سینیٹ انتخابات تنازعہ

الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کی درخواست کو قابل سماعت قراردیتے ہوئے 22مارچ کوسماعت کافیصلہ سنا دیا ہے۔ یوسف رضا گیلانی اور ان کے صاحبزادے کونوٹس جاری کر دیئے۔ چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب 12مارچ کو ہوگا۔پی ٹی آئی کی شدید خواہش تھی کہ نااہلی کی سماعت پہلے ہو،مگر الیکشن کمیشن نے اپنے قوانین اورقواعد کے مطابق معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے۔ تاہم 12اور22میں بڑاوقفہ نہیں ہے۔لیکن واضح رہے کہ ویڈیوزکو ابھی عدالت میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کی سائلین کو امید تھی۔اسے مناسب طور پر مددگارقانونی دستاویز بننے میں وقت درکار ہوگا۔لیکن ٹیکنالوجی جس تیزی سے معاشرے میں جگہ بن رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے امید کی جا رہی ہے کہ زیادہ وقت نہیں لگے گا۔وزیر اعظم کسی بھی دوسرے پاکستانی کی نسبت زیادہ پر امید ہیں کہ آئندہ انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ہوں گے۔انہوں نے امریکی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر مخالفین کی کوئی دھاندلی نہیں پکڑ سکے۔ایسا ہی شفاف انتخابی عمل پاکستان میں نافذ ہوناچاہیئے۔پرامید ہونے کی بڑی وجہ یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ سمندر پار پاکستانی ملکی معیشت کو جس طرح سنبھالے ہوئے ہیں اس کا تقاضہ ہے کہ انہیں ووٹ کا حق دیاجائے،یہ کام اب ضروری ہو چکا ہے۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ خوش آئند ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے دیر تک دور رکھنا ممکن نہیں رہا۔کوروناکے باعث کاروبار کا بڑاحصہ آن لائن منتقل ہو گیا ہے۔ سیاحت کے شعبے کو فروغ اسی ملک میں ملتا ہے جہاں جدید سہولتیں میسر ہوں۔ون ونڈو سہولت نہ ہوتو سرمایہ کاری رک جاتی ہے یا اس کی رفتار انتہائی سست ہوجاتی ہے۔حوصلہ افزاء علامت یہ ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل جدید ٹیکنالوجی سے مانوس ہے۔ موجودہ حکومت کی ظاہری بیتابی سے عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ حکومت ہر شعبے میں شفافیت لانا چاہتی ہے مگر دوسری جانب عام آدمی جب یہ دیکھتاہے کہ جہانگرترین جیسے ملزمان ہوں تو انکوائری کا عمل چیونٹی کی چال سے چلتا محسوس ہوتا ہے۔ چینی کے اسکینڈل کی رپورٹ کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ چھوٹی شوگر ملوں کا تحقیقاتی کام تو بہت آگے ہے مگر بڑی شوگر ملوں کی رپورٹ سست روی کا شکار ہے۔عام آدمی نجی محفلوں میں ایک ہی جملہ دہراتا ہے کہ وجوہات دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اور وہ غلط نہیں کہتا۔اگر حکومت کی یہ دلیل مان لی جائے کہ ساری خرابیاں گزشتہ چار دہائیوں میں پروان چڑھیں اور انہیں درست کرنے میں وقت لگے گا۔لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہوسکتے کہ موجودہ حکومت کو بھی اصلاح کے لئے چار دہائیاں دی جائیں۔ حکومت کے اقتدار کی آئینی مدت پانچ سال ہے۔اس نے جو کرنا ہے ان پانچ برسوں میں ہی کرنا ہے۔اس کی پانچ برسوں کارکردگی دیکھ کر عوام یہ فیصلہ کریں کہ اسے دوسری مدت کے لئے اقتدار دیاجائے یانہیں۔پی ٹی آئی کی حکومت اپنی پانچ سالہ مدت کا نصف گزار چکی ہے۔ بجٹ کی منظوری کے ڈیڑھ ماہ بعداس کا تیسراسال ختم ہوجائے گا۔وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کے مطابق پھر کام کرنے کے لئے حکومت کے پاس صرف چوتھا سال ہوگا، پانچویں سال سیاستدان لوگوں کی شادی بیاہ اور جنازوں میں شریک ہوناشروع کردیتے ہیں۔ یعنی اگلے انتخابات کی تیاری میں مصروف ہو جاتے ہیں اورلوگ بھی چار سالہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اپنا ذہن بنا لیتے ہیں کہ ووٹ کسے دینا ہے۔ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے علم میں یہ حقیقت آ گئی ہو گی کہ خلق خدا اس کے بارے میں کیاکہنے لگی ہے۔وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی شکست کو کوئی سا نام دیا جائے مگر ویڈیوز میں بکنے والے پی ٹی آئی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز نظر آتے ہیں۔پی ٹی آئی میں نظریاتی رشتہ اتناکمزور کیوں ہے؟ اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔بکنے والے دستیاب نہ ہوں توخریدار خالی ہاتھ گھر لوٹ جائے گا۔”کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے“، کوابھی تک وزیراعظم عمران خان ایک گالی سمجھ رہے ہیں۔ضمنی انتخابات میں ووٹرز کی ناراضگی کا تجزیہ کیا جائے تو ہرغیر جانبدار تجزیہ کار یہی کہے گا کہ کھانے والوں کا ”لگایا ہوا“ووٹرز کو نظر آتا ہے،مگر”نہ کھانے“کے دعویداروں کا لگایاہوا ووٹرز کونظر کیوں نہیں آتا؟ پشاور میں ”جنگلہ بس“ لگانے میں پر اسرار تاخیر کو نظر انداز کر دیا جائے تب بھی ہر دوسرے دن ان
بسوں میں چلتے چلتے آگ لگنے کو کیا کہاجائے گا؟پورا پراجیکٹ عدالتی اسٹے آرڈرکی مددسے بنا، اب بن چکا ہے مگر مقدمہ ایک انچ آگے نہیں بڑھا،اس کی وجہ توعوام کو بتائی جائے۔کیا مالم جبہ والے اتنے پاکدامن ہیں کہ ان کا دامن نچوڑنے کے بعد فرشتے وضو کر رہے ہیں؟چیئرمین نیب کی رائے مختلف ہے۔وزیر اعظم کو بر بنائے عہدہ اصل حقیقت کاعلم ہوگا۔ کل پاکستانی عوام ایک بار پھر دیکھیں گے کہ 47کس طرح 53میں تبدیل ہوں گے۔مگر جب وزیر اعظم کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ ہمیں دھکا دو گے تو ہماری طرف سے بھی دھکاملے گا۔ عام آدمی سمجھ جاتا ہے کہ شفافیت آنے میں ابھی وقت لگے گا۔اگر یوسف رضاگیلانی بھی فیصل واوڈاکی طرح عدالتوں میں ڈھائی سال نکالنے میں کامیاب ہو گئے
تو حکومت کے جانے کا آئینی وقت آ چکا ہوگا۔کہاوت ہے کہ وقت اور لہر کسی کا انتظار نہیں کرتے۔حکومتیاحتیاطی تدابیر میں تیزی آنے سے یہی لگتا ہے کہ پنجاب اور اسلام آباد میں کورونا کی تیسری لہر آ گئی ہے۔ سندھ اور بلوچستان اسکول موسم بہار کی تعطیلات میں بند نہیں کئے جا رہے۔ گویا یہاں تیسری لہر کا زیادہ خطرہ نہیں۔سیاسی اعتبار سے چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین کے انتخابی نتائج کا ملکی سیاست پر نفسیاتی ا ثر ضرور پڑے گا۔یوسف رضا گیلانی کی جیت پی ٖی ایم کے لئے ضروری ہے۔جیت نہ ہوئی تو لانگ مارچ اور دھرنے میں مشکلات بڑھ جائیں گی۔ پی پی پی کے دھرنا میں تاخیرسے پہنچنے کے فیصلے سے ایک دھچکا پہلے ہی لگ چکا ہے۔دانشمندوں کا خیال ہے کہ جمہورت کا حسن اسی اختلاف رائے میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں