میری جسم میری مرضی کے نام پر بے حیائی پھیلانے کی کوششوں کی وجہ سے اللہ نے کورونا کا عذاب مسلط کیا، جمعیت ن
کوئٹہ :جمعیت علمااسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حاجی سیدعبدالستارشاہ چشتی نے8مارچ کوخواتین آزادی کے نام پریوم بے حیائی منانے کی پرزورمذمت کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ روزمیری جسم میری کے نام پرجوبے حیائی وفحاشی کوپھیلانے اوراللہ کے غیض وغصب کودعوت دینے کی کوشش کی گئی اس کے بعدہی اللہ نے کوروناکے صورت میں ایسے عذاب مسلط کی جس سے آج تک جان نھیں چھیڑاسکتے اورمیری جسم میری اختیاروالوں پراللہ نے مکمل پردے کی اورموں چھپانے کیلئے ماسک اورگھروں سے نکلنے پرکریک ڈاون کی عذاب مسلط کی اورحکومت پاکستان وصوبائی حکومتیں اس بے حیائی کے پروگرامات پرپابندی لگادے انھوں نے کہاکہ اس حکومت بے حیائی عورت مارچ کو لگام لگائے گزشتہ ادوار میں عورتوں کی حقوق کی نعروں، اور مارچ میں فحا شی و عریانی کی سب حدوں کو پار کر دئیے لال لال ایشیا کی نعروں سے جن ایجنڈوں کو فروغ دیا رہاتھا اور ان کے پیچھے جو قوتیں کار فرما تھے قوم ان سازشوں سے آگاہ ہے اسلام کے نام پر بنا ہوا ریاست میں اجازت نہیں دینگے انہوں نے کہا کہ شتر بے مہار کی طرح شراب سے بھرے گلاس لئے،ناچتے گاتے اللہ اورنبی ﷺ کے احکامات کو تار تار کر کے بے حیائی اور فحاشی کو بری دھوم دھام سے منا یا جارہا ہے۔جمعیت نظریاتی ایسیمخلوط اورفحش بے حیا مارچ کو ملک میں اجازت نہیں دے گے بے حیائی کی خواہش رکھتے ہیں تو مغرب جائے انہوں نے کہاکہ عورتوں کی بے حیا مارچ ہمارے مسلمانوں کی غیرت کو چیلنج کررہا ہے اوراگر عورت مارچ ہوئی تو یہ ریاست مدینہ کی دعویداروں کی منہ پرطمانچہ ہے اسلامی تہذیب اور ہماری روایات کا تقدس پامال ہوتا ہے اور یہ شعائر اسلام کی توہین کے مترادف ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ایسے مارچوں سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائے بے حیا عورت مارچ نہ صرف آئینِ پاکستان کی روح کے منافی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے اور یہی ریاست کا وہ رویہ ہے جس سے اسلامی احکامات اور اسلامی شعار کا مذاق اڑانے والوں کو اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں روزانہ نئی نئی حدیں پار کرنے کی شہہ ملتی ہے انہوں نے کہا کہ اخلاقیات سے عاری اوربے راہ روی سے ملک کی اسلامی شناخت کو مٹانے کی سازشیں ہورہی ہیں مغربی این جی آوز حقوقِ نسواں اور انسانی حقوق کے نام پر میرا جسم میری مرضی اور لال ایشیا کے نعرے سے معاشرے میں فحاشی و عریانیت اور بے راہ روی سیاسلامی تعلیمات اور ہماری معاشرتی اقدار کاجنازہ نکال رہا ہے۔مغربی این جی آوزاسلامی اقتدار اورقومی نظریہ، تہذیب و تمدن اورقومی روایات کوپامال کرنا چاہتیہے ملک کی عدلیہ اس بے حیائی کاسوموٹو نوٹس لیاجائے۔یہ خاندانی نظام اور معاشرتی اقدار کو تار تار کرنے کی مہم ہے عورت مارچ کے نعرے،مساوات کے عفریت،صنفی آوارگی اورمخلوط معاشرہ کی کوکھ سے جنم لینے والی نعروں سے ملک اور معاشرہ تباہ ہورہی ہے اسلام نے پاکیزہ نظام عطا کیا ہے غیر فطری عمل جنس پرستی سیعذاب الہی کو دعوت دیا جارہاہے ملک میں جنس پرستی کے خلاف سخت سے سخت سزادیا جائے اور اس کے لیے پارلیمنٹ سیسزائے موت کاقانون پاس کیا جائے۔اسلام بیزار عالمی اداروں کی ایجنٹ جنس پرستی کو قانونی حثیت دلوانے کے لیے کام کررہی ہیاسلامی اقتدار اورقومی نظریہ، تہذیب و تمدن اورقومی روایات کوپامال کرنا چاہتیہے اسلام اورملک دشمنی ان سیکولردماغوں میں گھسی ہوئی ہیں حکمران ملک کے تہذیب وقدار بچانے کے لیے ان مغربی این جی آوز کولگام لگائے انہوں نے کہا اسلام کے نام پر بنا ہوا ملک پر مغربی این جی آوز کے خواہشات اور ایجنڈوں پر عمل پیرا کرنے نہیں دینگے اس ملک کے لیے لاکھوں قربانیوں کو ان ناپاک عزائم سے فراموش نہیں کرنے نہیں دینگے انہوں نے کہا کہ مغربی قوتوں کی ایجنڈے پر نت نئی سازشی تھیوریاں گھڑی جارہی ہیں فحاشی و عریانی کی تما م حدیں پھلانگتے ہوئے ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے میں مصروف ہے اسلامی اقتدار اورقومی نظریہ، تہذیب و تمدن اورقومی روایات کوپامال کرنا چاہتیہے انھوں نیکہاکہ تمام پاکستانی 8مارچ کویوم حیامنائیں۔


