وزارتوں کی ایک بار پھرتبدیلی
وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ میں ایک بار پھر تبدیلی کی ہے۔شوکت ترین وزیر خزانہ ہوں گے جبکہ دیگر وزراء کے محکموں میں رد و بدل کیا گیا ہے۔ محکموں کی تبدیلی کے پیچھے بھی کوئی مصلحت ہوگی، مطلوبہ کارکردگی میں کمی رہ گئی ہوگی،یا دیگر شکایات ہوں گی۔ گنتی کے لحاظ سے شوکت ترین پی ٹی آئی کے چوتھے وزیر خزانہ ہیں،انہیں آئی ایم ایف سے بات کرنے کا سلیقہ آتا ہے(عبدالحفیظ شیخ کی اضافی اہلیت بھی یہی تھی،اسدعمر کی فائل میں ایسی کوئی سند نہیں تھی)۔وزیر اعظم عمران خان عادتاً یا مزاجاًعالمی معیار افراد کو پسند کرتے ہیں۔شوکت خانم کینسراسپتال کی ابتدائی ٹیم غیرملکی ڈاکٹرزپر مشتمل تھی،نمل یونیورسٹی (میانوالی)کے پروفیسرز اور لیکچررز بھی برطانیہ کے فارغ التحصیل ہیں۔ لیکن عام آدمی کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں کہ کس محکمے کاوزیر کون ہے؟اس کی ساری دلچسپی اپنے مسائل سے ہے۔سب سے بڑی پریشانی بے قابو مہنگائی ہے۔رواں ہفتے محکمہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق مہنگائی کی شرح18.89فیصد رہی۔آٹا، چینی، دالیں، گھی، ٹماٹر، چکن سمیت22اشیاء کی قیمتیں کم ہوئیں۔محکمہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ 20کلو آٹے کا تھیلا 26 روپے9پیسہ مہنگا ہوا۔میڈیا کے ذریعے عام آدمی کو وزراء کی زبانی یہ معلوم ہوتارہتا ہے کہ بجلی کی قیمتوں اضافہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کی وجہ سے کرنا پڑاہے۔باقی تمام باتیں عام آدمی گزشتہ کئی دہائیوں سے جانتاہے کہ بجلی اور پیٹرول کی قیمت بڑھتے ہی کھانے پینے کی تما اشیاء خود بخود مہنگی ہو جاتی ہیں۔ چلیں ایک لمحے کے لئے عام آدمی حکومت کی یہ دلیل مان لیتاہے کہ سب کچھ سابق حکومتوں کا کیا دھرا ہے۔انہوں نے بجلی پیدا کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کی بعض ایسی شرائط مان لیں جو نہ مانی جاتیں تو بہتر ہوتا۔سر فہرست شرط یہ ہے کہ ان معاہدوں میں لکھاہے کہ حکومت بجلی استعمال کرے یا نہ کرے،مگر قیمت اسے دینی ہے، اس لئے کہ معاہدے میں یہی لکھا ہے۔معاہدہ کئی سال بعد ختم ہوگا۔لہٰذا سکھ کا سانس لینابھی کئی سال بعدنصیب ہوگا۔معاہدے عام آدمی سے مشورہ کرکے نہیں کئے جاتے۔اسے صرف یہ بتایا جاتاہے کہ فلاں بجلی گھر اتنے عرصے میں تعمیر ہوجائے گا اور اس سے اتنی بجلی ملنا شروع ہو جائے گی، اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ 16گھنٹے سے کم ہوکر12گھنٹے ہوجائے گی۔ پھر دوسرا بجلی گھر لگا اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں مزیدکمی ہوگئی۔تب عام آدمی کومعلوم ہوا کہ لوڈ شیڈنگ میں کمی کے ساتھ بجلی مہنگی ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں بجلی کو بجلی گھروں سے عام آدمی کے گھروں پہنچانے کا نظام بہت پراناہے، بجلی پیداکرنے والے کارخانے بجلی پیدا کریں تب بھی عام آدمی کو نہیں ملے گی، اس کے لئے نئی تاریں بچھانی پڑیں گی،نئی تاریں بچھانے کا کام کب شروع ہوگا؟ کب مکمل ہوگا؟ یہ اس لئے نہیں بتا سکتے کہ وزیر تبدیل ہوگیاہے۔نیا وزیر پراناہوجائے گاتو اسے بھی تبدیل کردیاجائے گاتاکہ عام آدمی کو معلوم ہی نہ ہو سکے کہ بجلی پہنچانے والی تاریں کب بچھائی جائیں گی اور کب سستی بجلی صارفین کو ملے گی؟ مگرحکومت یہ بتانا نہیں بھولتی کہ قیمتوں میں اضافہ مجبوری ہے،۔۔۔ پہلی مجبوری کمپنیوں سے کئے گئے معاہدے ہیں اور دوسری مجبوری آئی ایم ایف سے لیا جانے والاقرض ہے۔قرض نہ لیتے تو نادہندہ ہو جاتے،نادہندہ ہونا بڑے نقصان والی غلطی سمجھی جاتی ہے،اور اس کے نتیجے میں بہت زیادہ مہنگائی ہوتی ہے۔حکومت نے بڑی برائی کی جگہ چھوٹی برائی اختیار کی۔اسقسم کی باتیں اورگھسے پٹے دلائل سنتے سنتے عام آدمی کے کان پک گئے ہیں۔اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا، کیاکرے؟ کدھر جائے؟چاروں طرف گہری کھائی ہے، مشکلات سے نکلنے کاکوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا،قہردرویش برجان درویش کے مصداق ٹیکسوں کی بھرمار عام آدمی نے ہی ادا کرنی ہے۔کوئی جائے پناہ دوردور تک نظر نہیں آتی۔عام آدمی جانتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں معمولی سی اکثریت ہے،اگر اپوزیشن چاہے تو پی ٹی آئی کی حکومت سے اس کی جان چھوٹ سکتی ہے، مگر اپوزیشن آپس میں الجھی ہوئی ہے۔آپس میں باہم دست و گریباں ہے،روٹھنے اور منانے کی مشق جاری ہے۔ادھر سے فرصت ملے تومسائل میں گھرے عام آدمی کی طرف دیکھے۔ویسے اپوزیشن خود بھی اپنی ہی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔جب حکومت ان کے زیر تصرف تھی تب یہ اس خوش فہمی کاشکار تھی کہ قیامت تک ان کے ٹھاٹ باٹ جاری رہیں گے۔”کس کی مجال ہے آنکھ اٹھاکر ان کی طرف دیکھ سکے“۔ریاست نام کی کوئی شے وجود نہیں رکھتی، گریڈ17سے22تک کے ملازمین کانام ”ریاست“ہے، اور انہیں ملازمت دینا حکمران جماعتوں (بلکہ دوخاندانوں)کے اختیار میں ہے۔تمام سرکاری افسر(عدلیہ اور نیب کے معزز ججز، سول وفوجی بیوروکریٹس) ریاست کے ملازم نہیں، دو خاندانوں کے ملازم ہیں۔ان کے حکمرانی کے زمانے کے بیانات،بلکہ حکومت سے ہٹائے جانے کے کافی عرصہ بعد تک کامتکبرانہ رویہ اب تاریخ کا حصہ ہے،میڈیا قندمکرر کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرتارہے گا۔مستقبل کا مؤرخ غیر متعصبانہ تبصرہ کرے گا۔آج مبصرین تعصب کا شکار ہیں۔اپنے پسندیدہ حکمرانوں کے سوا انہیں سب کرپٹ نظر آتے ہیں۔پاکستان میں ان لوگوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے جو فاختہ اور باز میں نہ صرف فرق کرتے ہیں بلکہ فاختہ کی معصومیت سے پیار بھی کرتے ہیں۔رویہ کی یہ تبدیلی امن پسند شہریوں کی آنکھوں میں امید کی کرن محسوس ہوتی ہے۔عمل سست ہے لیکن تسلسل سے جاری ہے۔ورنہ کرپٹ عناصر کے چہروں پر وہ رونق اور لبوں پر مخصوص فاتحانہ مسکراہٹ آہستہ آہستہ معدوم نہ ہوتی جو ان کی شخصیت کا لازمی جزو ہوا کرتی تھی۔دو چاروزیروں کی تبدیلی نمائشی ہی سہی مگر اس سے بھی تبدیلی کا تأثر تو ملتا ہے۔ممکن ہے پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی کا ہلکا پھلکا نتیجہ ہو جوبعد میں کسی بڑے واقعہ کی بنیادبن جائے۔مافیازکے چنگل سے عوام کی گردنیں چھڑاناآسان ہوتاتو خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کہیں نظر نہ آتے۔عوام کو بھی دوست دشمن میں تمیز کرنا ہوگی، اپنے ووٹ کی قدروقیمت بریانی کی پلیٹ کی بجائے اپنے بچوں کا بہتر مستقبل قرار دیناہوگی۔


