بلوچستان: ”باپ“ اور تحریک انصاف میں خلیج بڑھنے لگی

کوئٹہ :بلوچستان میں حکمران جماعتوں بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف میں خلیج کم نہ ہوسکی،بی اے پی کے ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے سامنے صوبائی وزیر تعلیم کے رویے سے متعلق شکایات کے انبار لگادئیے دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی کمیٹی کے ترجمان نے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قراردیتے ہوئے مسترد کردئیے۔گزشتہ روز وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان سے بلوچستان عوامی پارٹی اور اتحادی ارکان اسمبلی، سینیٹراور پارلیمانی سیکرٹریز کی ملاقات کی ملاقات میں وفاق اور صوبے کی سطح پر بی اے پی اور اتحادی جماعتوں کے وزرا اور اراکین کی کارکردگی زیر غور آئی،بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف بلوچستان میں پیدا ہونے والی خلیج اس وقت وسعت اختیار کرگئی جب ملاقات میں بی اے پی کے ارکان کی صوبائی وزیر سردار یار محمد رند کے خلاف شکایات کئے گئے اور کہاگیاکہ صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے ان کے ایریاز میں محکمہ تعلیم میں غیر ضروری مداخلت، سیاسی بنیادوں پر لوئر کیڈر افسران کی تبدیلی کی گئی ہے جبکہ سول سیکرٹریٹ میں مسلح محافظوں اور گاڑیوں کی بڑی تعداد کی موجودگی سے بے چینی کا ماحول ہے۔ اس طرح کا رویہ قابل قبول نہیں،ارکان نے کہاہے کہ بی اے پی وفاق میں اتحادی ہے اور یہ اتحاد شراکت داری کی حیثیت سے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کی پارلیمانی کمیٹی کے ترجمان نے اس امر پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے فیصلے کے برعکس ایک بار پھر وزیر اعلی سیکرٹریٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت بیان جاری کیا گیا ہے جس کو پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی مکمل طور پر مسترد کرتی ہے ترجمان نے کہا کہ چونکہ وزیر اعلی سے پی ٹی آئی بلوچستان کو درپیش تحفظات کا جائزہ لینے کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزیر اسد عمر خان کو رابطہ کار مقرر کیا ہے لہذا پی ٹی آئی یہ معاملہ ترجیحآ ان کے سامنے رکھے گی اور اس کے بعد پی ٹی آئی وزیر اعلی سیکرٹریٹ سے جاری اس بیان پر دستاویزی ثبوت سمیت اپنا تفصیلی موقف جاری کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں