دانستہ طور پر بلوچستان بحرانی کیفیت سے دوچار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،بی این پی
کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں ٹکری بہادر خان کھیازئی کے اغوااور گوادر میں سعید بلوچ کے گھر پر پولیس چھاپے چادر و چار دیواری کے تقدس اور بلوچ روایات کی پامالی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دانستہ طور پر بلوچستان کے حالات کو ایک بار پھر بحرانی کیفیت سے دوچار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے خود قانون کی دھجیاں اڑانے سے گریزاں نہیں ماورائے عدالت گرفتاریاں تشویشناک حد تک بڑھتی جا رہی ہیں اور دن دیہاڑے بہادر خان کھیازئی کو اغواکرنے کا عمل یقینا معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کی گھنانی سازش ہے ایسا لگتا ہے کہ بلوچستان میں جنگل کا قانون ہے جو جہاں چاہے کسی کو بھی اپنے غیض و غضب کا نشانہ بنا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں آئینی قانون عدالتیں موجود ہیں کسی کے خلاف کوئی بھی شکایت ہے تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کر کے گرفتار کیا جا سکتا ہے مگر ایسا نہ کرنا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے بی این پی بلوچ اور بلوچستانی عوام کے حقوق کی محافظ جماعت ہے بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ تین روز سے خواتین و بچیاں سراپا ہیں صوبائی حکومت اور اتحادی فنڈز کی تگ و دو میں مصروف عمل ہیں انہیں بلوچستانی عوام سے کوئی سروکار نہیں بلوچ خواتین شدید گرمی میں سراپا احتجاج ہیں لیکن حکمران فنڈز کے حصول کیلئے اسلام آباد میں سرگرداں ہیں


