امریکہ نے جنگ کرکے کیا پایا؟
رواں ہفتے امریکی پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا ہے جس میں حکومت کی قرضہ لینے کی حد میں مختصر مدت کے لئے توسیع کردی ہے۔اس بل کی م،نظوری کی ضرورت اس لئے پڑی کہ امریکہ کی مالی حالت آج اس سطح تک خراب ہو چکی ہے کہ پرانی مقرر کردہ حد میں لئے جانے والے قرضوں سے حکومتی اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ اگر اسے ماضی کی مقرر کردہ حد سے زیادہ قرضہ لینے کی اجازت نہ دی گئی تو امور مملکت انجام دینا اس کے لئے ممکن نہیں ہو سکے گا۔واضح رہے کہ ماضی والی حد بھی آئی ایم ایف کی تجویز کردہ جی ڈی پی اور قرض کا تناسب 60فیصد سے کم رہنی چاہیئے جبکہ جون2020 میں قرض کی سطح جی ڈی پی کا 97فیصد ہوچکی تھی۔2021میں اس سطح کو مزید بلند کرنے کی اجازت کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ امریکی معیشت کو شدید مشکلات کاسامنا ہے۔افغانستان سے انخلاء بھی اسی مالی دباؤ کا نتیجہ تھا۔اس سے ثابت ہوتا ہے امریکہ نے افغانستان میں 20سال تک جنگ کرکر پایا کچھ بھی نہیں لیکن کھویا بہت کچھ ہے۔امریکی معاشی صورت حال میں پیدا ہونے والے اس بگاڑ میں پاکستان کے سیاست دانوں کے لئے یہ سبق موجود ہے کہ حکومت کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیئے کہ اس کے ملکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔آج پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ موجودہ حکومت کو رثے میں ملے ہیں۔مثال کے طور پر اقتدار سنبھالتے ہی اسے بھاری قرضوں کی ادائیگی کرنا تھی۔سب جانتے ہیں یہ قرضے ماضی کی حکومتوں نے لئے تھے۔اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ قرض لینے کے ساتھ اپنے ملکی ذرائع آمدنی بڑھانے میں غفلت برتی جائے، اور قرض کے واپسی کے بارے میں کوئی منصوبہ بندی نہ کی جائے تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ملک آئی ایم ایف کی غلامی میں چلا جائے۔بجٹ بنانے دسے پہلے آئی ایم ایف سے ڈکٹیشن لی جائے اور پھر ہر تین ماہ بعد پاکستان کا وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے افسران کے سامنے غلاموں کی طرح سر جھکا کر وضاحتیں پیش کریں کہ ہم نے فلاں شرط اس لئے پوری نہیں کی کہ ہم نے اپنے ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے متبادل طریقہ زیادہ مناسب سمجھا۔آئی ایم کا بنیادی مطالبہ ہے کہ بجلی اور پیٹرول کے نرخوں میں عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے مطابق کمی بیشی کی جائے کوئی سبسڈی نہ دی جائے۔آئی ایم ایف کی انتظامیہ کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ پاکستان کی معیشت کا کیا حشر ہوگا۔آئی پی پیز (بجلی پیدا کرنے والے غیر ملکی اداروں /کمپنیوں) سے جتنے معاہدے کئے گئے ماضی کی حکومتوں نے کئے۔ان معاہدوں کے نفاذ کی مدت 15سال رکھی گئی۔ایسے معاہدوں پر دستخط کرتے وقت یہ نہیں سوچا گیا کہ دستخط کرنے والے حکمرانوں کے اقتدار کی آئینی مدت 5سال ہے۔باقی 10سال ان شرائط پر آنے والی حکومتوں کو پورا کرنا ہوگا۔خرچ کی جانے والی بجلی کی قیمت ادا کرنا سمجھ میں آسکتا ہے مگر جو بجلی ابھی پیدا ہی نہیں کی گئی اس کی ادائیگی کے لئے کرائے پر لی جانے والی ٹیکسی کی مثال والی منطق سمجھنا مشکل ہے۔ بجلی کمپنیوں سے مشینری کرائے پر نہیں لی جاتی، فی یونٹ بجلی کا نرخ طے کیا جاتا ہے۔اس میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ بھی معاہدے میں درج ہوتا ہے۔کئے گئے معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد پلانٹ پاکستان میں رہے گا۔ کمپنی اٹھا کر نہیں لے جائے گی۔ جبکہ رینٹ اے کار میں ملکیت منتقل نہیں ہوتی نہ ہی اس کا دارومدار فی کلو میٹر کی بنیاد پر ہوتا ہے۔بعض ماہرین معیشت آج کل ٹی وی تاک شوز میں رینٹ اے کار والی مثال دیتے ہیں انہیں یہ بھی یاد نہیں پاکستان میں بجلی گھر رینٹ پر بھی لیا جا چکا ہے۔اس معاہدے کی وجہ سے معاہدہ کرنے والے پاکستانی عوام وزیر اعظم کو رینٹل راجہ کہتے ہیں۔امریکی معیشت کی بدحالی سے دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ عوام کی غذائی پوری کئے بغیر غیر ملکوں سے درآمد ایک مجبوری بن جاتی ہے۔یہ یاد دلانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ پاکستان کی شناخت روز اول سے ایک زرعی ملک ہونا ہے۔ انگریز، ڈچ،اور فرانسیسی بر صغیر میں اپنی صنعتی مصنوعات بیچنے اور یہاں سے زرعی اجناس خریدنے آئے تھے۔یعنی برصغیر صدیوں پہلے بھی زرعی شناخت رکھتا تھا۔ ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے 50سال تک ڈیم تعمیر نہیں کیاجب ملک میں ڈیم تعمیر نہ کئے جائیں تو ملک میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوجاتی ہے۔جبکہ زراعت کے لئے پانی بنیادی ضرورت ہے۔ سب جانتے پاکستان میں سارا سال بارشیں نہیں ہوتیں۔بلکہ گرمیوں اور سردیوں میں دو دو مہینے بارش ہوتی ہے باقی ساراسال دھوپ نکلتی ہے۔ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے یہ قدرتی پانی سیلاب کی شکل میں تباہی مچاتا ہوا سمندر میں گر جاتا ہے۔شہروں میں عمارتوں اور سڑکوں کی بہتات کا منفی نتیجہ یہ نکلا کی بارشوں کا پانی زمین میں جذب ہونا بتدریج کم ہو گیا۔کنووں میں پانی سطح نیچے گرتی چلی گئی۔زرعی فصلیں اگانے،گھروں اور کارخانوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ٹیوب ویل چلائے گئے، جو بجلی کے بغیر نہیں چلتے۔ اور سستی بجلی صرف ڈیم دے سکتے ہیں۔کوئی مانے یانہ مانے حقیقت یہی ہے کہ50سال جن لوگوں نے پاکستان پر حکومت کی اور ڈیم نہیں بنائے،وہی اس کمر توڑ مہنگائی کے ذمہ دار ہیں۔ موجودہ حکمت نے اصل خرابی دور کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی۔سات چھوٹے ڈیم تعمیر ہو چکے ہیں۔تین بڑے ڈیم زیر تعمیر ہیں۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ڈیم راتوں رات تعمیر نہیں ہوتے۔آٹھ سال لگ جاتے ہیں۔جیسے جیسے ڈیم مکمل ہوں گے بجلی اور پانی کی کمی دور کرنے میں اپناکردار ادا کرنا شروع کر دیں گے۔ ان پچاس برسوں میں زراعت کے شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔یہ رویہ درست نہیں تھا۔زمینی حقائق سے آنکھیں بند رکھنے والی اقوام اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتیں، دوسروں کی غلام بن جاتی ہیں۔پاکستان،بھارت،بنگلہ دیش،
آسام اور چین طویل عرصہ سامراج کی غلامی میں رہے، انہیں دوسرے ملکوں کی نسبت زیادہ سمجھداری سے کام لینا ہوگا۔امریکی سامراج نے گزشتہ76برسوں میں دنیا کے پسماندہ اورکمزور ملکوں کو اسلحے کے زور پر اپنا محکوم بنائے رکھا، اس دوران ان ملکوں کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار میں مصروف رہا۔مگر افغانستان میں 20سالہ جنگ نے اس کی معاشی کمر پر کاری ضرب لگائی۔آج اس کی پارلیمنٹ قرض لینے کی حکومتی استعداد بڑھانے کے بل منظور کرنے پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔پاکستانی حکمرانوں کے لئے اس میں عبرت کا سامان ہے۔اپنے عوام کو پیروں پر کھڑا کرکے آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات حاصل کرنی ہے یا آنکھیں بند کرکے ماضی کی پالیسی پر چلنا ہے؟دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ عوامی مفاد میں بہتر منصوبہ کی جائے تاکہ آئی ایم ایف سے نجات مل سکے۔


