کورونا کی تیسری لہر خطرناک، اسپتالوں میں آئی سی یوز میں گنجائش ختم ہو گئی

لاہور: پاکستان میں جہاں روزانہ کی بنیاد پر کورونا وائرس کے ہزاروں کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں وہیں ملک میں آکسیجن کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اسپتالوں میں گنجائش ختم ہونے کے قریب ہے، جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 10 اموات رپورٹ ہوئیں، سرکاری و پرائیویٹ اسپتالوں میں مجموعی طور پر 1304 مریض ریرعلاج ہیں۔اسپتالوں میں 835 کورونا کیمصدقہ مریض زیرعلاج ہیں جبکہ 262 مریض تشویشناک حالت میں وینٹی لیٹرز پر موجود ہیں۔673 مریض ہائی ڈپنڈنسی یونٹس اور 369 آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں جبکہ کورونا آئی سی یوز میں 87 فیصد سے زائد گنجائش ختم ہو چکی ہے،آکسیجن کیحامل 70 فیصد بیڈز بھی بھر چکے ہیں۔دوسری جانب آکسیجن سلنڈرز کی طلب میں اضافے کے بعد سلنڈرز کی قیمت میں دوو گنا اضافے بھی دیکھنے میں آیا، اس حوالے سے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ اسپتالوں میں آکسیجن فراہمی کو ہرصورت یقینی بنایا جائے گا۔وبائی صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا کر آکسیجن سلنڈرز مہنگے داموں بیچنے والوں سے آہنی ہاتھوں نمٹیں گے۔ عوام خدارا ہوش کے ناخن لیں ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور اپنی قیمتی زندگیوں کی قدر کریں۔ عوامی تعاون اشد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر وزیراعلی عثمان بزدار نے اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز اور آکسیجن بیڈز کی تعداد فوری بڑھانے کی ہدایات جاری کردیں۔ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے سے اسپتالوں پردبا بڑھ رہاہے۔ متعلقہ محکمہ آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنیز سیمسلسل رابطے میں رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں