عبدا لقدوس بزنجوکو تبدیل نہیں کیا جا رہا،عثمان کاکڑکے لواحقین کے ساتھ تعاون کرنے کو تیارہیں، جام کمال

کوئٹہ(این این آئی)وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدا لقدوس بزنجوکو تبدیل نہیں کیا جا رہاہے اسمبلی میں پیش آنیوالے واقعے پر اسپیکربااختیار ہیں پارلیمانی کمیٹی بناکر معاملے کو حل کریں عثمان کاکڑکی وفات کے معاملے پر لواحقین کے ساتھ ہرقسم کاتعاون کرنے کو تیارہیں،لواحقین کے پاس اگر کوئی ثبوت ہیں تودیں کسی دباو میں آئے بغیر قاتلوں تک پہنچیں گے۔یہ بات انہوں نے اخبارات کے ایڈیٹرز اور سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی،وزیر اعلی نے کہا کہ اپوزیشن ذمہ داری کامظاہرے کرتے ہوئے ایوان میں اپنے تحفظات پیش کرے سڑکوں اورتھانوں میں مسائل حل نہیں ہوتے اسمبلی کا تقدوس پامال کرنے پر اسپیکر کی جانب سے درخواست دائر کی گئی اسمبلی واقعہ میں سیکورٹی کے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں، جام کمال نے کہا کہ حکومت نے بجٹ ہر صورت میں پیش کرناتھا جسکے لئے ہم سب اسمبلی گئے،اپوزیشن کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے کااختیاراسمبلی کو دیتا ہوں وزیر اعلی بلوچستان نے مزید کہا کہ سرداریارمحمد رند کی ناراضگی سمجھ سے بالاتر ہے، وہ کبھی ناراض اور کبھی خوش ہوتے ہیں، میں نے سردار یارمحمد کے محکمے میں کبھی مداخت نہیں کی، ان کے قبائلی معاملات میں بھی حکومت کبھی فریق نہیں بنی،جام کمال نے کہا کہ بیرون ملک ناراض بیٹھے لوگوں سے اس وقت بات ہوگی جب وہ ملک کو تسلیم کریں گے، خان آف قلات سے رابطے میں نہیں ہوں وزیراعلیٰ نے مختلف اخبارات نے کہا کہ اپوزیشن کے خلاف ایف آئی آر قانون کے مطابق درج کی گئی ہے تاہم معاملے کو حل کرناہے تو اپوزیشن اسمبلی میں آئے۔ سپیکر صوبائی اسمبلی اپوزیشن اور حکومتی ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی بنائیں کمیٹی جو فیصلہ کرے گی حکومت اسے قبول کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ دستاویزات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ترقیاتی اسکیمیں اپوزیشن کے حلقوں میں بھی دی گئی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادر اور دیگر ساحلی علاقوں میں متعدد ترقیاتی سکیموں پر تیزی سے عملدرآمد ہورہا ہے۔ خاص طورپرگوادر میں پانی کے مسئلے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پسنی سے گوادر کو آنے والی پائپ لائن دوماہ میں مکمل ہوجائے گی جس پر 6ارب روپے لاگت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ میرانی ڈیم سے گوادر تک پائپ لائن منصوبے پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کو پانی کی فراہمی کا مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔اسی طرح ساڑھے تین ارب روپے کی لاگت سے گوادر اولڈ ٹاؤن کی بحالی کا منصوبہ مرتب کیاگیا ہے۔ صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے وفاق سے 7ارب جبکہ صوبائی سطح پر 12ارب روپے کے پیکج کے تحت کام کررہے ہیں۔ اسی طرح 8اضلاع میں ٹیلی میڈیسن کا آغاز کیاگیا ہے 200بستروں پر مشتمل امراض قلب ہسپتال مکمل ہونے جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق باقاعدہ ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو ہر منصوبے کی پراگریس رپورٹ مرتب کرکے 30دن کے اندر جمع کرانے کی پابند ہوگی اس عمل سے صوبے میں جاری وفاقی منصوبوں کی بہتر نگرانی کی جاسکے گی۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار کوئٹہ کراچی شاہراہ کو دورویہ بنانے کا منصوبہ وفاقی پی ایس ڈی پی کا حصہ بنایاگیا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کی ترقی کیلئے بلدیاتی اداروں کی بحالی اور نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کو اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ ہم یونین کونسل کی سطح پر انتظامی اور مالی اختیارات دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی مسئلہ کے حل کیلئے ناراض عناصر سے مذاکرات کے امکانات پر ایک سوال کا جواب د یتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت بلوچستان قبولیت کا رویہ رکھتی ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہم نے پی ٹی ایم کے منظور پشتین کو عثمان کاکڑ کے جنازے میں شرکت کی ا جازت دی۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے رکھنے والے کسی بھی شخص یا گروہ سے مذاکرات ہوسکتے ہیں لیکن ملک دشمن عناصر سے کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ عثمان کاکڑ کے لواحقین کی جانب سے انہیں قتل کئے جانے کے شبہ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عثمان کاکڑ کی وفات کے معاملے پر لواحقین کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ لواحقین کے پاس اگر کوئی ثبوت ہیں تو دیں کسی دباؤ میں آئے بغیر قاتلوں تک پہنچیں گے۔ وزیراعلیٰ نے نئے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے کہا کہ حکومت صوبہ کے تمام علاقوں میں انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے اور بجٹ میں صحت اور تعلیم کے شعبے کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں نئے ہسپتالوں کی تعمیر اور موجودہ ہسپتالوں میں سہولتوں میں اضافے کیلئے متعدد منصوبے شامل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے پہلی بار ہیلتھ کارڈ کے اجراء کو حکومت کی بڑی کامیابی قراردیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومتی کاوشوں کے نتیجہ میں اس سال وفاقی پی ایس ڈی پی میں بھی بلوچستان کیلئے ریکارڈ منصوبے اور فنڈز رکھے گئے ہیں انہوں نے اخبارات پر زور دیا کہ صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی سب کو عزیزہے اور حکومتی کاوشوں کو بارآور بنانے کیلئے میڈیا کو بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ حکومتی کوششوں کو اجاگر کریں اور تعمیری تجاویز بھی دیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کے دور میں ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے، امن وامان کو برقرار رکھنے، سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرنے میں ذرائع ابلاغ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر سینئر صحافیوں نے اپنے مسائل سے بھی وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا جس پر وزیراعلیٰ نے ان کو درپیش مسائل کے فوری حل کیلئے احکامات صادر کئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں