کاش یہ ویڈیو سچ نہ ہو!
رواں ہفتے نون لیگ کے ایک سینئر رہنما سے منسوب ایسی ویڈیوکے چرچے اچانک میڈیاکی مرغوب خبر بنے جس کو متعلقہ رہنما نے جعل سازی قرار دیا ہے۔تمام جمہوریت پسند شہریوں کی دعا ہے کہ یہ ویڈیوسچ نہ ہو۔ پاکستان میں جمہوریت ابھی گھٹنوں گھٹنوں چل رہی ہے، عہدِ طفولیت میں ہے۔ بد قسمتی سے مختلف ادوار میں امراض حملہ آور ہوتے رہے،صحتمند نشوونما نہ ہو سکی، تاریخ کا حصہ ہیں، سب واقف ہیں،دہرانے کی ضرورت نہیں۔پہلی جنگ عظیم کے دوران (1917میں)روس میں انقلابی رہنماؤں کی قیادت میں محنت کشوں کے ہاتھوں بادشاہت زمیں بوس ہوچکی تھی۔ دوسری جنگ ِعظیم کے نتیجے میں دنیاکا نقشہ ایک بار پھرتبدیل ہوا، برطانوی بادشاہت کے لئے بھی برصغیر کو اپنی کالونی بنائے رکھنا دشوار ہو گیاتھا۔لیکن اس نے دانشمندی سے کام لیااعوامی غیض و غضب کا نتظار نہیں کیا،مذاکرات کئے اورپر امن طریقے سے اقتدار منتقل کر دیا۔اسے کابل سے امریکی انخلاء جیسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔اس وقت کے معروضی حالات کے مطابق تحریک آزادی کے دوران دو قومی نظریہ کومرکزی حیثیت حاصل رہی چنانچہ پاکستان کادستوری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار پایا۔ لیکن دستور سازی میں بہت وقت لگا،9قیمتی سال اس کی نوک پلک سنوارنے میں لگ گئے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ دستور کے بغیر ملک کسی بڑے سیاسی اور سماجی خلفشار کا شکار نہیں ہوا۔البتہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان اردو کو قومی زبان قراردینے پرایک تنازعہ پیدا ہوگیاجو وقت کے ساتھ معاشی تفاوت کی آمیزش کے باعث سیاسی دوری میں تبدیل ہوگیا۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد باقی ماندہ پاکستان میں ان غلطیو ں سے بچنے کی کوشش کی جاتی جو مرکز اور صوبوں کے درمیان رنجشوں کو جنم دیتی ہیں اور نفرتوں کو پروان چڑھاتی ہیں مگر ایسا نہ ہو سکا۔ جاگیردارانہ پس منظرکے باعث جمہوری رویئے اس تیزی سے نہیں بن پائے جس کی ضرورت تھی۔ اس کے علاوہ ہمسایہ ملک کی جانب سے کئے گئے 1974میں ایٹمی دھماکے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے وزیر اعظم ذ والفقار علی بھٹوکے جوشیلے خطاب اور اس سمت میں کئے گئے بعض اقدامات سے امریکہ باخبر ہوتے ہی پاکستان کے حوالے سے چوکنا ہوگیا،اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ ملکی ترجیحات بھی تبدیل ہو گئیں۔آج ایک بار پھر عالمی منظر تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے،مستقبل کی تعمیر اس امر کی متقاضی ہے کہ ماضی کو درست تناظر میں دیکھا اور پرکھا جائے اس کے ساتھ عالمی سطح پررونما ہونے والی تبدیلیوں سے اپنی آنکھیں بند نہ رکھی جائیں۔کسی کو شک نہیں ہونا چاہیئے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اپوزیشن اور حکومت دونوں کا مشترکہ اثاثہ ہے، دونوں کو مل کر اس کی ترقی اور استحکام کے لئے کام کرنا ہے۔لیکن دیکھا جائے تو ایک جانب حکومت مخاصمانہ رویہ اختیار کئے ہے اور دوسری طرف اپوزیشن داخلی مسائل کا شکار ہے، ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گزر رہی ہے۔اپوزیشن قبل از وقت انتخاباتکے آسرے میں نہ رہے۔ 2023میں انتخابات یقینی ہیں۔ اپوزیشن دن رات، اٹھتے بیٹھتے پی ٹی آئی کی حکومت کونااہل، نالائق اور ناتجربہ کار کہتیہے مگر اس نے اپنے اقتدار کے3سال با آسانی مکمل کر لئے، چوتھے سال کی پہلی سہ ماہی بھی گزار لی۔ابھی تک اپنی نالائقی، ناتجربہ کاری اور نااہلی کے بوجھ سے نہیں گری۔ اس کے برعکس اپوزیشن ماضی کے مقابلے میں زیادہ پریشانی کا شکار ہے۔نون لیگ کے ایک اہم رہنما نون لیگ کے تاحیات قائد اور ان کی صاحبزادی کے ترجمان اور سابق گورنر کی ویڈیوزمیڈیا کی مرکزی خبر بن گئی ہے۔سابق گوترنر نے اپنے ٹوئیٹ پیغام میں اسے جعلی قرار دیا ہے۔لیکن کراچی کے وکلاء نے اس مسئلے کو سنجیدگی سی دیکھ اور عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔اگر جعلی ہیں تب بھیزبانی تردید کافی نہیں عدالت میں ثابت کرنا ہوگا۔معاملہ عدالت پہنچ جائے تو جلد یا بدیر صداقت سامنے آجاتی ہے۔ ویڈیو اسکینڈل کومعمولی واقعہ نہ سمجھاجائے۔نون لیگ کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ عوام کے سامنے حقائق لائے۔ویڈیو اسکینڈل کا مرکزی کردارپارٹی کا اہم عہدیدار ہے۔مزاحمت اور مفاہمت جیسی اصطلاحات کی تمام جزئیات اور تفصیلات سے واقف ہے۔قیمتی راز ان کے سینے بھی موجود ہیں۔ویڈیوز نئی نہیں تین سال سے زائد پرانی ہیں۔سوال یہ ہے کہ اس اتنی تاخیر سے انہیں منظر عام پر کیوں لایا گیا؟اور تاخیر کے اسباب کیا ہیں؟اصل بینی فشری کون ہے؟اس امر میں کسی شک کی ذرہ برابر گنجائش نہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔اپنی گردن بچانے کے لئے تمام اخلاقی اقدار عبور کر لی جاتی ہیں۔ ویڈیوز بنانے والوں کی شناخت دیر تک چھپی نہیں رہے گی۔اس لئے کہ ویڈیوزمیں دکھائی جانے والے بعض متأثرہ نسوانی کردار اپنی شناخت کے ساتھ سامنے آ چکے ہیں۔نون لیگی رہنما اورقیادت کے پاس صرف ایک راستہ ہے کہ وہ اپنی بیگناہی ثابت کریں یا ملزم سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ملزم سیاست میں رہتا ہے یا کنارہ کش ہو جائے یہ ثانوی ایشو ہے۔اس گھناؤنے ویڈیو پر آنے کے بعد لیگی خواتین کا سیاست میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔رات دو تین بجے”ممبر شپ مہم“ چلانے کی ویڈیوز بھی میڈیا کی زینت بن چکی ہیں۔ سابق گورنر کی ویڈیوز مختلف مقامات پر بنائی گئی ہیں۔خیال رہے کہ یہ سب کچھ کسی انتہائی شاطر ذہن کاکام ہے جو اس فن میں مہار ت رکھتا ہے۔مگر اسے یہ یاد نہیں رہا کہ آج ٹیکنالوجی اس مقام پر پہنچ چکی ہیجہاں مجرم کے لئے چھپنے کی گنجائش نہیں۔تمام ذمہ داران بہت جلد اپنی شناخت اور مقاصد کے ساتھ بے نقاب ہو جائیں گے۔مگرجو کچھ ہوا شرمناک اور افسوسناک ہے۔میل کردار کو اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کی منصوبہ بندی سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیئے تھا کہ وہ کتنی بڑی حماقت کر رہا ہے؟ سیاست میں ایسی حماقت آشکار ہوجائے تو کچھ نہیں بچتا۔اسے یادہونا چاہیئے تھاکہ جنرل (معزول/ریٹائرڈ) یحییٰ خان جسٹس حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ میں درج ایسی ہی حرکتوں کے باعث رسوائی سمیٹ کر دنیا سے رخصت ہواتھا۔ کسی خاتون کو ملازمت دلانے کے بہانے یہ جرم اور بھی زیادہ ناقابل معافی ہے۔ایسے مجرم کو اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتے ہوئے ایسے مکروہ فعل کا مرتکب ہونے کے جرم میں عام مجرم سے دوگنی سزا دی جائے۔فیمیلزکو بھی نوکری جیسی حقیر قیمت پر اپنی عزت کا سودا نہیں کرنا چایے تھا،عقل سے انہوں نے بھی کام نہیں لیا، ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہی کہہ سکتے ہیں:۔۔۔۔۔۔۔۔”کاش یہ ویڈیوز جعلی نکلیں!!!“


