پاک ایران بارڈر کی سرگرمیاں محدود، گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں کے ساتھ اسپئرپارٹس کا کاروبار کرنے والے بھی بے روزگار ہوگئے

پنجگور : پاک ایران بارڈر پر کاروباری سرگرمیاں محدود ہونے کے بعد گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں کے ساتھ اسپئرپارٹس کا کاروبار کرنے والے بھی بے روزگار ہوگئے فی دکاندار جو روزانہ لاکھوں روپے کا کاروبار کرتاتھا اب ان کا روزگار پانچ سو روپے پر آکر رک چکا ہے دکانوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی دیاڑی بھی پورا نہیں ہورہا ایک دکاندار نے بارڈر کی بندش اور محدودکاروبار پر پیدا ہونے والی صورت حال پربات کرتے ہوئے کہا کہ جب بارڈر پر کاروباری سرگرمیاں جاری تھیں تو دیگر کاروبار کے ساتھ اسپئرپارٹس کا کاروبار کرنے والے بھی مطمعن اور خوش تھے ان کے ہاں روزانہ لاکھوں روپے کا کاروبار ہوتا تھا اوراس شعبے میں مالکان کے علاؤہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی بھی اچھی خاصی آمدنی ہوتی تھی مگر جب سے بارڈر پر بریک لگ چکا ہے اسپئرپارٹس کا کاروبار بھی کساد بازاری کا شکار ہے روزانہ بمشکل پانچ سو ہزار کی کمائی ہوتی ہے مزدوروں کی دیاڑی کے ساتھ دکانوں کے کرائے بھی نہیں نکل رہے ان کا کہنا تھا کہ اسپئرپارٹس سے وابستہ پورا صنعت متاثر ہے کراچی کوئٹہ اور لاہور کے بیوپاری بھی آگے مال نہ نکلنے کی وجہ سے ہاتھ دھر کر بیٹھ چکے ہیں بارڈر کے کاروبار سے صرف بلوچستان کے لوگوں کا فائدہ نہیں ہے بلکہ بارڈر کی بدولت ملک کی یہ اہم صنعت بھی بھرپور منافع کمارہا تھا ان کا کہنا تھا کہ بعض فیصلے ہوسکتا ہے جزوقتی فائدے کا سبب ہوں مگر ان کے جو مہلک اثرات ہیں وہ سماج کو دیمک زدہ بناتے ہیں بارڈر کا کاروبار پر اگر دیمک لگ جائے گاتو اس سے ایک نہیں ہزار نہیں بلکہ لاکھوں لوگ بے روزگار ہوکر نان نفقہ کے محتاج بنیں گے اور یہ لاکھوں لوگ جو بارڈر کی وجہ سے روزگار کررہے تھے ان کے لیے متبادل روزگارکے زرائع بھی نہیں جہاں وہ اپنی گزر بسر کرسکیں بحرحال بارڈر کی موجودہ پوزیشن جو محدود کردیاگیا ہے اس سے گھر گھر متاثرہونے جارہا ہے حکومت صرف تیل کی مد میں نقصانات کا جائزہ بتانے کی بجائے اس بات پر بھی سنجیدہ رویہ اختیار کرے کہ جب ایک ایسے صوبے میں جہاں غربت بے روزگاری ناخواندگی قحط سالی نے لوگوں کی زندگیاں ویسے ہی اجھاڑ کردی ہیں جب اتنے بڑے پیمانے پر بیروزگاری پھیلے گا تواس کے مضر اثرات سے کس طرح بچا جاسکتا ہے لوگ مذید بدحالی کا شکار بنیں گے اگر یہ چند لوگوں کا مسلہ ہوتا حکومت جو بھی اسٹینڈ لیتا تو اس پرکسی کو اعتراض نہیں ہوتا مگر یہ یہاں کے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی کا مسلہ ہے حکومت اگر کسی دوسرے فیلڈ میں سبسڈی کی مد نقصانات برداشت کرسکتا ہے تولاکھوں لوگوں کی خاطر اسے یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا کیونکہ یہاں انسانی بقا کا دارومدار بارڈر سے جڑا ہوا ہے لوگ جب بارڈر پر جائیں گے تب ان کے گھروں کے چولہے جلیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں