تصادم ٹل گیا

نیب نے ایک پریس ریلز کے ذریعے،کورونا کی تیسری لہر کے حوالے سے نیشنل کمانڈ اینڈکنٹرول سینٹر کی دی جانے احتیاطی تدابیر کے پیش نظرمریم نواز کو جاری کردہ نوٹس بابت طلبی بتاریخ26مارچ 2021واپس لے لیا اورآئندہ کی تاریخ کورونا کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کسی مناسب وقت طے کی جائے گی۔ ہر چند پریس ریلیز میں اس موقعے پر(مریم نوازکے میڈیا بیانات کی روشنی میں)ممکنہ یا دانستہ تصادم کے خدشے کا ذکر بھی کیا،جو نیب کے خیال میں نیب پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے،اور ایسا جرم ہے جس کی سزا 10سال قید ہے۔تاہم مریم نواز نے اسے عوام کی فتح قرار دیا اور کہا ہے کہ وہ نیب کے لئے آسان شکار نہیں بنیں گی۔بہرحال26مارچ کا متوقع تصادم غیر معینہ مدت کے لئے ٹل گیا ہے۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے دو اہم فیصلے صادر فرمائے ہیں:اول یہ کہ الیکشن کمیشن کا حلقہ75 (ڈسکہ)کا جاری کردہ شیڈول برائے 10اپریل غیر معینہ مدت ملتوی کردیا ہے۔دوم یہ کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات فوری کرانے کا حکم دیا ہے۔یاد رہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کسی آئینی رکاوٹ کے بغیر محض قانون سازی کے نام پررکے ہوئے تھے۔متوقع قانون کی شق3کو غیرآئینی یاآئین سے متصادم قرار دیدیا ہے۔وزیر اعظم کے معاون برائے پارلیمانی امور بیرسٹربابر اعوان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں کہا ہے کہ شق3میں با آسانی مناسب ترمیم کر لی جائے گی، اس لئے کہ پنجاب اسمبلی میں حکومت کو اکثریت حاصل ہے۔حکومت فوری انتخابات کے لئے پہلے ہی تیارتھی، وزیر اعظم نے اپنے ایک ہفتہ قبل لاہورآمد پر پنجاب حکومت کوبلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کی ہدایت دے دی تھی۔اس تناظر میں یہی دکھائی دیتا ہے کہ پی ٹی آئی کو کچھ عرصے کے لئے سکون سے کام کرنے کا موقع مل گیا ہے۔مبصرین توقع کر رہے ہیں کہ حکومت اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مہنگائی کی روک تھام کے لئے جو کرسکتی ہے، ضرور کرے گی۔لیکن ماہرین معیشت اس حوالے سے پر امید نظر نہیں آتے۔ان کا کہنا ہے آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے بعد حکومت کو 50کروڑ ڈالر کی قسط تومل جائے گی مگر مہنگائی میں اضافہ نہیں روک سکے گی۔بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ 140ارب روپے(یعنی ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ)ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کے منفی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔حکومت کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ پی ڈی ایم کے سربراہ اگرچہ عید بعد لانگ مارچ کا پیغام دے رہے ہیں لیکن مئی جون میں گرمی عروج پر ہوتی ہے۔ گرمی کی شدت کے باعث اسکول بند کر دیئے جاتے ہیں۔جولائی اگست میں بارشوں کاموسم ہوتا ہے۔لہٰذا یہی سمجھا جائے کہ لانگ مارچ ستمبر/ اکتوبر تک ٹل گیا ہے۔ اس دوران حکومت اور اپوزیشن بجٹ کی تیاری، قومی اسمبلی میں بحث مباحثہ اور منظوری جیسے امور نمٹانے میں مصروف رہیں گی۔یاد رہے سالانہ بجٹ کی تیاری ایک سنجیدہ کام ہے اوربھر پور سنجیدگی سے کیا جانا چاہیئے۔لیکن ہماری اپوزیشن نے اسے کبھی سنجیدہ کام نہیں سمجھا۔ حکومت زیادہ تر کام بیوروکریٹس پر ڈال دیتی ہے۔آئی ایم ایف کی شرائط پہلی ترجیح ہوں توعوامی فلاح و بہبود ثانوی درجے پر چلی جاتی ہے۔آئی ایم ایف کی حکمت عملی یہ ہے کہ پاکستان اپنے ذرائع آمدنی میں اضافہ کرے تاکہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے قابل ہوجائے اور اسے سابقہ قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لئے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی مجبوری نہ ہو۔اصولاً یہ پالیسی درست ہے۔لیکن اس پر عمل کے نتیجے میں زرعی اجناس اور صنعتی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے،ملکی سطح غذائی اجناس سبزی، پھل وغیرہ مہنگے ہو جاتے ہیں اور عالمی منڈی گاہک کم ہو جاتے ہیں، برآمدات میں کمی سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوتی ہے۔دوسرے لفظوں میں تجارتی خسارہ بڑھ جاتا ہے۔ یعنی گھوم کر وہیں آجاتے ہیں جہاں سے سفر کا آغاز کیا تھا۔اسی موذی چکر میں پھنسے رہتے ہیں۔باہر نکلنا نصیب نہیں ہوتا۔اس مشکل سے نجات پانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر عوامی مفاد کی پالیسی وضع کرے۔ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کا خبط ذہنوں سے نکالا جائے۔مگر پاکستان میں بوجوہ ایسا ممکن نہیں رہا،ابھی تا دیر اس کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ موجودہ حکومت کی مجبوری یہ ہے کہ اپنے انتخابی نعرے سے دستبردارنہیں ہوسکتی۔وہ بار بار کہتی ہے کہ ہم عوام کے مفاد میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں،اپوزیشن کو دعوت دیتے ہیں تو اس کی سوئی این آر او پر اٹکی ہوئی ہے۔ اس کی مثال حکومت یہ پیش کرتی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے قانون سازی درکارتھی،اپوزیشن نے نیب کے قانون کی 38میں سے 34میں ترمیم کی شرط لگادی۔یہ شرط مان لی جائے تو نیب کاادارہ ختم ہوجاتا ہے،کرپٹ پریکٹسز کے ذریعے لوٹی گئی قومی دولت واپس نہیں لی جاسکتی۔ جبکہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی بنیادی شرط کرپشن کا خاتمہ ہے۔ایسے ماحول میں تصادم اپوزیشن کو سوٹ کرتاہے۔مفاہمت میں اسے کچھ ملنے کی قطعی امید نہیں۔مفادات کی جنگ صرف اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نہیں، پی ڈی ایم کی دو بڑی پارٹیاں بھی اپنے مفادات میں تضاد کی وجہ سے استعفوں کے معاملے پر راہیں جداکرنے کے قریب دکھائی دیتی ہیں۔ ایک ہونے کا فارمولہ یہی ہو سکتا ہے کہ نون لیگ استعفوں کے مطالبے سے دستبردار ہوجائے۔نون لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال میڈیا کے روبرو کہنے لگے ہیں کہ اگر پی پی پی پارلیمنٹ سے مستعفی نہیں ہوتی تو نون لیگ تنہا مستعفی نہیں ہوگی۔یہ بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگی۔ہماری خالی نشستوں پر حکومت اور پی ٹی آئی قبضہ کرلیں گی اور ہم دو سال تک پارلیمنٹ سے باہر ہوجائیں گے۔سیاست میں ایک ہفتہ غائب ہونا بھی نقصان دہ ہوتا ہے، دوسال بعد ہمیں کون پہچانے گا۔جب قیادت کی زبان پر اس قسم کے جملے آجائیں تو سمجھ لینا چاہیئے کہ ”لانگ مارچ“ موجودہ حالات میں ایک رسمی کارروائی سے زیادہ کچھ نہیں رہا۔نیب نے مریم نواز کی پیشی کی تاریخ غیر معینہ مدت تک ملتوی کر کے فریقین کو ستمبر/اکتوبر تک سوچ بچار کا موقع فراہم کیا ہے۔ستمبر/اکتوبر تک لفظی گولہ باری سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں