اپوزیشن اصولی سیاست نہیں معجزات چاہتی ہے
کسی حکومت کو قبل از وقت گھر بھیجنے کی خواہش ہمیشہ اپوزیشن کے دل میں جنم لیتی ہے۔اس لئے یہ ذمہ داری بھی اپوزیشن کے کندھوں پر ہوتی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرے یا پیدا شدہ حالات سے اس طرح فائدہ اٹھائے کہ حکومت گھر جانے پرمجبورہو جائے۔ پاکستان میں بھی اپوزیشن یہی کچھ کررہی ہے۔لیکن اس قدر اشتعال میں ہے کہ مناسب حکمت عملی طے کئے بغیر ہی احتجاجی مہم پر نکل کھڑی ہوتی ہے۔پی ڈی ایم کی عاجلانہ تشکیل اورمعروضی حالات کے برعکس عوامی حمایت حاصل کئے بغیر ہی بھاری بیانیہ کا اعلان اس کا ثبوت ہے۔اگر مناسب سوچ بچار کی جاتی تو ان حالات میں بھی ایک قابل عمل حکمت عملی وضع کی جا سکتی تھی۔مہنگائی کے مسئلے کو کیش کرانا ممکن تھا،نہیں کیا گیا دوسری نعرے بازی نقصان دہ ثابت ہوئی۔ مگر جو ہو چکا اس پر نوحہ خوانی درست نہیں، اب بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے،لیکن سوچ بچار درکار ہے۔مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کا یہ کہنا کہ گھر تو سب کا ہوتاہے لیکن وقت کسی کسی کا ہوتا ہے، اسی جذباتی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے۔نون لیگ اور ان کی ہم خیال جماعتوں کو یہ حقیقت بھی ملحوظ رکھنی ہوگی کہ گھر جانے میں اور گھر بھیجنے میں بڑا کمیتی اور ماہیئتی فرق ہے۔گھر سب کا ہوتا ہے کے معنے ہیں:جب کاروباری یا دفتری امور نمٹا لئے جائیں تو ہر شخص اپنے گھر جاتا۔اس میں کسی جب کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔لیکن گھر بھیجنے کا مطلب ہے کہ متعلقہ شخص کو قبل از وقت اور جبری طور پر گھر فارغ کر دیا گیا ہے۔ایسا شخص عدالت سے رجوع کر سکتا ہے اورقانونی سقم رہ گیاہو تومتأثرہ شخص بحال ہو جاتا ہے۔عوامی نمائندے عدلیہ سے کم رجوع کرتے ہیں، عوام کی عدالت میں اپنا مقدمہ دائر کرتے ہیں۔عوامی عدالت کا فیصلہ تمام دیگر فیصلوں پر بھاری ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کی اکثریت ساری پریشانیوں کا تیر بہدف حل ہے۔جیسے کہاوت ہے:’ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں‘۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں کو احساس ہوگیا ہوگا کہ گزشتہ چار دہائیوں میں ان سے کچھ کوتاہی اور سیاسی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں،وہی ان کے گلے سے لٹک رہی ہیں، پاؤں کی زنجیر بنی ہوئی ہیں۔انہوں جرمنی کی چانسلراینجلہ مرکل کی طرز حکمرانی سے کوئی رہنمائی نہیں لی۔وہ 18 سال مسلسل اقتدار میں رہیں،انہوں نے2021کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کااعلان کردیا ہے۔ انہوں نے اٹھارہ برس میں اسی فلیٹ سے حکومت کی جہاں اقتدار میں آنے سے پہلے مقیم تھیں،ان کی الماری میں تمام ملبوسات 20سال پرانے ہیں۔ گھر میں کوئی نوکر یا باورچی رکھا نہ نفیس کپڑے خریدے۔گھر کاے سب کام وہ اور ان کے شوہر مل جل کر کرتے ہیں۔ ”ڈالرکمانے“کا خیال کبھی دل میں نہیں آیا۔وہ 20گھنٹے کام کرتی ہیں۔ان کے بارے میں ایک اخبار نے لکھاتھا کہ جرمن چانسلر نے ایک سالانہ ڈنر میں 2008والا ڈریس پہن لیا تھا۔ایک رپورٹر نے سوال کیا: ”میڈم! آپ نے سستے کپڑوں میں اٹھارہ برس گزار دیئے، کیوں؟“،اینجلہ مرکل نے جواب دیا: ”میں جرمنی کی چانسلر ہوں، کوئی فیشن گرل نہیں ہوں“۔حکومت چھوڑتے وقت ان کے کل اثاثے 11.5 لاکھ ڈالر ہوں گے۔واضح رہے، اینجلہ مرکل کو ایک بد عنوان حکمران سے حکومت ملی تھی لیکن انہوں نے کبھی ورثے کو برا بھلا نہیں کہا، خود اچھا بن کر دکھایااور جرمنی کے مفلوک الحال لوگوں کو خوشحالی عطا کی۔گزشتہ 9سال سے یورپ کی طاقت ور ترین خواتین کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں۔ کاش ہمارے حکمرانوں نے کبھی فرصت کے لمحات میں دنیا کے عوامی نمائندوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا ہوتا! انہیں علم ہوتا کہ عزت اور شہرت اپنی رہائش چھوٹے چھوٹے گھروں سے محلات میں منتقل کئے بغیر بھی کمائی جا سکتی ہے۔ایران کے صدر بنی صدر اپنے اقتدار کے زمانے میں اسی فلیٹ میں مقیم رہے، جہاں پہلے مقیم تھے اور اقتدار سے ہٹنے کے بعد بھی اسی فلیٹ میں مقیم رہے۔دوپہرکا کھانا اپنے گھر سے ٹفن میں لے کر جاتے تھے۔ اقتدار سے فارغ ہونے کے بعد ایک خیراتی تنظیم کے کارکن ان کے پاس چندہ لینے پہنچے تو ایران کے سابق صدر نے کہا: میرے پاس 76ماڈل ٹیوٹا کرولاذاتی کار ہے، اسے فروخت کر کے جورقم ملے، اپنی تنظیم کے اکاؤنٹ میں جمع کرادو۔سابق صدر کی کار نیلامی میں مہنگے داموں بکی۔مصر کے صدر جمال عبدالناصر اپنے پرانے فلیٹ میں رہائش پذیر رہے۔ پاکستانی عوام کی بد قسمتی ہے کہ انہیں اینجلہ مرکل جیسے حکمران نہیں ملے،اور کبھی کبھار لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹواور محمد خان جونیجو جیسے حکمران ملے توعوام نے ان کی حفاظت نہیں کی۔اس کے باوجود مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں،قدرت نے پاکستان کوسوئٹزر لینڈ سے زیادہ خوبصورت بلند ترین پہاڑ عطا کئے ہیں، سارا سال بہنے والے دریا ہمارے پاس ہیں،ان پر ڈیم تعمیر کرکے آئندہ نسلوں کو سستی بجلی(ہائیڈل پاور) دے سکتے ہیں۔زرخیز زمین سے استفادہ کرکے غذائی اجناس وافر مقدار میں اگا سکتے ہیں۔اسمگلنگ روک کر عوام کو مہنگائی سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں کا ماتم کب تک کیا جائے گا؟آج فیصلہ کر لیں کہ ہم آئندہ اپنی قیمتی معدنیات مال مفت سمجھ کر کوڑیوں کے دام دوسروں کے حوالے نہیں کریں گے۔ ہم وہ غلطیاں نہیں دہرائیں گے جو سیندک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ اور ریکو ڈک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ جیسے معاہدوں کی صورت میں کر چکے ہیں۔ہمارے ذخائر بیرون ملک منتقل ہوتے رہے مگر ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان میں سونا کتنا تھا اور چاندی کتنی؟معاہدوں پر دستخط کرنے والوں نے اپنی جیب بھری،سرکاری خزانہ خالی رہا۔700کلو میٹر طویل خوبصورت ساحل ہے، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی
حکومتیں مناسب منصوبہ بندی کریں تو اسے غربت ختم کرنے کا ذریعہ بنا سکتی ہیں۔ان فکری،کرداری خرابیوں کو ترک کریں جو ہمارے عوام کو خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے کا اصل سبب ہیں۔ انجانے اور ان دیکھے خوف کے حصار سے باہر نکلیں۔خود پر، اپنے عوام پر اعتماد کریں۔جدید دور میں فرسودہ سوچ اور ازکارفتہ عادات کے ساتھ زندہ رہنا ممکن نہیں۔انقلاب فرانس، انقلاب روس ایک صدی پرانے واقعات ہیں۔انقلاب چین جدید دورکا واقعہ ہے۔اپنے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے ذہانت سے کام لیا جائے تو آئندہ نسلوں کے سامنے یہ اعتراف نہیں کرنا پڑے گا:”پیارے بچو! ہم شرمندہ ہیں؛تمہارے قاتل زندہ ہیں!“


