موٹر سائیکل کے بدلے لینڈ کروزر؟

وزیر اعظم عمران خان روزاول سے عوام کو یقین دلاتے رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کسی لحاظ سے نون لیگ جیسی پارٹی نہیں، ان کے مشیروں، وزیروں اور پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں میں کوئی ایسا فرد شامل نہیں جو موٹر سائیکل پر آیا تھا اور وہ لینڈ کروزر پر واپس جانے کا ہنر جانتا ہے۔ مگر مالم جبہ سے راولپنڈی رنگ روڈ تک اسکینڈلز کا ایک ضخیم پلندہ اس یقین دہانی کا منہ چڑانے کے لئے کافی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے کوئی ایک کیس اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔چینی اور آٹا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کی جیبوں سے کھربوں روپے نکالنے والوں میں پی ٹی آئی کے صف اول رہنما جہانگیر ترین سر فہرست پائے گئے تو پارٹی کے اندر سے اس عوام دشمن اور بے رحمانہ لوٹ مارکے بڑے ملزم کو بچانے کے لئے 30اراکین قومی و صوبائی اسمبلی پر مشتمل ایک طاقت ور پریشر گروپ ابھر کر نہ صرف سامنے آیا بلکہ اس کی بھاری بھرکم دھاڑ سے وزیر اعظم ہاؤس کے در و بام میں ارتعاش محسوس ہونے لگا ہے۔اس پریشر گروپ کا براہ راست ہدف وزیر اعظم عمران خان ہیں، کسی دوسرے شخص کا نام نہیں لیاجاتا۔چند ہفتوں قبل یہ گروپ تشکیل دیا گیا اور ”آیا اور چھایا“ کی مثال بن گیا۔اب اس نوزائیدہ گروپ میں شامل ہونے کے لئے کراچی اور خیبر پختونخوا کے ناراض اراکین بھی متحرک ہوگئے ہیں۔مشترکہ مفادات متأثرین کوکھینچ کر ایک چھت کے نیچے لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سیاست در حقیقت مفادات کی جنگ کا دوسرا نام ہے۔ مفادات تمام روایات، اخلاقیات اور اقدار کو نگل لیتے ہیں۔مغلیہ خاندان کے بانی ظہیرالدین بابر کے والد کو اس کے چچا نے قتل کرکے ریاست فرغانہ پر قبضہ کر لیا تھا۔بابر جان بچا کر اپنے حمایتیوں کے ساتھ ہندوستان پہنچ گیا۔میدانی علاقوں میں رہنے والے سہل پسند ہوتے ہیں، پہاڑی علاقے سے آنے والوں کا مقابلہ نہیں کر سکے،ظہیرالدین بابر یہاں اپنی سلطنت قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔مغلیہ بادشاہ اورنگزیب نے اپنے کسی بھائی کو زندہ نہیں چھوڑا۔یہی تاریخ دنیا کے ہر حصے میں دہرائی جاتی ہے۔مرتے وقت قاتلوں میں شامل اپنے قریبی اور قابل اعتماد ساتھی کو دیکھ کربادشاہ کی زبان پر یہی شکایتی جملہ ہوتا ہے:”بروٹس تم بھی؟“۔۔۔۔عمران خان نے اس تاریخی سچائی کو اپنی حکومتی مصروفیات کے باعث بھلا دیا یا نظر انداز کر دیا۔نتیجہ ان کے سامنے ہے۔انہیں یاد ہونا چاہیئے تھا کہ مافیاز ختم کرنے کا نعرہ لگانا جرم نہیں، لیکن مافیاز کا گریبان پکڑنا سنگین جرم ہے۔ماریاز کا پیٹ پھاڑنے، سڑکوں پر گھسیٹنے اورکھمبوں سے لٹکانے کا نعرہ خود مافیاز بھی لگاتی رہی ہیں مگر عملاً اخوت، بھائی چارے اور رواداری کا مظاہرہ کیا۔گزشتہ کل ایک تھے، آج بھی ایک ہیں اور آئندہ کل کو بھی ایک ہی رہیں گے۔مفادات کی یکسانیت اس بھائی چارے کی مرکزی قوت ہے۔درمیانی طبقہ اپنی نفسیات کے ہاتھوں مجبور ہے، حالات اسے دھکیل کر نچلے طبقے کی طرف لے جانے کے کوشش کرتے ہیں مگر درمیانہ طبقہ اشرافیہ میں شمولیت کے خواب دیکھتا ہے،اس جدوجہد میں تمام رشتے ناتے، معاشرتی اقدار، دوستی کے عظیم اور مثالی تعلقات پس پشت ڈال دیئے جاتے ہیں۔مالم جبہ، جنگلہ بس،اور دیگر اسکینڈلزاس خواہش اور خواب کی تکمیل کے عملی مظاہر ہیں۔وزیر اعظم عمران خان مانیں یا نہ مانیں انہوں نے مافیاز کے خلاف ابھی تک کرکٹ والی جارحانہ حکمت عملی نہیں آزمائی۔مافیاز کے خلاف جارحانہ بالنگ نہیں کی۔انکوائری، کمیشن احتساب عدالتیں مافیاز کے لئے کوئی معنے نہیں رکھتیں۔تاخیری حربوں سے فرد جرم عاید نہیں ہونے دیتے،اسی دوران حکومت کے پانچ سال گزر جاتے ہیں، پھر عوام کے سامنے اپنی معصومیت کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں:”کچھ ثابت نہیں ہوا“،”انتقامی کارروائی تھی، کچھ کیا ہوتا تو ثبوت پیش کرتے“، وزراء میڈیا کے سامنے کاغذ لہراتے ہیں، عدالت میں خاموش رہتے ہیں“۔ میڈیا پر شام 6بجے سے رات11بجے تک اپنی بیگناہی اور حکومتی مظالم کی داستانیں بیان کی جاتی ہیں۔ عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ پلیٹ لیٹس کے علاج کے لئے لندن نہ بھجوایا گیا تو خدا نخواستہ موت واقع ہو جائے گی۔جان سے قیمتی کوئی چیز نہیں،پہلے جان بچائی جائے، زندہ رہے تو دولت واپس لی جاسکتی ہے۔ مر گئے تو حکومت کے خلاف قتل کی دہائی دی جائے گی۔ ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑیں گے، ٹرانسپورٹ،ریلوے، بینک اورمارکیٹیں جل کر راکھ ہو جائیں گی۔معیشت تباہ ہو جائے گی۔ان خدشات کے پیش نظر مافیازمراعات لینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔سزا سے بچ جاتی ہیں لیکن ایسی مصلحت پسندی کے منفی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پستے ہیں۔ وزیر اعظم 120احتساب عدالتیں قائم نہیں کر سکے۔ وجہ بھی نہیں بتائی۔عدالتوں کی کمی دور نہ کی جائے تو مقدمات کے فیصلے نہیں ہوں گے۔گھوم پھر کر بات حکومت کے گرد ہی پہنچ جاتی ہے۔ یاد رہے کارکردگی میں لوٹی ہوئی رقم کی واپسی بھی شامل ہے۔رقم واپس نہ لائی گئی تو عوام کو مطمئن کرنا مشکل ہو جائے گا۔اپوزیشن کا دعویٰ ہے جتنا قرض تمام حکومتوں نے 70سال میں لیا، اس سے زیادہ قرض موجودہ حکومت نے ڈھائی سال میں لے لیا ہے، آنے والی حکومتیں ادا کریں گے، حکومت کو اس ضمن میں ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے۔بجٹ پر ہونے والی متوقع بحث اگر گالیوں اور بدزبانی کا شکار ہو گئی تو معاشی حقائق عوام تک نہیں پہنچ سکیں گے۔اپوزیشن بھرپور تیاری کے ساتھ بحث میں حصہ لے،حکومت کو بہتر تجاویز دے۔اس میں شک نہیں کہ عام آدمی مشکلات کا شکار ہے،مہنگائی نے بری طرح متأثر کیا ہے۔اگرحکومت اور اس کے ہم خیال ماہرین معیشت کی یہ دلیل مان لی جائے کہ کوروناکی تیسری لہر کے ساتھ معیشت کی بحالی آسان نہیں، تو سادہ الفاظ میں بتایا جائے عام آدمی کے لئے اس دلیل میں کیا پیغام ہے؟ شایدحکومت کا آنے والا بجٹ ہی اس سوال کا جواب ہوگا۔دوسری جانب آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کی شرائط اور دباؤ پربجٹ میں ایسے اقدامات کئے جانے کی امید ماضی کے مقابلے میں زیادہ ہے جو موٹر سائیکل پر اقتدار میں آنے والوں کی لینڈ کروزر میں واپسی روک سکیں۔ معیشت کی تباہی میں اصل کردار اسی ذہنبیت کا ہوتا ہے جو بیوروکریسی سمیت معاشرے کی تمام پرتوں اپنی محفوظ پناہ گاہیں بنا چکی ہے، بیخ کنی میں وقت لگے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں