ تک لے آئی ہے۔نئی صورت حال انہیں ماضی کی حکومتوں سے ورثے میں نہیں ملی،ان کی اپنی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔بھاری اکثریت کا نشہ تاریخ میں کئی حکمرانوں کی آنکھوں کی بصارت اور بصیرت چھین کر بند گلی میں دھکیل چکاہے۔لیکن اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہوتے کہ یہ نشہ مرتے دم تک کسی حاکم کو اپنے سحر میں مبتلاء رکھے۔ چنانچہ بھارت اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا فیصلہ دانشمندی سے کیاجانے والا فیصلہ سمجھا جانا چاہیئے۔اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے عوام کو غربت،بیماری،جہالت اور بیروزگاری سے نکالنے کے لئے کئی دہائیوں سے جاری احمقانہ جنگی جنون سے جان چھڑائیں۔خطے میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنائیں۔عوام کو پیٹ بھر غذا، مناسب تعلیم اور روزگار کے مواقع فرام کرنے کے بارے میں منصوبہ بندی کریں۔ترقی اور خوشحالی پاکستان اور بھارت کے ڈیڑھ ارب عوام کی ضرورت ہے، ان کا بنیادی حق ہے، انہیں دیر تک اس حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔اور نریندر مودی جیسا شخص جانتا ہے کہ اس بڑے مقصد کے حصول کی پہلی شرط بارڈر پر کشیدگی میں کمی لاناہے۔انہوں نے یہ مرحلہ طے کرلیا ہے۔اگر اس معاہدے کی پاسداری کی گئی تو وہ دن دور نہیں جب یہ خطہ امن و آشتی کا گہوارہ ہوگا۔ایک بار پھر سونے کی چڑیا کہلائے گا۔کئی واسکوڈی گاما اور کولمبس اس حسین خطے میں آنے کے لئے نت نئی ایسٹ انڈیا کمپنیا ں تشکیل دیا کریں گے۔ یہ خطہ آج بھی زرخیز ہے،قیمتی وسائل کا مالک ہے۔ بس امن کی کمی ہے، امن فراہم کیا جائے، باقی کام نیچر خود کر لے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں