جس ملک میں عوام کے ساتھ ظلم ہورہا ہو اس کی قرارداد کی عالمی حیثیت کیا ہوگی؟لشکری رئیسانی

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے قومی اسمبلی سے فلسطینیوں کے حق میں منظور ہونے والی متفقہ قرار داد کو ملکی عوام اور فلسطینی کاز سے سنگین مزاق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی اکثریت سلیکٹڈ لوگوں پر مشتمل ہے مفلوج پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی قرار داد کی بین الاقوامی حیثیت کیا ہوگی؟ قومی اسمبلی کی قراردادوں پر اس وقت باقی دنیا عمل کریگی جب حقیقی نمائندے اپنے عوام اور اسلامی دنیا کی نمائندگی پارلیمنٹ اور حکومت کے ذریعے کریں گے یہ بات انہوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے سیاسی کارکنوں سے سراوان ہاؤس کوئٹہ میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہاکہ جس پارلیمنٹ کی اکثریت سلیکٹڈ لوگوں پر مشتمل ہو اورانہیں ایک خاص مقصد کیلئے سلیکٹ کر کے پارلیمنٹ میں بٹھایا گیا ہو اس مفلوج پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی قرار داد کی ملک میں کوئی حیثیت نہیں تو بین الاقوامی حیثیت کیا ہوگی؟۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں سیاسی نورا کشتی کے ذریعے پاکستانی عوام کے جذبات سے کھیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ جو ملک کے بالادست طبقہ کے ظلم و جبر کو قانونی شکل دینے کیلئے قانون سازی تو کرسکتی ہے مگر اس نے آج تک ملک کے آئین اور قانون کا دفاع نہیں کیا اور ملک کے آئین اور قانون کو توڑنے والے اپنے آپ کو آئین اور قانون سے بالاتر سمجھ کر آزاد ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک کثیر القومی مملکت ہے یہاں صوبائی اسمبلیاں تو اپنے اپنے ایوانوں سے قراردادیں پاس کرکے فیڈریشن کو بھیجتی ہیں مگر ان قرار دادوں پرعمل نہیں ہوتا انہوں نے کہاکہ ایک ایسے ملک میں جہاں کے لوگوں کیساتھ ظلم وجبر ہورہا ہے اس کی قرار داد کو بین الاقوامی ادارے اور لوگ دیکھیں اس ملک کے اپنے لوگوں کیساتھ کیا کچھ ہورہا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کے لوگ رنگ‘ مذہب اور نسل سے بالاتر ہوکر سڑکوں پر ہیں ایسے میں اسلامی دنیا کے کٹھ پتلی حکمران زبانی جمع خرچ کرکے اپنے لوگوں دھوکہ دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی ڈیزائن کی گئی پارلیمنٹ اپنے ملک کے مسائل حل نہیں کرسکتی یہ پارلیمنٹ باقی دنیا کے معاملات میں کیسے اپنا کردار ادا کرے گی انہوں نے کہا کہ اس وقت اس قرار داد اور اسلامی ممالک کی پارلیمنٹ کی حیثیت ہوگی جب عوام کے ایجنڈے کے تحت کٹھ پتلی حکومتوں کا اسلامی دنیا سے خاتمہ کیا جائے تب اسلامی دنیا کے دیگر معاملات حل ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں