بلوچستان ہائی کورٹ کی دوبارہ چیئرمین این ڈی ایم اے کو صوبائی حکومت کے ڈیمانڈ کے مطابق ٹیسٹنگ کٹس اور مشینری مہیا کرنے کی ہدایت

کوئٹہ،چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل بینچ نے کرونا وائرس کے لیے حکومتی اقدامات اور دیگر معاملات کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پرسربراہ پیتالوجی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر ندیم صمد نے معزز عدالت کو بتایا کہ روزانہ کی بنیادوں پر اب ہم اوسطاً 250ٹیسٹ کر رہے ہیں جبکہ ٹیسٹوں کی طلب کہیں زیادہ ہے، اگر حکومت ہمیں ٹیسٹنگ کٹس مہیا کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم روزانہ 1000 ٹیسٹ نہ کریں۔ اسپیشل سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ٹیسٹنگ کیٹس کی خریداری مرکزی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی NDMA کی ذمہ داری ہے جبکہ صوبائی حکومت اپنی سطح پر بھی کٹس کی خریداری کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے NDMA کو کٹس کی خریداری کے لیے ڈیمانڈ جمع کروائیں مگر ہماری طلب سے کم ہمیں مہیا کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر معزز عدالت نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 12، 17 اور 24 مارچ 2020کے آرڈر جاری کرنے کے باوجود مرکزی حکومت اور NDMA کا کوئی جواب نہیں آیا، اگرچہ ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل نے ان کا بھرپور دفاع کرنے کی کوشش کی ہے مگر اب تک مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی رپورٹ جمع نہیں ہوئی۔یہ بدقسمتی ہے کہ مرکزی حکومت بلوچستان کے لوگوں سے غیروں جیسا سلوک کر رہی ہے، حالانکہ ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے جو بھی ڈیمانڈ آئے گی مرکزی حکومت ہر حد تک اس کو پورا کرے گی، جبکہ اس کے برعکس محکمہ صحت کے حکام کے مطابق انہیں ڈیمانڈ سے کم چیزیں مل رہی ہیں۔ مرکزی حکومت نے پروگریس رپورٹ جمع نہیں کروائی جس سے ہمیں مایوسی ہوئی ہے۔ لہذا وفاقی سیکرٹری صحت اورچیئرمین این ڈی ایم اے کو نوٹس جاری کیا جائے کہ وہ کون سی وجوہات ہیں کہ کورٹ کے احکامات کو نہیں مانا جارہا۔ معزز عدالت نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو ایک بار پر ہدایت جاری کیں کہ صوبائی حکومت کو ان کی ڈیمانڈ کے مطابق ٹیسٹنگ کٹس اور مشینری مہیا کریں۔ جبکہ وفاقی وزارت داخلہ بارڈرز پر نقل و حمل کومحفوظ میکنزم سے روکے اور پاکستانی شہریوں کے ملک میں داخلے کو بھی صحیح طریقہ اور احتیاط سے ہنڈل کریں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ صوبہ بلوچستان اکیلے ہی مرکزی حکومت اوردیگر صوبوں کی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے کیونکہ دوسرے صوبوں کے بیشتر افراد کو صوبہ بلوچستان سے ہی گزرنا پڑتا ہے، اور مشکل وقت میں ان کی دیکھ بھال دستیاب وسائل سے ہی کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود بھی یہ شکایات باقاعدگی سے سامنے آتی ہیں کہ ایران اور افغانستان کے بارڈرز پر مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر نقل و حمل غیر روایتی راستوں سے جاری ہے۔اس حوالے سے وفاقی حکومت نے عدالت کو اس ضمن میں لیے گئے اقدامات سے ابھی تک آگاہ نہیں کیا۔ معزز عدالت نے کہا کہ وفاقی سیکرٹری داخلہ اور چیئرمین این ڈی ایم اے اس ضمن میں اپنی دستخط شدہ مثبت رپورٹ جمع کروائیں گے اور ایک افسر جس کو تمام حقائق کے بارے میں آگاہی ہو رپورٹ کے ساتھ آئندہ پیشی پر پیش ہوں، اگر ایسا نہ ہوا تو عدالت کے پاس وفاقی سیکرٹری داخلہ، وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ، وفاقی سیکرٹری صحت اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو بلانے کے سوا کوئی آپشن نہ رہے گا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے بتایا کہ معزز عدالت کو پچھلی سماعت میں یہ بتایا گیا تھا کہ محکمہ صحت 10000 PPEs کی خریداری کرے گا لیکن یہ آڈرر کینسل کر دیا گیا،کیونکہ PDMA پہلے سے ہی 76000 PPEs کی خریداری کر چکی ہے لیکن ان PPEs کی انسپیکشن کے بعد کچھ تو تسلی بخش پائی گئی اور بعض کو ڈاکٹروں پر مشتمل کوالٹی اشورنس کمیٹی نے استعمال کے لیے غیر معیاری قرار دیا۔ لہذا دوبارہ یہ ضرورت پڑی کہ مزیدPPEs خریدی جائیں اور جنہیں کمیٹی نے مسترد کیا ہے انہیں واپس کردیا جائے۔ اس موقع پر اسپیشل سیکرٹری صحت نے بتایا کہ سیکرٹری صحت پنجاب نے ایک دستاویز بھجوائی ہے جس میں کمیٹی کے لئے تفصیلات اور معیار واضح کئے گئے ہیں جو کہ کوالٹی اشورنس کمیٹی اور ایڈوائزری بورڈ کے لئے کارآمد ثابت ہوں گے۔ حکومت بلوچستان ان کا جائزہ لے کر خریداری کے لیے ان رہنما اصولوں کو مدنظر رکھے گی۔ اس موقع پر معزز عدالت نے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اور ڈی جی پی ڈی ایم اے کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حوالے سے اجلاس منعقد کریں اور تمام غیر تسلی بخش اشیاء جن کو کوالٹی اشورنس کمیٹی نے مسترد کیا ہوا ہے انہیں تبدیل کرے۔ اور ڈی جی پی ڈی ایم اے تمام ضروری درکار اشیاء کی خریداری کو یقینی بنائیں اس ضمن میں ڈی جی صحت اچھی اور شہرت یافتہ کمپنیوں کی تلاش میں ڈی جی پی ڈی ایم کی معاونت کریں اور رپورٹ کے ساتھ 21اپریل 2020 کو دوبارہ پیش ہوں۔ معزز عدالت نے آرڈر کی کاپی وزیراعظم کے اسپیشل اسسٹنٹ، وفاقی سیکرٹری داخلہ، وفاقی سیکرٹری صحت، چیئرمین این ڈی ایم اے، سیکرٹری صحت بلوچستان، ڈی جی صحت، ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان کو بھجوانے کی ہدایت کی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں