افغانیوں کو اپنی حفاظت کا طریقہ خود سیکھنا ہوگا، جوبائیڈن

واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن افغانستان سے متعلق سوال پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف پُرمسرت باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر جوبائیڈن اُس وقت طیش میں آگئے جب ایک صحافی نے افغانستان میں دو دہائی سے زائد عرصے کی جنگ کے خاتمے اور امریکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق مسلسل تین سوالات کر ڈالے۔

اس موقع پر امریکی صدر نے قدرے تلخ لہجے میں کہا کہ افغانستان سے متعلق اب کسی اور سوال کا جواب دینا نہیں چاہتا۔ میں صرف ایسی باتیں کرنا چاہتا ہوں جو خوشی کا باعث ہوں۔ آپ لوگ ایسے سوالات پوچھ رہے ہیں جن کا جواب میں اگلے ہفتے دے سکوں گا ویسے بھی ہفتہ وار تعطیل ہے جس سے میں لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں۔

صحافی کے سوال کے جواب میں صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی فوری تکمیل کی خبروں میں صداقت نہیں۔ فوجیں مرحلہ وار 11 ستمبر تک اپنے شیڈول کے تحت افغانستان سے واپس آئیں گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکا فوجیون کے انخلا کے بعد بھی کابل حکومت کی مدد کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، ہم حکومت کو ٹوٹ پھوٹ سے بھی بچا سکتے ہیں لیکن اب افغانیوں کو خود ہی اس قابل بننا ہوگا۔

صحافی کی جانب سے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی کا امکان موجود ہے اور اس حوالے سے ہم فریقین کی ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں