نواز شریف کو ملک کے مقتدر اداروں نے حکومت اور ملک سے نکالا ہے،شاہد خاقان عباسی

کراچی :سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نواز شریف کو ملک کے مقتدر اداروں نے حکومت اور ملک سے نکالا ہے۔اب بات وزیراعظم کے گھر جانے سے نہیں بلکہ آئین پر عمل کرنے سے بنے گی۔این اے 249میں مفتاح اسماعیل کی فتح یقینی ہے۔ہم یہاں ڈسکہ جیسی صورت حال پیدا نہیں ہونے دیں گے۔دھاندلی کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان اور کراچی کے لیے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ان خیالات کا ا ظہار انہوں نے بدھ کو مسلم لیگ ہاؤس کارساز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سابق گورنر سندھ محمد زبیر،سابق وفاقی وزیر امیر مقام،خواجہ طارق نذیر،علی اکبر گجر اور ناصرالدین محمود بھی موجود تھے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تیرہ سال کے دورارن سندھ میں کوئی کام نہیں کیا لیکن الیکشن قریب آتے ہی کام شروع کرادیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ این اے 249میں مسلم لیگ (ن) کا بھی امیدوار ہے۔ہمیں افسوس ہے کہ صوبائی حکومت نے وزرا کے فنڈز کو استعمال کیا ہے۔وفاقی حکومت کے وزرا اور مشیروں نے بھی حلقے کا دورہ کیا۔احساس اور راشن کارڈز تقسیم کیے گئے۔پیپلز پارٹی نے حلقے میں اشتعال پھیلانے کی کوشش کی۔من پسند پولنگ کے عملے کو مخصوص پولنگ اسٹیشن پر تعینات کیا جارہا ہے۔پولنگ کے دوران جو شکایت سامنے آئیں گی وہ الیکشن کمیشن کو دیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سکیورٹی فراہم کرے۔الیکشن کمیشن پولنگ ایجنٹ کو موبائل فون رکھنے کی اجازت دے۔پولنگ ایجنٹ موبائل کے ذریعے خرابی کی فوری شکایت کی جائیگی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فیلکن اسکول،عثمان مسجد،آدم جی اسکول،پی سی اسکول،سٹیزن اسکول سمیت دیگر پولنگ اسٹیشنوں میں میں دھاندلی کا خدشہ ہے۔ہمیں خدشہ ہے کہ فائرنگ کراکے پولنگ میں خلل ڈالا جائے گا۔غازی چوک،چاندنی چوک رانگڑ محلہ میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ہم فوج کی تعیناتی کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فیصل وواڈا اس حلقے سے منتخب ہوکر پانی کے وزیر بنے مگر حلقے میں پانی نہیں لاسکے۔جو وزیر اپنے حلقے میں پانی نہ لاسکے وہ ملک کے لئے کیا کام کریں گے۔حلقے کے عوام کو پانی خریدنے پر ملتا ہے۔عوام کا پانی ان کو ہی فروخت کیا جاتا ہے۔پانی کی فروخت سے اربوں کی آمدنی کہاں جاتی ہے؟مسلم لیگ (ن) پانی کا مسئلہ حل کرائے گی۔بلدیہ کے پانی پر مافیا کا راج ہے۔حکومت پانی فراہم نہیں کرتی ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جن لوگوں نے چینی 115روپے فی کلو اور آٹا 70روپے کلو کردیا ہے عوام ان کو ووٹ نہیں دیں گے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کا حصہ ہوتی تو بھی ہم عوام کی بات کرتے۔بشیر میمن نے جو سوال اٹھائے ہیں ان کا جواب ملنا چاہیے۔مجھ پر نیب میں کیس ہیں میں سوال کرتا ہوں کہ مدعی کون ہے جواب نہیں ملتا۔بشیر میمن کے سوالات کی تفتیش ہونی چاہیے۔جہانگیر ترین پر بھی کیسز وزیر اعظم نے بنوائے ہیں۔اب جہانگیر ترین جانیں اور ویر اعظم جانیں۔انہوں نے کہا کہ نوا شریف کو ملک کے مقتدر اداروں نے حکومت اور ملک سے نکالا۔نواز شریف علاج کے لیے ملک سے باہر گئے ہیں۔پی ڈی ایم کا اعتماد بحال کرنے کے لئیے مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی کو دعوت دیتے ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عمران خان نے گزشتہ دس تقریر میں کرونا پر کوئی بات نہیں کی۔پاکستان واحد ملک ہے جس کو ایک ویکسین خریدنے کی توفیق نہیں ہوئی۔پانچ کروڑ ویکسین فوری لانی چاہئیں۔ہندوستان کی حالت سب کے سامنے ہے۔حکومت ناکام ہوگئی تو فوج کو بلانا پڑا۔حکومت کی کوویڈ کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔حکومت کا ہر وزیر چور ہے۔عمران خان کے آس پاس سارے چور بیٹھے ہیں۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ کراچی کے لئیے (ن) لیگ نے کام کیا ہے۔گرین لائن کا کام ن لیگ کے دور میں ہوا۔جو کام رہ گیا تھا وہ صوبائی حکومت کے ذمہ تھا۔نواز شریف نے کے فور میں اپنا حصہ پورا ڈالا تھا۔پی ٹی آئی حکومت نے گیارہ سو ارب کے اعلان کردیالیکن اس میں سے کچھ بھی نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ بلدیہ سے نو سو کروڑ روپے سالانہ کا پانی خریدا جاتا ہے۔صدر عارف علوی دعوی کرتے تھے کہ ٹینکر مافیا کو ختم کردیں مافیا کو ختم کردیں گے۔صدر عارف علوی کے دعوے کہاں گئے؟ہم نے بلدیہ کے عوام کو پانی دینے کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کریں گے۔نجی سیکٹر سے پانی لانا پڑا تو لائیں گے۔مسلم لیگ (ن) نے سیکھ لیا ہے کہ الیکش کیسے کراتے ہیں اور دوبارہ کیسے کراتے ہیں۔سابق وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ ن لیگ کے کارکنان مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے رمضان میں الیکشن مہم چلائی۔بلدیہ کے عوام میں حکمرانوں کے خلاف غصہ ہے۔عوام کو کبھی کسی نے کوئی کام کرکے نہیں دیا۔بلدیہ کے عوام نے فیصلہ دیا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کے ساتھ ہیں۔ضمنی الیکشن میں فتح مفتاح اسماعیل کی ہوگی۔ڈسکہ جیسے حالت پیدا کرنے کی کوشش کی تو نتائج خطرناک ہوں گے۔دھاندلی کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان اور کراچی کے لئے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔کسی نے گڑ بڑ کی تو امن امان کی حالت بہت خراب ہوجائیگی۔ہم پرامن الیکشن چاہتے ہیں۔عوام کی طاقت کو کوئی نہیں روک سکیگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں