بلوچستان حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، راجہ پرویز اشرف

کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملک میں جاری سیاست کی وجہ سے نہ صرف ملک بلکہ جمہوریت کا نقصان ہوا اور پارلیمنٹ کمزور ہوئی، بلوچستان حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے صوبائی حکومت نے تین سال میں کوئی ترقیاتی کارنامہ سرانجام نہیں دیا نہ ہی صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے ملک اور بلوچستان میں آنے والا دور پیپلز پارٹی کا ہے اقتدار میں آکر بے روزگاروں کو روزگارفراہم،امن بحال اور نکالے گئے سرکاری ملازمین کوبحال کریں گے، یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکز ی رہنماء سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی علی مددجتک، جنرل سیکرٹری سید اقبال شاہ، سیکرٹری اطلاعات سردار سربلند جوگیزئی، سردار ثناء اللہ ابابکی، سحر گل خلجی، وڈیرہ شیرین مری، خیر محمد ترین، در محمد ہزارہ، موسیٰ خان، ولی محمد قلندرانی، ملک اکرم بنگلزئی، ایوب آغا، عبدالنبی سمالانی سمیت دیگر نے اتوار کو کوئٹہ کے علاقے نوحصار میں پی ٹی آئی کی سینٹر ل کمیٹی کے رکن سردار عبید ترین، ولید ترین، وقار بازئی کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جلسے سے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا شوہ ہے کہ کارکنوں کا نہ صرف احترام اور انہیں عزت دی جائے بلکہ ہم پارٹی میں شامل ہونے والوں کے لئے آنکھیں بچھاتے ہیں سردار عبید ترین کی پارٹی میں شمولیت سے بلوچستان میں پیپلز پارٹی مضبوط اور فعال ہوگی انہوں نے کہاکہ ملک میں جاری سیاست کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ جمہوریت کا نقصان ہوا اور پارلیمنٹ کمزور ہوئی بلوچستان حکومت نے تین سال میں کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا الٹا بلوچستان میں ترقی اور امن و امان کی صورتحال بری طرح متاثر ہوئی ہے حکومت مکمل طور پر ناکام ہے انہوں نے کہا کہ آنے والا وقت پیپلز پارٹی کا ہے پیپلز پارٹی پورے پاکستان اور بلوچستان میں حکومت بنائے گی اور اقتدار میں آکر عوام کی خدمت، ترقیاتی کام کروائے گی،بے روزگاروں کو روزگارملے گا جنہیں حکومت نے نکالا ہے انہیں ملازمتوں پر بحال کیا جائیگا صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائیں گے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی علی مددجتک، جنرل سیکرٹری سید اقبال شاہ، سیکرٹری اطلاعات سردار سربلند جوگیزئی، سردار ثناء اللہ ابابکی، سحر گل خلجی، وڈیرہ شیرین مری، خیر محمد ترین، در محمد ہزارہ، موسیٰ خان، ولی محمد قلندرانی، ملک اکرم بنگلزئی، ایوب آغا، عبدالنبی سمالانی سمیت دیگر نے کہا کہ بلوچستان حکومت صر ف ٹوئٹر پر صوبہ چلا رہی ہے صوبے ٹوئٹر یا فیس بک پر نہیں عوام کے مسائل حل اور ترقیاتی کام کروانے سے چلتے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبے کی سلیکٹڈ حکومت بجٹ میں پھنسے گی اور اسکے بعد پیپلز پارٹی کا دور شروع ہوگا نا اہل حکمرانوں سے حکومت نہیں چل پارہی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں سے وعدے کئے گئے کہ ناانصافیوں اور محرمیوں کا ازالہ کیا جائیگا مگر اس کے بر عکس محرومیاں اور نا انصافی بڑھ گئی ہیں تین سال گزر گئے صوبے کے طول وعرض میں کوئی کام نہیں ہورہا انہوں نے کہا کہ انتخابات کل ہوں یا دو سال بعد آنے والا دور پیپلز پارٹی کا ہوگا چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے ہمیشہ عوام میں رہنے کی ترغیب کی ہے مہنگائی، بے روزگاری کے ستائے عوام کے مسائل اقتدار میں آکر حل کریں گے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے صوبے اور ملک سے نفرت کی سیاست کا خاتمہ کیا ہے ہم نے نوجوانوں کو ملک وصوبے سے محبت کا درس دیا ہے سردار عبید ترین کی شمولیت سے پارٹی مزید فعال اور مضبوط ہوگی انکے خاندان کی پارٹی کے لئے گراں قدر خدمات ہے سردا ر عبید ترین مختصر ڈیپوٹیشن کے بعد واپس آگئے ہیں اس سے معلو م ہوتا ہے کہ تبدیلی سرکار سے عوام کو مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔انہوں نے سردار عبید ترین، ولید ترین،وقار بازئی کو پارٹی میں شمولیت کرنے پر مبارکباد دی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سردار عبید ترین نے کہا کہ انکے والد کی پیپلز پارٹی سے دیرینہ وابستگی رہی وہ کچھ عرصے کے لئے پیپلز پارٹی سے دور ضرور ہوئے مگر انکا دل پیپلز پارٹی کے ساتھ تھا انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہی و ہ جماعت ہے جو ملکی مسائل حل کرسکتی ہے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دکی، سنجاوی، کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں پارٹی کو فعال اور مضبوط کرنے میں کردار ادا کرونگا

اپنا تبصرہ بھیجیں