بلیدہ واقعے میں جاں بحق بچے کے لواحقین کے مطالبے سامنے آ گئے
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کے ضلع کیچ بلیدہ میں دو اکتوبر کو پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بلیدہ میں خلیل رند کے گھر پر چھاپہ مارا، لواحقین کے مطابق پولیس اور سی ٹی ڈی کی جانب سے گھر میں صبح 5بجے حملہ کیا گیا تھا، جس وقت پولیس نے گھر میں گھس کر حملہ کیا اس وقت گھر کے سب لوگ سو رہے تھے، لواحقین کے مطابق پولیس نے گھر والوں کو نشانہ بنایا جس سے کمسن رامز شہید اور رایان زخمی ہو گئے لواحقین کے مطابق پولیس نے گھر میں بم بھی پھینکا جبکہ دوسری جانب پولیس اور صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے موقف اختیار کی کہ پولیس نے یاسر ظفر کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے بلیدہ میں چھاپہ مارا تھا اور دو طرفہ فائرنگ کی وجہ سے بچہ شہید ہوا۔ واقعے کے بعد لواحقین نے بچے کی میت کو دفن کرنے کے بجائے میت لیکر تربت میں دھرنا شروع کر دیا جو دو دن کے بعد مارچ کی شکل اختیار کر گیا۔ لواحقین نے گزشتہ دنوں تربت سے مارچ شروع کیا تھا جو آج کوئٹہ پہنچ گئی جہاں لواحقین نے میت کو لیکر گورنر ہاؤس کے سامنے بیٹھ گئے۔ لواحقین نے اپنے مطالبات پیش کیے جو درج ذیل ہیں۔
۱؛ خلیل رند کے خلاف جھوٹا ایف آئی آر ختم کرکے انہیں باعزت طور پر لواحقین کے پاس پہنچایا جائے اور انکے اغوار کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
2؛ خلیل رند کے گھر پر حملہ کرنے والے پولیس اہلکاروں، آپریشن کے انچارج اور انکے افیسران کو معطل کرکے انکے خلاف رامز خلیل کے قتل، رایان خلیل کو زخمی کرنے، گھر کی چادر و چاردیواری کی پامالی، خواتین و بچوں پر تشدد، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار، گھر والو کو دہشت کا نشانہ بنانے، عزت نفس کو مجروح کرنے، انسانی حقوق کی پامالی، آئین کی پامالی اور خلیل رند کی اغواء کاری کی ایف آئی آر درج کی جائے۔
3؛ عدالت عالیہ کے ججز کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دی جائے جس میں بلوچستان بار، انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندگان، سیاسی جماعتوں کے نمائندے، سیول سوسائٹی کے نمائندے، صحافی اور دیگر زمہ دار سماجی حلقوں کے رہنماء شریک ہوں اور وہ اس حملے کی غیر جانبدار تحقیقات کریں۔ حملہ آواروں کے عزائم اور پس پردہ کرداروں کو بے نقاب کرکے ایسی دہشتگردی کیلئے ریاستی مشینری کو استعمال کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں۔
4؛ خلیل رند اور اسکے خاندان پر اس سے پہلے بھی قاتلانہ حلے ہو چکے ہیں جس میں انکا بھائی حاصل رند 31اکتوبر 2016کو شہید کیئے گئے ہیں اور اب بھی مزید حملوں کے خدشات موجود ہیں، اس لیے حکومت بلوچستان سابقہ حملوں کے مقدمات پر پیش رفت کرکے آئندہ خلیل رند اور اسکے خاندان کی سیکورٹی کا باقاعدہ تسلی بخش انتطام کرے۔


