تمام تنازعات ختم کر کے اپنی آنیوالی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنائیں، نور محمد دمڑ
زیارت:بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء صوبائی وزیر پی ایچ ای / واسا حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہاکہ قبائلی تنازعات ہر علاقے کی تعمیر وترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، دوبھائیوں کے مابین بھی تنازعات جنم لیتے ہیں تاہم خوش قسمت لوگ وہ ہیں جو ان تنازعات کا حل نکال کر اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بناتے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے زیارت میں گزشتہ ماہ دواقوام کے درمیان پیش آنے والے دلخراش تصادم کو مزید بڑھنے سے روکنے اور انکے درمیان تنازعے کو ختم کرنے کے حوالے سے زیارت، سنجاوی، ہرنائی کے قبائلی معتبرین، وعلماء کرام، سیاسی پارٹی کے عہدیداران کے زیارت میں منعقد ہ ایک بہت بڑے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیاصوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ زیارت ایک سیاحتی مقام ہے اور ملک بھر سے لوگ زیارت سیروتفریح کیلئے آتے ہے زیارت میں امن وامان کا قیام اور تمام اقوام کے درمیان بھائی چارے کی فیضا ء قائم کرنے کیلئے زیارت، سنجاوی، ہرنائی سمیت دیگر تمام قبائلی معتبرین، وعلماء کرام کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے انہوں نے کہاکہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے اور اس جدید اور ٹیکنالوجی کے دورمیں سر اٹھا کر چلنا ہے تو ہمیں قبائلی تنازعات اور جھگڑوں سے جان چھڑانی ہوگی انہوں نے کہا کہ ایک گھر میں دوبھائیوں کے مابین بھی تنازعات جنم لیتے ہیں یہ لیکن یہ ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کی اس تنازعہ کوہوا دینے یامزید خون خرابہ اور جھلاؤ گھیراؤ کی طرف بڑھنے کے بجائے اس سے پوری ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا صوبائی وزیر نے کہاکہ ان تنازعات کی وجہ سے ہماری ترقی اورخوشحالی کا سفر متاثر ہورہا ہے،قبائلی تنازعات کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے معاف اور درگزر اللہ پاک کو پسند ید ہ عمل ہے قبائلی تنازعات کا خاتمہ ہی ترقی وخوشحالی کی ضمانت ہے قبائلی تنازعات علاقے کی ترقی اورخوشحالی میں رکاوٹ ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی تنازعات دشمنیاں قوموں کے مستقبل کو تاریکیوں کے طرف دکھیلنے کی مترادف ہے قبائلی نفرتوں اور تعصب کے خاتمے کیلئے تمام قومی قبائلی مشران علماء کرام، سیاسی قائدین اپنا مثبت اور اہم کردار اداکریں علاقائی امن کی کنجی قبائلی بھائی چارے میں ہیں انہوں نے کہاکہ اس وقت زیارت شہر کی جو فضا ہے اس میں عفو و درگزر سے کام لینا اور معاف کرنا ایک بہترین عمل ہیں جرگے میں شریک دیگر قبائلی مشران، وعلماء کرام نے بھی خطاب کیا اور دونوں اقوام میں تنازعہ کو مزید بڑھنے کیلئے قبائلی مشران، وعلماء کرام نے صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ کی قیادت میں دونوں اقوام کے معتبرین کے گھروں میں جرگے لے جاکر ان سے ملاقاتیں کی اور دونوں اقوام کے درمیان مزید 20دنوں کیلئے دونوں قبائل کو جنگ بندی پر راضی کیا گیا اور جرگے نے سنزرئی قوم پر 20دنوں کیلئے زیارت بازار آنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور دونوں اقوام کے درمیان جاری تنازعہ کو ختم کرنے کیلئے نواب ایاز خان جوگزئی بشمول صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ اور دیگر اقوام کے مشران ان دو اقوام کے درمیان صلح / راضی نامہ کروانے کیلئے دونوں اقوام کے معتبرین سے جرگے کی شکل میں ملاقاتیں کرکے صلح کی کوشش کریگی صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہاکہ زیارت کے دو قبائل کے درمیان جاری تصادم / تنازعہ کو ختم کرنے کیلئے ہرممکن کوشش کرے گا اور اس سلسلے میں جب سے ان دو اقوام کے درمیان یہ ناخوشگوار واقعہ رونماہوا ہے تمام تر سیاسی سرکاری مصروفیات کو چھوڑ کرکے ان دو اقوام کو پرامن رہنے کیلئے اپنا بھرپورکردار ادا کیا ہے اور فیصلہ ہونے تک چین سے نہیں بیٹھونگا صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہاکہ میں ان دونوں اقوام کے معتبرین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے تیسری بار بھی ہمارے درخواست کو رد نہیں کیا اور مزید بیس روز جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی اور جرگے کو مزید وقت دیا ہے۔


