بی ایس او یو او بی یونٹ کا ہفتہ وار سٹڈی سرکل و لیکچر پروگرام منعقد۔

بی ایس او جامعہ بلوچستان یونٹ کا ہفتہ وار سٹڈی سرکل لیکچر پروگرام یونٹ آرگنائزر عاطف رودینی بلوچ کے زیر صدارت "تاریخ بلوچ و بلوچستان” کے موضوع پر یو او بی سرکل میں منعقد ہوا جس میں مہمان خصوصی بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل ماما عظیم بلوچ اعزازی مہمان جونیئر وائس چیئرمین حفیظ بلوچ و اسپیکر جیئند ساجدی بلوچ تھے۔
پروگرام میں بی ایس او کے سینٹرل کمیٹی کے اراکین کامریڈ نمرا بلوچ، ڈاکٹر مقبول بلوچ، ڈاکٹر ریاض بلوچ، صمند بلوچ،آغا عدنان شاہ بلوچ، ناصر زہری بلوچ آرگنائزر شال زون شکور بلوچ زونل کمیٹی ممبر بابا بلوچ صدر استہ زون لالا غفور، کمیٹی ممبر یو او بی ثناء اللہ گولہ سابق ڈپٹی آرگنائزر شال زون نذیر بلوچ سمیت کثیر تعداد میں طلباء نے شرکت کی۔
سرکل سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ زندہ قومیں وہ ہوتی ہیں جو اپنی تاریخ زندہ رکھتی ہیں تاریخ کسی بھی قوم کی ثقافت کو زندہ رکھنے قومی جدوجہد کو مظبوط کرنے اور قومی تشخص و قومی شناخت سے واقفیت میں مدد دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سامراجی قوتیں قوموں کو جہد سے روکنے تقسیم کرنے اور قومی ہیروز کے مقصد فکر و فلسفہ کو ختم کرنے کیلئے من پسند و مرضی کی تاریخ لکھ کر حقیقی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اکثر تاریخ دان بلوچ تاریخ کو رند دور(چاکر اعظم) سے شروع کرتے ہیں جو کے تاریخ دانوں کی ایک بڑی غلطی ہے کیونکہ رند سے 400 سال قبل شاہنامہ فردوسی میں بلوچوں کا ذکر واضح ہے۔ سکندر اعظم کے کورٹ ہسٹوریئن ہیروڈوٹس نے بھی ان کا ذکر کیا ہے۔ رند دور سے قبل بلوچ پنجاب میں دودائی (ہوت قبیلہ) خاندان کی صورت میں قدم جما چکے تھے۔ بلوچ قوم کی پہلی منظم ریاست قلات تھی جو نوری نصیر خان کے دور میں عروج پر پہنچی۔ نوری نصیر خان کے دور میں دو اور بلوچ ریاستیں ڈی جی خان راجن پور اور ڈی آئی خان(دودائی ) کی صورت میں پنجاب میں تھیں اور جبکہ دوسری ریاست سندھ میں تالپور کی صورت میں۔ لیکن ان تینوں بلوچ ریاستوں کا آپس میں کوئی اتحاد نہیں تھا جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ جب سکھوں نے ڈیرہ جات پر حملہ کیا تو نہ خان قلات نے انکی مدد کی اور نہ ہی تالپور نے۔ اسی طرح جب انگریزوں نے قلات اورتالپور پر حملہ کیا تو وہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کر پائے جو تینوں ریاستوں کی تباہی کا باعث بن گئی۔ خان محراب خان کو شکست دینے کے بعد انگریزوں نے بلوچستان کو مختلف بین الاقوامی ریاستوں میں تقسیم کیا جس سے بلوچوں کی طاقت مختلف حصوں میں تقسیم ہوئی۔
انکا مزید کہنا تھا کہ 1948 میں جب بلوچستان کو پاکستان میں ضم کیا گیا تو اسی وقت سے مرکز کا رویہ بلوچوں کے ساتھ درست نہیں رہا۔ 1970 تک بلوچستان کو دیگر صوبوں کی طرح صوبے کا درجہ تک نہیں ملا۔ 70 سے پہلے نواب خیر بخش مری سردار عطاء اللہ مینگل،غوث بخش بزنجو سمیت دیگر قوم پرست رہنماؤں کی طویل سیاسی جدوجہد کے بعد ہی بلوچستان کو صوبے کا درجہ تو دیا گیا مگر درحقیقت بلوچوں کو مصنوعی صوبہ دیا گیا تھا کیونکہ ریاست نے ڈیوائڈ اینڈ رول کا فارمولا اپناتے ہوئے بلوچوں کے چند علاقے پنجاب اور چند علاقے سندھ میں ڈالے اور چند پشتون علاقے بلوچستان میں ڈالے گئے تاکہ انہیں منتشر کرکے ان کی طاقت کوتقسیم کر سکیں۔ مرکز اب بھی بلوچستان کے معاملات پر مداخلت کرکے اپنے من پسند نمائندوں کو منتخب کرتی ہے جس کی وجہ بلوچستان پسماندگی کا شکار ہے
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی ریاستی مورخ بلوچ اور بلوچستان کی درست تاریخ لکھ کر بلوچ اور بلوچستان کی پاکستان سے قبل تاریخ کو تسلیم کرے نہ کے سامراجی سوچ اپناتے ہوئے بلوچ تاریخ کو مسخ کریں
سرکل کے سوال جواب کے سیشن میں تاریخ اور لوک شاعری میں حضرت امام حسین کی شہادت کے وقت بلوچ قوم کے چند قبائل کا ذکر سے بلوچ کہاں سے آئے ہیں کہ سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اس وقت حضرت امام حسین کے پاس جو 72 افراد تھے وہ حضرت امام حسین کے خاندان والے ہی تھے چونکہ بلوچ ہمیشہ سے ظالم کے خلاف کھڑا ہوکر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے لوک شاعری میں بھی اسی وجہ سے ظالم کے خلاف و مظلوم کے ساتھ کے تعلق کی وجہ سے لوک شاعری میں ذکر ملتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں