متفقہ حکومت بنالیں تو بھی امریکہ اور اتحادی قبول نہیں کریں گے،گلبدین حکمت یار

کابل: افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ متفقہ حکومت بنالیں تو بھی امریکہ اور اتحادی قبول نہیں کریں گے، 31 اگست کے بعد حکومت کے قیام کے لیے مشاورت ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق افغان دارالحکومت کابل میں پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں طالبان کی حکومت چلے، جس کے لیے ہمارا مشورہ ہے کہ افغان عوام مل کر نئی حکومت کے لیے اتفاق قائم کریں، اسی مقصد کے لیے کونسل بنائی گئی تھی جو طالبان سے نئی حکومت کے قیام پر بات کرے گی، کونسل نے طالبان کو ایک عبوری حکومت کے قیام کا مشورہ دیا اور اسی مشورے کے تحت اب اداروں کے عبوری سربراہ بنائے جا رہے ہیں تاہم ہمارا یقین ہے کہ اگر ہم مل کر حکومت بنائیں تو بھی امریکہ اور اس کے اتحادی افغان حکومت کو قبول نہیں کریں گے، چین افغانستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا تھا لیکن امریکہ نے اسے ایسا نہیں کرنے دیا۔حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے کہا کہ خواتین کے لیے شرعی لباس جائز ہے، طالبان خواتین کو شرعی لباس میں دفاتر میں کام کرنے کی اجازت دیں، مغرب کو ہمارے ملک میں خواتین کے لباس پر ہمیں ڈکٹیٹ کرنے کا اختیار نہیں ہے، جب کہ داعش بھی ایک مسئلہ تو ہے مگر اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے، داعش کسی مسئلے کی بنیاد بھی ہو سکتا ہے تاہم افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہو گیا تو داعش کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔سابق وزیراعظم افغانستان نے انکشاف کیا کہ پنجشیر میں برناڈ نامی فرانسیسی یہودی آیا ہے، یہ ماضی میں بھی احمد شاہ مسعود کے ساتھ رہا ہے، اس شخص کے ساتھ 600 افراد کی انٹیلی جنس ٹیم بھی ہے، اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایک سابق بھارتی فوجی کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ بھارت احمد شاہ مسعود کو پیسے دے اور سپورٹ کرے، دہلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغان عوام کو یقین دلائے کہ کابل کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی، افغانستان میں امن بھارت سمیت سب کے فائدے میں ہے، بھارت پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی طرح ماضی کی غلطیاں مانے اور عدم مداخلت کا اعلان کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں