فنڈنگ کیس، اکبر ایس بابر اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری مالیات اسکرونٹی کمیٹی میں طلب
اسلام آباد:تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کی تحقیقات کیلئے قائم الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی نے اکبر ایس بابر کی پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری مالیات سراج احمد خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے اور یو اے ای کے چار ملازمین کی بینک تفصیلات سے متعلق درخواتیں مسترد کر دیں جبکہ اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ کمیٹی ناکام ہو چکی، فیصلہ الیکشن کمیشن، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ پی ٹی آئی غیرملکی پارٹی فنڈنگ کی تحقیقات کیلئے الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کا اجلاس ڈی جی لاء کی سربراہی میں ہونا۔ درخواست گزار اکبر ایس بابر اور پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاور کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ سکروٹنی کمیٹی نے اکبر ایس بابر کی زیر التوا درخواستوں کو نمٹا دیا۔ سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری مالیات سراج احمد خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے اور یو اے ای کے چار ملازمین کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرنے سے متعلق اکبر ایس بابر کی دو درخواستیں مسترد کر دیں،سکروٹنی کمیٹی نے 8 اپریل کو فریقین کو دوبارہ طلب کر لیا۔ اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سکروٹنی کمیٹی میں کوئی کاروائی نہ ہو سکی، پی ٹی آئی کے وکیل کی کوئی مصروفیات تھیں، مصروفیات کا کہہ کر پھر پی ٹی آئی کا وکیل پیش ہو گیا۔ انہوں نے کہاکہ خفیہ بنک اکاؤنٹس کی درخواست سکروٹنی کمیٹی کے سامنے ہیں، ہم نے پی ٹی آئی کے چار ملازمین کے اکاؤنٹس حاصل کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ہم پتہ چلانا چاہتے تھے کہ ان ملازمین کے اکاؤنٹس میں کتنا پیسہ آیا، آڈٹ رپورٹ میں ان ملازمین کے اکاؤنٹس میں پیسہ آنے کی تفصیلات موجود ہیں، کمیٹی نے ہمیں فیصلہ سنایا ہے کہ وہ اسٹیٹ بنک سے ان ملازمین کے اکاؤنٹس کا نہیں پوچھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو اکاؤنٹس حاصل کرنے کا اختیار دے رکھا ہے، تحریک انصاف کے سیکریٹری مالیات نے پیسہ آنے کا اعتراف کیا تھا۔


