اچھے دنوں کی امید

ایک وفاقی وزیر نے عوام کو مہنگائی سے نجات کا ایک فارمولا بتایا ہے کہ روٹی کے جتنے نوالے کھانے کے وہ عادی ہیں ان میں سے چند نوالے کم کھائیں، چینی کی مقدار تھوڑی کم کر دیں۔یہ مشورہ دیتے وقت موصوف یہ بھول گئے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور وہ خودوفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔ انہیں چاہیئے تھا کہ اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں کابینہ میں کے سامنے کوئی ایسی تجویز پیش کرتے جس کی مدد سے گندم اور گنے کی پیداوار میں اضافہ ہو جاتایا گندم اور آٹے کی بیرون ملک اسمگلنگ کا سلسلہ روکا جا سکتا۔ہماری زمین میں گندم پیداکرنے کی صلاحیت کم نہیں ہوئی،خرابی کہیں اور ہے۔ اس خرابی کو دور کیا جانا ضروری ہے۔حکومت اپنی کارکردگی بہتر کرے تو حالات سدھر سکتے ہیں۔اسی کابینہ کے وزیر داخلہ ماضی میں یہ کہتے رہے ہیں کہ غریب آدمی چائے اس لئے پیتا ہے کہ اس کی مدد سے اپنے جسم کا شوگر لیول درست رکھ سکے۔گندم کی روٹی غریب آدمی کی غذا کا مرکزی جزو ہے۔ چٹنی روٹی کھا کر گذاراہ کر لیتا ہے، قناعت پسند اور جفاکش ہے۔مشکل ترین حالات کے باوجود ابھی تک سڑکوں پر احتجاج کے لئے نہیں آیا۔چند سرکاری ملازمین اور ینگ ڈاکٹرز البتہ گلے میں روٹیاں ڈال کر دھرنادیتے ہیں کہ حکومت اپنی معاشی حکمت عملی درست کرے تاکہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔ مہنگائی نے عام آدمی سے پیٹ بھر روٹی چھین لی ہے۔وفاقی وزیر عوام کو روٹی کے نوالے کم کرنے کا مشورہ دے کر اپنی کم علمی اور مہنگائی کے مکینزم سے بے خبری کااظہار کیا ہے۔اس قسم کے مشورے جب وزراء کی زبانوں پر آجائیں تو یہ اپنی نااہلی کا اعتراف ہوتا ہے۔بالخصوص اپنی حکومت کی آئینی مدت(پانچ سال) کے آخری دو سالوں میں، اس مشورے کے دوسرے معنے نہیں ہوسکتے۔اگر ان کی کارکردگی درست ہوتی تو آج عوام کو بتا رہے ہوتے کہ حکومت نے بھینسوں کے کٹوں کو مرنے سے بچا کر اورسرکاری حکمت عملی کے تحت پال پوس کر ملک میں گوشت کی کمی دور کردی ہے۔سرکاری طور پر فراہم کردہ ایک مرغا اور چار مرغیا ں دیہی گھرانوں میں پلتی بڑھتی دکھاتے۔ان کے اعداوشمار پیش کرتے۔واٹس ایپ کی مدد سے ایسے مناظر وائرل کرتے جو مرغو ں مرغیوں اور کٹوں کے معاشی اور معاشرتی کردار کابیّن ثبوت ہوتے۔جس غریب خاتون کو سرکاری بھینس دی گئی تھیساور میڈیا پر بھینس کے ساتھ تصویر دکھائی گئی تھی، اس خاتون کی غربت میں کمی اور خوشحالی میں بھینس کا کردار عوام کے سامنے لایا جاتا۔وزراء اگر اپنے اقتدار کے آخری مہینوں میں ایسی بچگانہ تجاویز دیں گے تو عام آدمی کی زبان سے”انا للہ و انا الیہ راجعون“کے سوا اور کچھ نہیں سنیں گے۔اس قسم کے احمقانہ مشوروں سے وزراء اپنی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان ایسے بیان کا نوٹس لیں۔اس میں شک نہیں کہ مشکل وقت میں عوام ہر قسم کی قربانی دیتے ہیں اور پاکستانی عوام نے ہمیشہ ثابت کیا ہے اس حوالے سے کسی دوسری قوم سے پیچھے نہیں۔خامی حکومتی پالیسی یا غیر مناسب منصوبہ بندی میں دیکھی جائے۔خامیاں دورکی جائیں۔انسانی اور قدرتی وسائل بروئے کار لائے جائیں۔بعض شعبوں بہتری سے انکار نہیں کیاجا سکتا، لیکن عالمی بینک کی رپورٹ کو جھٹلانا بھی آسان نہیں۔ڈالر 154سے گر کر171روپے کی سطح تک جا پہنچا،ڈالر کا پڑوسی ملک کی طرف بہاؤ غیر متوقع نہیں تھا، اس کی روک تھام کے لئے بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔اسٹیٹ بینک نے اپناکردار ادا نہیں کیا۔خمیازہ ملک اور عوام کو بھگتنا پڑا۔وزیرخزانہ اپنی حکمت عملی سے مطمئن ہیں، مگر انہیں یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ ابھی تک اس حکمت عملی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچے۔ماضی میں پیلی ٹیکسی نامی اسکیم نافذ کی گئی تھی، ملک بھر میں پیلی ٹیکسی سڑکوں پر نظر آئی۔ایسے نتائج موجودہ حکومت کے دور میں دیکھنے کو نہیں ملے۔ لاکھوں گھر وں کی تعمیر کا منصوبہ تاحال فائلوں میں بند ہے۔زمین پر ابھرتا نظر نہیں آیا۔سندھ کے جزائر کا معاملہ تاحال تصفیہ طلب ہے۔لیکن لاہور میں راوی دریا کنارے نیا شہر بھی افتتاحی تقاریب کے انعقاد اور وزیر اعظم کے خاب سے آگے نہیں بڑھا۔تقریروں سے حاضرین سے تالیاں بجوائی جا سکتی ہیں لیکن ان تالیوں کی مدد سے معیشت میں کوئی بہتری نہیں آ سکتی۔اگر ایسا ممکن ہوتا تو یہ کام ماضی کی حکومتوں زیادہ کیا ہے۔پاکستان معاشی مسائل سے نکل چکا ہوتا۔پیہم عمل اور دکھائی دینے والی مسلسل پیشرفت کے بغیر ترقی کیسے ہو سکتی ہے؟وزیر اعظم کو چاہیئے کہ گوگل پر ان منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیتے رہیں بلکہ کابینہ کے اجلاس میں متعلقہ محکمے کے وزراء سے پیشرفت کا تقاضہ بھی کیا جائے۔مہنگائی روز اول کی طرح ہفتہ وار بلندی کی جانب پرواز کر رہی ہے۔نیچے آنے کی تاحال کوئی صورت نظر نہیں آتی۔حکومت کی جانب سے دی جانے والی چند غذائی اشیاء پر ٹارگٹیڈ سبسڈی اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مہنگائی بے قابو ہے، حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں بے بس ہے ورنہ سبسڈی کی ضرورت نہ ہوتی،22کروڑ عوام براہِ راست مستفید ہوتے۔حکومت کا فرض ہے مہنگائی ختم کرے یا روزگار کے مواقع اور تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کرے۔ تاکہ لوگوں کی قوت خرید بڑھے اور وہ پیٹ بھر کر روٹی کھا سکیں۔ سکون سے زندگی بسر کریں۔اس موقع پر یہ بھی یاد رکھا جائے کہ پاکستان زرعی شعبے میں صف اول میں نہیں آیا تو یہ ساری خرابی موجودہ حکومت کے تین
برسوں میں پیدا نہیں ہوئی، 2018سے پہلے اقتدار میں رہنے والوں کی ناقص کارکردگی، بے سمت منصوبہ بندی اور مجرمانہ غفلت سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔زراعت کی نشو نما میں پانی پہلی ضرورت ہے، پچاس سال ڈیم تعمیر نہیں کئے گئے۔اس کا نتیجہ پانی سے بجلی کی پیداوار کے خاتمہ کی شکل میں نکلا،ملک اندھیروں ڈوب گیاتو آئی پی پیز سے معاہدے کئے گئے،وہ معاہدے بھی سوہانِ روح بنے ہوئے ہیں۔مہنگی بجلی صنعتوں کو تباہ کر دیتی ہے۔زراعت اور صنعت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔پاکستان کو مشکلات کی دلدل میں دھکیلنے کے تمام اسباب دور کرنے ہوں گے۔موجودہ حکومت کو ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کا کفارہ بھی ادا کرنا ہے۔صرف موجودہ حکومت یہ کام نہیں کرسکتی،آئندہ حکومتوں کو بھی یہ بوجھ ورثے میں ملے گا۔حقائق سے آنکھیں بند رکھنا سود مند نہیں،خرابیوں کا خاتمہ کئے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔راستہ پرخار ہے، لیکن طے کرنا ہے۔امید کا دامن نہیں چھوڑنا، دنیا امید پر قائم ہے۔ اچھے دمن یقینا آئیں گے، مایوسی کفر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں