نیب نے سندھ کی شوگر ملز کے خلاف تحقیقات کی منظوری دے دی

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2019 میں سامنے آنے والے شوگر اسکینژل پر بنی انکوائری کمیشن کی جانب سے غیر قانونی قرار دی گئی سبسڈی حاصل کرنے پر سندھ کی شوگر ملز کے خلاف انکوائری کی منظوری دے دی۔انکوائری کرانے کا فیصلہ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں اس کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت ہوا۔

نیب کے مطابق شوگر مل میرپورخاص، ٹھٹھہ، خیرپور، سجاول، نواب شاہ اور دیگر شہروں میں واقع ہیں۔
نیب کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ شوگر انکوائری کمیشن کی سفارشات پر انکوائری شروع کی جائے گی۔احتساب ادارہ پہلے ہی ملک کے دیگر حصوں میں شوگر ملز کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دینے کے سندھ ہائی کورٹ کے حکم کو معطل کرنے کے بعد نیب نے سب سے پہلے گزشتہ سال ستمبر میں شوگر اسکینڈل کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس میں شوگر انکوائری کمیشن کے تشکیل کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور شوگر کمیشن کی رپورٹ پر حکم امتناع حاصل کرنے کے اقدام کو مسترد کردیا تھا۔

کمیشن کی تجویز کردہ اقدامات کے تحت مختلف محکموں کو مختلف زاویوں اور پہلوؤں کے ذریعے اس اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے ٹاسک دیئے گئے ہیں۔

کمیشن کی فرانزک آڈٹ رپورٹ جسے 21 مئی 2020 کو عام کیا گیا تھا، میں پیداوار، فروخت اور برآمد میں ہر سال شوگر ملز کی جانب سے 150 ارب روپے سے زیادہ کے فراڈ کا انکشاف کیا گیا تھا جس میں پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین، وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی، پی ٹی آئی کی اتحادی پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما محسن الٰہی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے بیٹے شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ کس طرح ملک میں 88 شوگروں پر مشتمل ‘شوگر کارٹیل’ نے چنند سرکاری محکموں کے تعاون سے گنے کے کاشتکاروں اور بعد میں عام آدمی کو گنے کی خریداری، چینی کی پیداوار، مقامی مارکیٹ میں برآمد سے سبسڈی حاصل کرنے تک دھوکہ دیا اور اربوں روپے کی ٹیکس چوری کی۔

ای بی ایم نے سندھ کے محکمہ تعلیم اور خواندگی نوشہرہ فیروز میں 95 غیر قانونی تقرریوں کے الزام میں محمد رمضان سہتو اور دیگر کے خلاف احتساب عدالت میں بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری بھی دی جس سے قومی خزانے کو ایک کروڑ 60 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

سابق وفاقی وزیر غلام مرتضیٰ جتوئی اور دیگر، حاجی خان عمرانی، عبد الجبار یوسفزئی اور دیگر، سابق ایم این اے خدا بخش نظامانی، سابق وفاقی وزیر خدا بخش راجر اور دیگر، بورڈ آف ریونیو ملیر اور دیگر، کوٹری بیراج کے نزدیک واقع پیتم ڈیم کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر سہیل منصور، سابق وفاقی وزیر بابر غوری کے مبینہ فرنٹ مین ریحان منصور خواجہ اور دیگر، مکیش کمار چاولا کے مبینہ فرنٹ مین حسن علی شریف، نائب ڈائریکٹر محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ وحید شیخ اور دیگر، سعدیہ فاطمہ سکندر، عثمان سکندر، ارم فاطمہ سکندر، خلیل الرحمن اور دیگر ، لاڑکانہ ماڈل ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم، گلشن مصطفی اسکیم کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف 15 انکوائریوں کو منظوری دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں