ایران کا امریکہ سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان

ایران نے امریکہ اوردیگر یورپی ملکوں کے ساتھ 2015کے ایٹمی معاہدے کے حوالے سے غیررسمی مذاکرات کرنے سے انکارکر دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے کہا ہے کہ پہلے امریکہ اس ایٹمی معاہدے میں واپس آئے اورایران پر عائد غیرقانونی پابندیاں ختم کرے۔اس کے لئے کسی بات چیت کی ضرورت نہیں اور جیسے ہی پابندیاں ختم کی جائیں گی ہم اپنے وعدوں پر لوٹ آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایران اس طرح کے اشاروں کا کوئی جواب نہیں دے گا تاہم ایران اس کے باوجود یورپی یونین کے سربراہ بوریل،نیز فرانس، جرمنی،برطانیہ، چین اورروس کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کو ایرانی فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے لیکن ہم جے سی پی او اے کے تحت کئے گئے معاہدے پر باہمی طور پر عمل کرنے کے لئے ایک بامعنی سفارت کاری دوبارہ شروع کرنے کے لئے اب بھی تیار ہیں۔یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جارحانہ مزاج کے مطابق اپنے پیش رو باراک اوبامہ کے دور میں ایران سے کئے گئے معاہدے کویکطرفہ پر ختم کردیاتھا اور اس ضمن میں ان یورپی ممالک سے مشورہ بھی نہیں کیا تھا۔جو بائیڈن باراک اوبامہ کی کابینہ کا حصہ تھے، نائب صدر تھے۔ایران سے مسلسل محاذ آرائی کے نقصانات کا بھرپور اداراک رکھتے تھے۔جانتے تھے کہ ایران سے دشمنی گھاٹے کاسودا ہے۔مناسب اور مفید حکمت عملی اپنائی جائے، کوئی درمیانی راستہ نکالاجائے جو جنگی پالیسی کے بھاری نقصانات سے بچائے۔ڈونلڈ ٹرمپ اپنے لا ابالی پن کی وجہ سے دور اندیش امریکی صدر نہیں ثابت ہوئے۔ بزنس مین ہونے اور امریکہ جیسی متعدد مسائل میں الجھی ہوئی ریاست کاسربراہ ہونے میں بہت فرق ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے اس گمان کا شکار ہے کہ وہ بلا شرکت غیرے عالمی طاقت ہے۔روس داخلی محاذ پر ناکامی اور بعض ریاستوں کی علیحدگی کے بعد عالمی سطح پر کوئی جارحانہ کردارادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا تھا۔امریکہ وقتی طور پر طاقتور پوزیشن پر آ گیا لیکن اپنی خودغرضی پرمبنی سامراجی فکر کے تحت اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھودنے کے رستے پر چل پڑا۔خلیجی ریاستوں کو جنگ کامیدان بناکر ایک ہاتھ سے اسلحہ بیچا اور دوسرے ہاتھ سے پیٹرول سستے داموں خریدکر اپنی تجوریاں جس قدر بھرسکتا تھا، بھرنے میں مصروف رہا۔امریکی تھنک ٹینک بھی اس خوش فہمی کاشکار ہو گئے کہ امریکہ کے ہاتھ ایسانا یاب نسخہ کیمیا ئ آگیا ہے کہ اسے کچھ اور کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔پہلے یہ کھوج لگاؤکہ کونسا ملک اپنے ہمسایہ ملکوں کی نظروں میں فوجی اعتبار سے طاقت ور ملک سمجھا جاتاہے۔اس کے سر پر ہاتھ پھیرو اوراسے کہو کہ واقعی تم تو جب چاہو ان پرقبضہ کر سکتے ہو،اور پھر اپنی چکنی چپڑی باتوں اور اپنی حمایت اور ہر قسم کی مدد کا یقین دلاکر کسی ملک پر حملہ کرا دو۔عراق کے صدر کرنل صدام حسین اس کے جھانسے میں آگئے۔خلیج فارس پر اپنی ملکیت کادعویٰ کرتے ہوئے ایران پر حملہ کردیا۔آٹھ سال تک امریکی مفادات کی جنگ لڑتے رہے۔ایران میں ان دنوں آیت اللہ خمینی کی شکل میں امریکہ دشمن خیالات کی حامی انقلابی حکومت برسر اقتدار تھی، امریکی چوکیدار شہنشاہ ایران کو ملک سے بھگا چکی تھی، وہ مصر میں پناہ گزین تھاوہی مرا اور آج کسی کو یہ بھی علم نہیں کہ اس قبر کہاں ہے۔آٹھ سال بعد امریکہ نے صدام حسین کونئی ذمہ داری سونپ کر کویت کے محاذ پر بھیج دیااور خوب مال کمایا۔کویت، سعودی عرب اوردیگر تیل پیداکرنے والے عرب ممالک نے امریکہ کو باڈی گارڈ بنالیا اور منہ مانگی دولت امریکہ کے حوالے کی تاکہ ان کی بادشاہت بچی رہے۔سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عرب ممالک کی رگوں میں جتنا خون تھا اسلحہ فراہم کرنے کے معاہدوں کے ذریعے امریکہ منتقل کر دیا۔اور یہ دھمکی بھی دی کہ جب چاہیں تمہیں بادشاہت سے ہٹا سکتے ہیں، اس لئے کہ یہ ہماری دی ہوئی ہے۔ سعودی حکومت نے بروقت اس امریکی دعوے کوبے بنیاد کہہ کر مستردکر دیا لیکن پوزیشن سے بھی واقف تھی، یمن کے حوثی قبائل جب چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں میزائل داغ دیتے ہیں۔سعودی عرب دیگر 10عرب ریاستوں کی افواج کے باوجود ان غیر ریاستی مسلح دستوں کا قلع قمع کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکا۔یہ صورت حال قابل رشک نہیں، اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے،اسے بہتر بنایا جاسکتاہے۔لیکن یہ کام صرف زبان ہلانے سے نہیں ہوسکتا۔چند شہزادوں کو فائیواسٹار ہوٹل میں حفاظتی تحویل میں رکھ کر ان سے بڑی مقدار میں ڈالر وصول کئے جا سکتے ہیں مگرایک مستحکم ریاست کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں۔ایران سے بلا سبب عناد اور مخاصمت کی پالیسی پر نظر ثانی سے انکار اور اس میں تاخیر مزید مسائل کو جنم دے گی۔اس سمت میں تھوڑی بہت پیش رفت بھی ہوئی ہے، سنجیدگی اور مستقل مزاجی سے اسے حتمی شکل دی جائے۔یاد رہے ایران سے مسلسل مخاصمت امریکہ جیساملک برداشت نہیں کر سکا،یکطرفہ معاہدہ ختم کرکے ایران پراپنی مرضی مسلط نہیں کرسکا، ایران آج بھی مردانہ لہجے میں للکار رہا ہے۔ اس کے برعکس امریکی تمکنت میں کمی آئی ہے۔امریکی وزارت خارجہ نے صرف مایوسی کااظہار کیا ہے، ایران کواس گستاخی کی عبرت ناک سزا دینے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے طویل عرصے میں یہ حقیقت جان لی ہے کہ ایران کو بندوق کے زور پر زیر کرنا ممکن نہیں۔ادھر جویورپی ممالک ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے ضامن بنے تھے وہ بھی امریکی رعونت سے تنگ آچکے ہیں۔سب کی
خواہش ہے کہ امریکہ خود کو برتر سمجھناترک کر دے۔عالمی برادری کاایک یونٹ ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں، دوسرے ملکوں کو بھی برابری کی نظر سے دیکھے، کمتر اور حقیر نہ سمجھے۔موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کو ورثے میں 31 ٹریلین ڈالربجٹ خسارہ ملاہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ غیر ملکی قرضوں کا بوجھ جی ڈی پی کا 97فیصد ہے۔ جبکہ آئی ایم ایف کی نظر میں قرض جی ڈی پی کا 60فیصد سے زائد نہیں ہونا چاہیے۔ مان لیا پابندیوں سے ایرانی کی معاشی مشکلات بڑھ جاتی ہیں لیکن امریکہ کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔امریکہ کو دوسرے ملکوں پر1945سے آج تک بم برسانے کاخمیازہ تو بھگتنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں