ترکی خواتین پر تشدد کی روک تھام کے معاہدے سے علیحدہ ہو گیا
انقرہ:ترکی نے خواتین پر تشدد کی روک تھام کے ایک اہم عالمی معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ سن 2011 میں طے پانے والے استنبول کنونشن پر پیتالیس ممالک اور یورپی یونین دستخط کر چکے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ کنوینشن رکن ممالک کی حکومتوں کو پابند بناتا ہے کہ وہ مختلف صورتوں میں خواتین پر کیے جانے والے تشدد کے خلاف قانون سازی کریں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی قدامت پسند سیاسی جماعت کے کئی ارکان کا موقف ہے کہ یہ معاہدہ خاندانوں کو متحد رکھنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے اور اس کی وجہ سے طلاقیں بڑھ رہی ہیں۔ ان ارکان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاہدے کو ہم جنس پرست گروپ اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
Load/Hide Comments


