امریکہ نے کابل کی رسوائی سے سبق نہیں سیکھا
میڈیا اطلاعات کے مطابق اگلے روز امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیاکے درمیان چین مخالف معاہدہ طے ہو گیا ہے۔معاہدے کے مطابق امریکہ اور برطانیہ ایٹمی توانائی سے چلنے والی آبدوزیں بنانے میں آسٹریلیا کو مدد فراہم کریں گے۔معاہدے کا نام(AUUKUS)ہے اور اس کی عملداری بحر ہند اوربحرالکاہل کا علاقہ ہے،جبکہ اس کا بنیادی مقصداس علاقے میں دیرپا امن و استحکام یقینی بنانا ہے۔تینوں ملکوں کے سربراہان سمجھتے ہیں کہ آسٹریلیا کو ایٹمی توانائی سے چلنے والی آبدوزیں بنانے کی صلاحیت ملنے کے نتیجے میں خطے کے دیگر ممالک کو یہ پیغام جا ئے گا کہ معاہدے کے شرکاء تیزی سے خطرات سے نمٹ سکیں گے۔امریکہ بہت دنوں سے کوشش کر رہا تھاکہ چین کی پیش قدمی روکنے کے لئے اس خطے میں بھارت، جاپان،آسٹریلیا اور دیگر ممالک کا ایک اتحاد یا بلاک بنائے مگر بھارت اور جاپان امریکی مفادات کے لئے کسی چین مخالف جنگ کا حصہ بننے سے گریزاں تھے۔بھارت لداخ کا متنازعہ علاقہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے دہلی کے کنٹرول میں لا کر نئی صورت حال سے دوچار تھا۔ چین کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھا،جاپان امریکہ سے جوصدمات اٹھا چکا تھا اسے یاد تھے اس لئے اتنی بڑی غلطی کی ہمت نہیں تھی۔یہ دونوں ملک(بھارت اور جاپان) معاہدے کا حصہ نہ بنیں تو یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے دو ڈمی ممالک سے مل کر،جو ہمیشہ اس کی جیب میں رہتے ہیں، انڈو پیسفک سلامتی کے نام سے کسی نئے ’عراق‘پر حملے کا منصوبہ بنایا ہے جو اس خطے میں موجود نہیں۔اس معاہدے کو دیکھ کر امریکہ کو عالمی سیاست کا گرو ماننے والے اپنی آنکھوں پر بندھی ہوئی عقیدت کی پٹی اگر اتار سکیں تو چند لمحوں کے لئے15سے31اگست 2021تک کابل میں رونما ہونے والے واقعات اپنے ذہن کی اسکرین پر لے آئیں یا واٹس ایپ پر دیکھیں۔ آپ کو بیک وقت دو قسم کے امریکی حکمرانوں کا چہرہ نظر آئے گا۔نام دونوں کا ’جو بائیڈن‘ہوگا مگر ذہنی سطح ایک دوسرے سے 180ڈگری مخالف پائیں گے۔کابل سے امریکی فوجی انخلاء کے وقت آپ کے سامنے ایک گھبرایا ہوا،سہماہوا، ہارا ہوا، غمزدہ، اور روتا ہوا”جوبائیڈن“دیکھیں گے۔لیکن 16ستمبرکوویڈیولنک پر بحرِ ہند اور بحرالکاہل (انڈو پیسفک)کو بچانے والا ہیرو(2001میں افغانستان کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے والاسابق امریکی صدربش)نظر آئے گا۔اسے یاد ہی نہیں کہ دو ہفتے پہلے اس کی نیند اڑی ہوئی تھی۔امریکی عوام کو کابل میں ملنے والی تاریخ کی بدترین شکست کی اطلاع دینے کے لئے مناسب الفاظ تلاش کر رہا تھا اوردوہفتے بعدوہی شکست خوردہ ’جو بائیڈن‘ اتحادئیوں کے ہمراہ ایک نئے مشن کا اعلان کر رہا تھا۔اسے قطعاً یاد نہیں رہا کہ کابل میں اسے شکست دینے والی افغانستان کی منظم،تربیت یافتہ اور جدید اسلحے سے لیس فوج نہیں تھی، بلکہ 75ہزار شلوار قمیض اور عام چپلیں پہنے، روایتی پگڑی باندھے مجاہدین نے عام قسم کی بندوقوں سے اس رسوائی سے دوچار کیا تھا۔اس کی اپنی ہزاروں ارب ڈالر خرچ سے تیارکردہ افغان فوج اور اپنے لاکھوں نیٹو فوجی 20سال میں فتح کی امید نہیں دلا سکے۔یہ کیفیت دیکھ کر کوئی ماہر نفسیات ہی بتا سکے گا کہ ہارے ہوئے امریکی صدر ”جوبائیڈن“ کے جسم میں 2001 والے فتح کے نشے سے سرشار امریکی صدر”بش“ کی روح کیسے تحلیل کر گئی؟بزرگ کہہ گئے ہیں کہ جب کسی شخص کو توقعات کے برعکس حالات کی بناء پر شدید صدمہ پہنچے تو اس کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے۔وہ ایسی ہی بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے اور اس کے قریبی ساتھی اس کی دلجوئی کے لئے اس کا ساتھ دیتے ہیں، تاکہ صدمے سے باہر نکل سکے۔امریکی صدر جو بائیڈن کے مذکورہ بالا ”اعلان“ کو بھی اسی تناظر میں دیکھاجائے۔ اس اعلان کو کسی فلمی ولن کی ”بڑھک“ سے زیادہ اہمیت نہ دی جائے۔یہ لات مار کر دیوار گرانے جیسے دعوے ہیں جب لات مارنے کاوقت آتا ہے، ان کی لات پر پلستر چڑھا دکھائی دیتا ہے۔یہ بیچارے خود کچھ نہیں ہوتے، انہیں کٹھ پتلی کی طرح بناسنوار کر پردے کے سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے، اورپردے کے پیچھے سے ڈوریاں ہلا کر تماش بینوں کو ہنسایا یا رلایا جاتا ہے۔ سوچئے یہ چند دن پہلے تک سپر پاور سمجھی جانے والی ریاست کے حکمرانوں کا کردار ہے۔سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ بھی بوکھلاہٹ میں ایسی ہی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں۔ایک سانس میں کہتے ہیں:۔۔۔۔”امریکہ تین سال میں ختم ہو جائے گا“،۔۔۔۔ اور دوسری سانس میں اعلان کرتے ہیں:”آئندہ انتخابات جو 2024میں ہوں گے میں حصہ لوں گا“۔ ہر ذی ہوش شخص کو چاہیئے امریکی صدور کی ذہنی کیفیت پر گہری نظر رکھے،اس لئے کہ ’پاگل کچھ بھی کہہ سکتا ہے، کر سکتا ہے‘۔ہمارے سیاست دان بروقت سوچنے سمجھنے کے عادی نہیں، ان کی اکثریت ابھی تک امریکی حکمرانوں کو بادشاہ گر سمجھ رہے ہیں۔جبکہ ہماری مقتدرہ نے بہت پہلے امریکی زوال کا اندازہ لگا لیا تھا،اور کمال ہوشیاری سے امریکی ہاتھ چھوڑے بغیر‘چین کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ادھر امریکی بھی بھانپ گئے تھے انہوں نے چین کا مقابلہ کرنے کے لئے بھارت کو اپنا تزویراتی پارٹنر بنا لیا۔ بھارت سرکار بھی ”چین کو گھر میں گھس کر ماریں گے“ جیسے دعوے کرتی رہی۔لیکن جب اس دعوے کے مطابق پہلا قدم اٹھایا تو دیکھا کہ چین لداخ پر قبضہ کر چکا ہے۔اپنی گردن پر سخت بوٹوں کی چبھن محسوس ہوئی تو اسے اپنی پڑ گئی، اس خطے پر حکمرانی کا خیال جاتا رہا۔ اسی اثناء میں افغان طالبان نے امریکی مقتدرہ کو دوحہ میں مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا،باقی جو کچھ ہوا اسی بیٹھک کا منطقی نتیجہ ہے۔سوال یہ ہے کہ اس تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں پاکستان کیا کر سکتا ہے؟ اس سوال کا درست جواب صرف وہی شخص دے گا جس کے پاس حالات و واقعات کے تانے بانے کی مکمل معلومات ہوں۔ادھوری اور نامکمل معلومات کی مددسے درست تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا۔ سیاست دانوں میں ہم آہنگی کا فقدان ہے۔پہلے ہی مصائب میں گھرے ہیں،اس کے باوجود ہر دوسرے دن نئے گروپ سامنے آنے لگے ہیں۔ان حالات میں تحمل، سوجھ بوجھ اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔مگر ہر کوئی عجلت میں نظر آرہا ہے۔بعض ابھی تک یقین کئے بیٹھے ہیں کہ وہ اب بھی مقتدرہ کی آنکھوں کا تاراہیں۔وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ ضرورتیں تبدیل ہوچکیں، پسند و ناپسند کے معیار وہ نہیں رہے، جو کبھی بھاؤ تاؤ کے کام آتے تھے۔سیانے کہتے ہیں پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے، کھائی میں گراہوا پانی کام نہیں دے گا۔اس اصول کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ضد کام نہیں آئے گی۔زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔


