میرا مقدمہ جنرل فیض حمید نے بنوایا، چلوایا اور سزائیں دلوائیں،مریم نواز
اسلام آباد :میرے اورمیاں صاحب کےکیسزمیں اوپرسے آرڈر تھےاس لیےقانونی تقاضےپورےنہیں ہوئےپاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ میرے خلاف مقدمہ جنرل فیض حمید نے بنوایا، چلوایا اور سزائیں دلوائیں۔
بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے بتایا کہ مجھ پر جو کیس بنایا گیا اور جس کے نتیجے میں مجھے سزا ہوئی اور والد کے ساتھ اڈیالہ جیل میں قید رہی،اس سزا سے متعلق کچھ حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج شوکت عزیز نے دل دہلا دینے والے انکشافات کیے اور سپریم کورٹ میں اپنا بیان حلفی دستخط کیساتھ جمع کروایا۔ مریم نواز نے بتایا کہ اس وقت کے آئی ایس آئی چیف جج شوکت عزیز صدیقی کے پاس تشریف لائے اوران سے کہا کہ آپ نے مریم نواز اور نواز شریف کو ضمانت نہیں دینی کیوں کہ اگر آپ نے سزا نہ دی تو میری 2 سال کی محنت ضائع ہوجائے گی۔
مریم نواز نے کہا کہ میرے کیس کو جنرل فیض حمید نے بنایا اور پھر اس کو جج بشیر کی عدالت کے ذریعے چلوایا گیا۔یہ بھی کہا گیا کہ کوئی ایسا بنچ نہ بنے جس کے ذریعے نواز شریف اور مریم نواز الیکشن سے قبل باہر نہ آسکیں۔
اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا جبکہ قانون کہتا ہے کہ اگر کوئی ریفرنس آئے تو چیرمین نیب ٹیم کیساتھ جائزہ لیتا ہے لیکن میرے اور میاں صاحب کے کیسز میں اوپر سے آرڈر تھے اس لیے قانونی تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
چئیرمین نیب کے عہدے کی مدت میں توسیع سے متعلق مریم نواز کا کہنا تھا کہ ایسی متنازع شخصیت کو کوئی اورعہدہ دینا قوم کے منہ پر طمانچہ ہوگا۔ میں امید کرتی ہوں کہ عدالت سے انصاف ملے گا اور انصاف ہوتا نظر آئے گا۔مریم نواز نے کہا کہ پارٹی ورکرز پر مقدمے بنائے جاتے ہیں،رہنماؤں کو الیکشن لڑنے سے روکا جاتا ہے اوراگر کوئی بات نہ مانے تو اس کوگرفتار کرلیا جاتا ہے۔
لیگی رہنما نے کہا کہ واضح کردینا چاہتی ہوں کہ پاکستان کی فوج اور ایجنسیاں قابل عزت ہیں۔ فرد واحد کا کوئی ادارہ نہیں ہوتا اور فرد واحد ادارے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتا ہے تو مطلب اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔افواج پاکستان ملک کی،ہماری ،آپ کی اور عوام کی طاقت ہیں اور یہ میری ذات کا مقدمہ نہیں بلکہ عدلیہ کا مقدمہ ہے۔ یہ جنگ عدلیہ اور میڈیا کی بحالی کے لیے ہے۔ جس ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی وہاں ایسا ہی ہوتا ہے جو آج پاکستان کا حال ہے۔
پنڈورا لیکس پر انھوں نے سوال کیا کہ پنڈورا پیپرز سمیت بڑے اسیکنڈلز پر جے آئی ٹی کہاں ہے۔ آج قوم اس درخواست گزار کوڈھونڈ رہی ہے جو پانامہ پر درخواست لے کر سپریم کورٹ گئےتھے۔واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کی جانب سے ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے خلاف دائر درخواست پر 2 اعتراض عائد کیے گئے ہیں۔
مریم نواز کی درخواست پر اعتراض اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے عائد کئے۔ اپنے اعتراض میں رجسٹرار آفس کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے اس درخواست میں وہی استدعا کی جو مرکزی اپیل میں کی۔ مریم نواز اپیل میں فریش گراؤنڈز کورٹ کی اجازت سے ہی لے سکتیں ہیں۔
رجسٹرار ہائی کورٹ کی جانب سے مریم نواز کی متفرق درخواست پر اعتراضات سے متعلق وکلا کو آگاہ کردیا گیا۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا خصوصی بینچ سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ بروز منگل 5 اکتوبر ن لیگی رہنما مریم نواز کی جانب سے وکیل ایڈووکیٹ عرفان قادر نے ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی تھی۔ درخواست میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کو بھی حصہ بنایا گیا۔
مریم نواز کی جانب سے درخواست میں عدالت سے شوکت عزیز صدیقی کے انکشافات کی روشنی میں بریت کی استدعا کی گئی۔ درخواست کے متن کے مطابق شوکت عزیر صدیقی کی تقریر نے ساری کارروائی مشکوک بنادی ہے۔ ٹرائل کی ساری کارروائی، ریفرنس فائل کرنے کے احکامات بھی دباؤ کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ نیب کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ شفاف طور پر کارروائی کرے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ احتساب عدالت نے 6 جولائی 2017 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی تھی جو پاکستان کی تاریخ میں سیاسی انجینیرنگ اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی پرانی مثال ہے۔ درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بار سے خطاب کا بھی حوالہ دیا گیا۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ جج نے اپنی تقریر میں کہا کہ چیف جسٹس سے رابطہ کیا گیا کہ ہم نے الیکشن تک نواز شریف اور اس کی بیٹی کو باہر نہیں آنے دینا۔ جج کے مطابق چیف جسٹس نے عہدیداروں کو کہا کہ جس بینچ سے آپ مطمئن ہیں وہ بینچ بنا دیتے ہیں۔ جسٹس شوکت صدیقی کے بیان سے عدالتی فیصلے کے غیر جانبدارانہ ہونے پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے، جج ارشد ملک کی بھی ویڈیو وائرل ہوئی کہ ان پر نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بے حد دباؤ تھا۔
درخواست میں استدعا کرتے ہوئے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ عدالت قانون کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، تمام الزامات سے بری اور سزا کالعدم قرار دے۔درخواست میں مریم نواز شریف نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں تفتیش کو سپروائز کیا۔ سپریم کورٹ نے پراسیکیوشن کی بھی اس کیس میں مانیٹرنگ کی۔ سپریم کورٹ نے ایک طرح سے اس کیس میں پورا عمل ہی کنٹرول کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا کسی کیس میں نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ کا آئین میں کردار نہ تفتیش کار کا ہے نہ ہی پراسیکیوٹر کا۔ احتساب عدالت کے جج کے نوٹس میں یہ حقائق کیوں نہ آئے وجہ انہیں ہی معلوم ہوگی۔ شریف فیملی کیخلاف مقدمات پر اثرانداز ہونے کا ثبوت ارشد ملک کی ویڈیو بھی ہے۔
دائر درخواست کے مطابق اثاثوں کے الزام میں تین الگ ریفرنس دائر کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی تھی۔ قانون کی نظر میں ساری کارروائی مشکوک ہو چکی۔ جب کہ درخواست کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعلقہ مواد درخواست سے منسلک، مزید حقائق سامنے آنے پر بھی پیش کئے جائیں گے۔


