حرکت دکھائی کیوں نہیں دیتی؟

عوام دن رات سنتے ہیں کہ معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے،ایسے اشاریئے بھی گراف کی شکل میں میڈیا ٹاک شوز میں دکھائے جاتے ہیں جو مذکورہ دعوے کی تائید کرتے ہیں مگر عوام حیران ہیں کہ درست سمت میں ہونے والی ”حرکت“ دکھائی کیوں نہیں دیتی؟زمینی حقائق جامد و ساکت کیوں ہیں؟بلکہ ڈالر کی تیزاڑان ان دعووں کو مزید دھندلا رہی ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے کرائی جانے والی یقین دہانیاں بھی بے یقینی میں ڈھل رہی ہیں۔ایف ای ٹی ایف کا دباؤ بھی بے اثر ہے۔منی لانڈرنگ تھمنے کانام نہیں لیتی۔لندن کا راستہ بند نہیں ہوتا اور اسی دوران افغانستان کی کھڑکی کھل جاتی ہے۔ چلو مان لیا عالمی ضرورتیں اس جرم کو ختم نہیں ہونے دیتیں۔مگر داخلی محاذ پر انتظامی فیصلے کیوں رکے ہوئے ہیں؟فضا میں افواہوں کی بھرمار ہے۔ہر چینل اپنی قیاس آرائیوں کو ”اندر کی بات“ کہہ کر عوام کو مزید کنفیوز کرنے میں مصروف ہے۔ذومعنی الفاظ کا تڑکا لگا کر افواہوں کوپر کشش بنانے کا ہنر اپنا رنگ جما رہا ہے۔شیریں لہجہ اورمتوازن گفتگو بتدریج متروک ہوتی جا رہی ہے۔ سیاست دائروں میں سفر کر رہی ہے۔مختصروقفوں کے بعد وہیں پہنچ جاتی ہے جہاں سے سفر کا آغاز کیا تھا۔جو کل تک رہبر ی کر رہے تھے آج ان پر رہزنی کے الزامات ہیں۔سادہ لوح عوام پریشان ہیں، کمر توڑ مہنگائی نے ان کی نیندیں اڑا دی ہیں۔مایوسی کا یہ عالم ہے کہ مائیں بچوں کو اپنے ہاتھ سے زہر پلاکر یا نہروں میں ڈبا کر موت کی نیند سلاتی نظر آتی ہیں۔ ریاست اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ جہالت عروج پر اساتذہ کی اسامی کے لئے درخواست دینے والے فیل ہورہے ہیں، نالائقی کا خاتمہ کرنے کی بجائے پاس ہونے کے نمبر کم کرنے پر مجبور ہے۔ آدھے اراکین پارلیمنٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے ان کی ڈگریاں جعلی ہیں۔یہ شرمناک انکشاف متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں کے سربراہ خود ہی کر رہے ہیں۔ جب قانون سازادارے میں بیٹھے اراکین کی تعلیمی اور اخلاقی حالت اتنی پست ہوجائے تو ملک کی حالت کیسے سدھر سکتی ہے؟اصلاح درکار ہے مگر پریشانی یہ ہے کہ شروع کہاں سے ہو؟ماسوائے ایک آدھ ادارے کے آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔مل مالک سے پرچون فروش تک، اورزمیندار سے ٹھیلے والوں تک سب کی ”نفسیات“ ایک ہوجائے،مردہ مرغیاں بیچنا کاروبار کہلائے،دودھ کے نام پر بچوں کو زہریلا کیمیکل پلایا جائے تو انسانی حقوق معاشرے کی غلاظت میں بدشکل ہوکر ناقابل شناخت ہوجاتے ہیں۔کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان آج اسی منحوس مقام پر کھڑا ہے۔ ماضی میں اس قسم کے معاشرتی بگاڑ پر قدرت عذاب نازل کرتی تھی۔اب کرونا جیسی ہلکی پھلکی وباء سے کام چلایا جاتا ہے جو کرپشن کا خاتمہ کرنے کی بجائے کروناوائرس کے ویکسین کی بلیک کو تحریک دیتی ہے۔عوام آسمان سے آگ برسائے جانے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔مگر پٹاخوں کے گوداموں آگ لگتی ہے۔ دعائیں بے اثر ہو چکی ہیں۔سوچا جائے یہ صورت حال کیوں دیکھنے کو ملی؟شرمناک ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سیانے یہی کہتے سنائی دیتے ہیں:پاکستانی معاشرے کوکیا قدرت اس سے بڑی سزا دینا چاہتی ہے؟۔۔”ریاست مدینہ“ کا نعرہ بھی ہر گزرتے دن مافیاز کے لئے رحمت بنتا جا رہا ہے۔مہنگائی کے خلاف نکلنے والے احتجاجی جلوسوں کی قیادت مافیاز نے سنبھال رکھی ہے۔عوام گھروں بیٹھے ’لاحول‘ کا ورد کر رہے ہیں۔اس صورت حال کا اچھا پہلو یہ ہے کہ سب ایک دوسرے کی فطرت سے واقف ہو چکے ہیں،ممکنہ حد تک دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن یہ سب کچھ انتہاۂی سست روی سے ہو رہا ہے اس لئے عام آدمی کو حرکت محسوس نہیں ہوتی جبکہ عام آدمی تالاب کی پرسکون سطح کی بجائے سمندرکی تلاطم خیز لہریں دیکھنے کا متمنی ہے۔ بعض دانا اپنے علم اور تجربات کی روشنی میں معاشرے کی خاموشی کو کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی سمجھتے ہیں۔اس لئے باہمی مشاورت اور اجتماعی فہم سے کام لینے کی تلقین کی جاتی ہے۔سماجی علوم پر تحقیق کرنے والوں نے خاندان کو معاشرے کی اکائی کہا ہے۔ شاید وہ اس مثال کی مدد سے یہ سمجھانا چاہتے ہوں کہ جس طرح عمارت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس کی اینٹیں مضبوط ہوں،اینٹوں کی مناسب دیکھ بھال کی جائے۔اس کے برعکس اگر اینٹوں کی اہمیت نظر انداز کر دی جائے اور انہیں موسم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو جاتا ہے، اینٹیں اپنی جگہ سے کھسک جاتی ہیں اس عمل کانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عمارت اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔اسی طرح جو معاشرہ خاندان اور فرد کو نظر انداز کر دے،دھیرے دھیرے کمزور ہو جاتا ہے، معدوم ہو جاتا ہے۔ اکائی کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔جس عمل کے اثرات اکائی تک نہ پہنچیں سمجھ لینا چاہیئے کہ کہیں نہ کہیں خرابی پیدا ہوگئی ہے اور اس نے جونک کی طرح معاشرے کا خون چوسنا شروع کر دیا ہے۔اس جونک سے جسم کو فوراً نجات دلائی جائے ورنہ جسم کمزور ہوجائے گا۔معاشرتی عمارت گر جائے گی۔کوئی فرد تنہا زندہ نہیں رہ سکتا، دوسروں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ کسان اناج اگاتا ہے، لیکن کپڑا نہیں بنتا، ہل دوسرے بناتے ہیں۔لوہے کے اوزار تیسرا فراہم کرتا ہے۔سب ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔سب کو یکساں عزت ملنی چاہیئے۔معاشرتی اونچ نیچ کا تصور بعد میں ارتکازِ دولت کے نتیجے میں پیدا ہوا۔جب دولت چند ہاتھوں تک سمٹ جائے تو وہ خود کو دوسروں سے برتر ہونے کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں۔فرعون بن جاتے ہیں۔دوسروں کو محکومبناکر استحصال کرتے ہیں۔ لیکن انسان فطرتاً آزاد منش ہے، غلامی میں اسے گھٹن محسوس ہوتی ہے۔وہ ظالم سے مطالبہ کرتا ہے:”میری گردن پر سے اپنا گھٹنا ہٹاؤ، مجھے سانس لینے میں تکلیف ہورہی ہے“۔ایک فرد کی طرف سے کیا جانے والا مطالبہ معاشرتی نعرہ بن جاتا ہے۔چار سو پھیل جاتا ہے۔گھٹنا ہٹانے کا مطالبہ کرنے والا مر کر امر ہوجاتا۔سانس روک کر قتل کرنے والا زندہ ہونے کے باوجود گمنامی کی موت مرتا ہے۔دانشمندی کا تقاضہ ہے کسی کی گردن پر گھٹنا نہ رکھا جائے۔سانس لینے میں رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔قدرت کی ہوا پر سب کا مساوی حق ہے۔چھینا جائے تو معاشرہ تلپٹ ہوجاتا ہے۔سمجھدار کے لئے اس میں بہت کچھ ہے۔گلہ نہ دبایا جائے، مطالبہ مان لیا جائے۔ ”گھٹنا ہٹاؤ“ کا نعرہ بہت طاقتور ہوتا ہے۔اس کی گونج فضا میں دیر تک قائم رہتی ہے، دور تک سنی جاتی ہے۔عدم اعتماد کی گونج کو کمزور نہ سمجھا جائے، اس کے دوررس نتائج ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں