اسمبلیوں سے استعفے دینے کی واضح ڈیڈ لائن کا اعلان کیا جائے، مسلم لیگ ن کی تجویز

اسلام آباد:مسلم لیگ ن نے تجویز دی ہے کہ استعفے دینے کی واضح ڈیڈ لائن کا اعلان کیا جائے، تمام ارکان اسمبلی اپنے استعفے مولانا فضل الرحمان کے پاس جمع کروا دیں، مولانا فضل الرحمان کو لانگ مارچ اور استعفوں کا آپشن استعمال کرنے کا اختیار دیا جائے۔تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا، اجلاس میں لانگ مارچ اور استعفوں کے متعلق تجاویز پیش کی جارہی ہیں۔ن لیگ نے تمام اراکین پارلیمنٹ کے استعفے مولانا فضل الرحمن کے پاس جمع کرانے کی تجویز دی۔ اسی طرح اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں نے اسمبلیوں سے استعفوں کے حق میں رائے دے دی۔ محمود خان اچکزئی، آفتاب شیر پا، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اسمبلیوں سے استعفوں کے حق میں ہیں۔ن لیگ نے تجویز دی کہ فضل الرحمان کو دھرنے کے دوران یا بعد میں استعفوں کا آپشن استعمال کرنے کا اختیار دینے کی تجویز دی۔استعفے دینے کے حوالے سے واضح ڈیڈ لائن کا بھی اعلان کرنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا غفور حیدری کو7 ووٹ کم ملنے کی تحقیقات ضروری ہیں۔ پیپلزپارٹی نے مؤقف اپنایا کہ پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو سب نے ووٹ دیا۔ پریزائیڈنگ افسر نے جانبداری اور بدنیتی سے ووٹ مسترد کیے۔ متعلقہ ریکارڈ ملتے ہی ووٹ مسترد کرنے کا معاملہ عدالت لے جائیں گے۔اس سے قبل گزشتہ مسلم لیگ ن کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو بڑی آفر کی تھی کہ آپ جب چاہیں استعفے دے سکتے ہیں، آپ بطور پی ڈی ایم صدر استعفوں کے اعلان میں بااختیار ہیں، ہم استعفے دینے کو تیار ہیں۔ مسلم لیگ ن کے تمام ارکان کے استعفے آپ کے حوالے کرنے کو تیار ہیں، کوئی اور جماعت مانے نہ مانے ہم استعفے دینے کیلئے تیار ہیں۔سینیٹ میں چیئرمین کے الیکشن کے بعد پی ڈی ایم، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جے یوآئی ودیگر جماعتیں شدید سیاسی ردعمل دینے کیلئے تیار ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خا ن نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ عوام کیلئے نہیں، چوری بچانے کیلئے ہے، پی ڈی ایم کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں،پی ڈی ایم انتشار پھیلا رہی ہے،لانگ مارچ کا شوق پورا کرلے، اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت دی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں